اتوار 30 اگست 2026 - 12:52
مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ ـ حیات و خدمات

حوزہ/ مبلغِ دینِ حق، مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ نے اپنی پوری زندگی ترویجِ دین، تعلیمِ قرآن، ذکرِ اہلِ بیتؑ اور عزائے سیدالشہداءؑ کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ ایک عالمِ دین، خطیب، مدرسِ قرآن اور بے باک مذہبی شخصیت کی حیثیت سے انہوں نے کئی دہائیوں تک سرسی سادات اور دیگر علاقوں میں دینی و ملی خدمات انجام دیں اور اپنے علم، اخلاص اور عشقِ اہلِ بیتؑ کی روشن یادگار چھوڑ گئے۔

تحریر: سید قمر عباس قنبر نقوی سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی | شہید سید علی عرب نقوی نیشاپوری کے شجرۂ نسب کی ایک