اتوار 30 اگست 2026 - 15:11
علامہ ڈاکٹر یعقوب بشوی کی حوزہ نیوز سے گفتگو: مسلمان میثاقِ مدینہ کے تحت امت واحدہ بن سکتے ہیں

حوزہ/حجت الاسلام ڈاکٹر بشوی نے ہفتۂ وحدت اور ولادتِ صادقین (ع) کی مناسبت سے عالم اسلام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف کی صورت میں ذاتی پسند، تعصب یا گروہی مفاد کے بجائے قرآن کو رہنما اور معیار قرار دیں۔ آج مسلمان میثاقِ مدینہ کے تحت امت واحدہ بن سکتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی: جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی نے ہفتۂ وحدت اور ولادتِ صادقین علیہما السّلام کے موقع پر، روزمرہ زندگی میں رسول خدا کے بتائے ہوئے "محورِ وحدت“ کے اصولوں کو کیسے اپنا سکتے ہیں، کے عنوان پر حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ خدا (ص) کے بتائے ہوئے محورِ وحدت کے اصولوں کو اس طرح روزمرہ زندگی میں اپنا سکتے ہیں کہ ہم اختلافات کے باوجود بھی کچھ مشترکات کو اپنے عمل کا حصہ بنائیں، تاکہ ہم سب ایک دوسرے سے فاصلے کے باوجود قریب ہوں۔

حجت الاسلام ڈاکٹر بشوی نے اس سوال ”ہم اپنی روزمرہ زندگی میں رسولِ خدا کے بتائے ہوئے ”محورِ وحدت“ کے اصولوں کو کیسے اپنا سکتے ہیں؟“ کے جواب میں کہا کہ رسولِ خدا کے بتائے ہوئے محورِ وحدت کے اصولوں کو اس طرح روزمرہ زندگی میں اپنا سکتے ہیں کہ ہم اختلافات کے باوجود بھی کچھ مشترکات کو اپنے عمل کا حصہ بنائیں، تاکہ ہم سب ایک دوسرے سے فاصلے کے باوجود قریب ہوں۔

انہوں نے وحدت کے اصولوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک اصول توحید محوری ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:"قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ."(آل عمران،64)

ڈاکٹر بشوی نے مزید کہا کہ مسلمان ایک مشترک اصول کی بنیاد پر ہی اعتماد سازی کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں؛ یہ بات مسلم ہے کہ ایک مشترک اصول انسانی سماج کو بچا سکتا ہے، اسی اصول پر پیغمبرِ اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدنی زندگی میں عمل ہوتا رہا اور ایک پُرامن بقائے باہمی کے تحت مختلف عقائد، رجحانات اور نظریات کے لوگوں کو ایک قانون کے پابند بنایا اور ہر نوع نزاع اور ناامنی کا سد باب کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے حتیٰ بت پرستوں تک کو اس منشور کا حصہ بنا دیا اور یہ میثاقِ مدینہ کے نام سے مشہور ہوا جس میں ہر ایک کی اجتماعی و سماجی حیثیت و حقوق کا خیال رکھا گیا۔ آج اسی میثاقِ مدینہ کے تحت عمل کرکے ہم تمام تر فاصلوں کے باوجود امت واحدہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا اصول قرآنِ کریم کا عملی نفاذ ہے۔ قرآن انسان کو خلیفۃ اللہ کے حقیقی معیار تک لے جانے اور اس کو عالم ملک و ملکوت کی بادشاہت دلانے کے لیے اترا ہے۔ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر تھی۔ انک لعلی خلق عظیم خود اس حقیقت پر گواہ ہے جب حاکم عادل اور قانون کا پابند ہو تو رعایا بھی قانون مدار بن جائیں گے، لہٰذا قرآن مجید کے دستورات کو زندگی میں اتارنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم اپنی روزمرہ زندگی بہتر بنا سکیں۔

جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر نے قرآن کو مشترک معیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف کی صورت میں ذاتی پسند، تعصب یا گروہی مفاد کے بجائے قرآنِ کریم کو رہنما اور معیار قرار دیں۔ آج تمام تر مصیبتیں قرآن سے دوری اور اس کو مردوں کے ساتھ جوڑنے کی وجہ سے ہیں۔ یہ زندگی کی کتاب تھی؛ ہم نے کیا حال کردیا؟ جب ہم نے قرآن کو اہل بیت سے جدا کیا تو گمراہی کا آغاز ہوا۔ حدیث ثقلین کے مطابق، قرآن و اہل بیت علیہم السّلام قیامت تک ساتھ ساتھ چلیں گے۔ ان سے جدائی اعتقادی، اخلاقی اور اجتماعی موت ہے۔

انہوں نے کہا کہ محور وحدت کا تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ ہم مقصد بعثت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو زندہ کریں اور اس کو صرف تاریخ سمجھنے کے بجائے زندگی گزارنے اور کرنے کا الہیٰ فارمولا سمجھیں۔

پاکستان کے معروف عالم دین اور خطیب نے کہا کہ سوشل میڈیا کا درست استعمال ہمیں ایک امت بنانے میں معاون بن سکتا ہے۔ قرآن، سیرتِ پیغمبر اور اہل بیت کی تعلیمات کو عام کرنے سے معاشرہ اعتدال کی طرف بڑھے گا اور اسلام نظر سے عمل میں اترے گا۔

انہوں نے اس سوال ”رسولِ خدا نے دشمنوں کے ساتھ جو حسنِ سلوک کیا، وہ آج کے دور میں معاشرتی اتحاد کے لیے کیوں ضروری ہے؟“ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید نے ذات محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی مرکز وحدت قرار دیا: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا. (نساء، آیت 65) ہر کام میں پیغمبر کی رہنمائی ضروری ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیں گے اسے لینا ہے اور جس جس چیز سے وہ روکیں گے اسے رکنا ہوگا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا. (حشر، آیت7) اسی طرح فردی اور اجتماعی زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ذات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہی فیض لینا ہے، کیونکہ آنحضرت کی پوری زندگی بشر کے لیے نمونہ عمل اور مشعلِ راہ ہے: لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ. (احزاب، آیت 21)

انہی قرآنی خصوصیات پر آنحضرت کی زندگی کے اصول استوار تھے اور آنحضرت نے مدینہ فاضلہ کو وجود میں لایا اور میثاقِ مدینہ جیسے جامع اجتماعی دستور کو وجود میں لایا؛ تاکہ ہر انسان پُرامن زندگی کرنے کا حق حاصل کرے۔ ہر ایک کو معاشرے میں عزت کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ میثاقِ مدینہ انہی بنیادی حقوق و فرائض کے مطابق وجود میں لایا گیا اور آج کے دور میں ہم میثاقِ مدینہ کو زندہ کر کے ایک سیاسی دہشتگردی، مذہبی دہشتگردی، اخلاقی دہشتگردی اور معاشرتی و معاشی دہشتگردی سے سماج کو بچا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بشوی نے عالم اسلام کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم حکمران عوام کو ٹیشو پیپر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ قانون کے رکھوالے ہی قانون کی دھجیاں اڑانے میں لگے ہوئے ہیں۔ آج حالت یہ ہے کہ 3 سالہ بچی تک کی عزت محفوظ نہیں ہے؛ حالانکہ میثاقِ مدینہ کے تحت ہر شخص کی جان، مال اور ناموس مسلم ہوں یا غیر مسلم، محفوظ ہیں اور ان کی حفاظت حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے۔ معاشرہ انصاف چاہتا ہے اور یہ چیز معاشرے میں رہنے والے ہر شخص کو ملنا چاہیے؛ جیسا ایک مسلمان کو معاشرے میں زندگی کرنے کا حق ہے ویسے ہی کسی غیر مسلم کو بھی وہی حق حاصل ہے۔ اگر ہم انصاف کے اس معیار تک پہنچ گئے تو معاشرے میں وحدت ایجاد ہوگی اور ہم ایک امت بن سکیں گے۔

ورنہ بقولِ علامہ اقبال کے:

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

انہوں نے مزید کہا کہ نظام تعلیم کی اصلاح بھی معاشرتی اتحاد کے لیے نہایت ضروری ہے۔ آج مغربی مسلط شدہ فرسودہ نظام تعلیم ہمیں نوکر تو بنا رہا ہے؛ لیکن قوم کی تقدیر ہرگز نہیں بدل رہا۔

ڈاکٹر بشوی نے اس سوال، ”مسلمان ہونے کے ناطے، ہمیں دوسروں کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے اپنی وحدت کو کیسے برقرار رکھنا چاہیے؟ رسولِ خدا کی سیرت کا وہ کون سا اہم پہلو ہے جو 'اتفاق و اتحاد' کی بنیاد ہے؟ کے جواب میں کہا کہ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ دین اسلام تمام تر اعتقادی اختلافات کے باوجود "جیو اور جینے دو"، جیسے اصول دیتا ہے اور معاشرے میں عدالت کا قیام چاہتا ہے جیسا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی آمد کا بنیادی مقصد بھی معاشرے کی تربیت اور اس کو قیام عدل کے لیے اٹھانا تھا: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ. (حدید، آیت 25) قرآن مجید تفرقہ سے روکتا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اختلاف تو رہے گا، لیکن اس اختلاف کو اتنی ہوا نہ دو کہ وحدت کا شیرازہ ہی بکھیر جائے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا. (آل عمران: آیت103)

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت محمد صلی الله علیہ والہ وسلم کی سیرت کا سب سے اہم پہلو جو وحدت کی بنیاد بن سکتا ہے اور بچا سکتا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاقِ حسنہ ہے: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ. (قلم، آیت 4) جب اخلاق حسنہ ہو تو باقی نیک اعمال اسی حقیقت سے نکلتے ہیں حضرت عائشہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں آیا ہے: کان خلقہ قرآن. یہ قول معروف ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ایک انسان، ایک قوم یا قبیلہ، یا علاقے یا نسل کے لیے نہیں آئے تھے، بلکہ آپ قیامت تک آنے والی نسلوں اور تمام کائنات کے لیے رحمت ہیں: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ. (انبیاء، آیت 107)

آخر میں انہوں نے کہا کہ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں وحدت کی بنیاد، ایمان، اخلاق حسنہ اور رحمت عالمگیر اور عدالت کو قرار دے سکتے ہیں۔ اگر مسلمان ان صفات حمیدہ سے متمسک ہو جائیں تو ایک رول ماڈل معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha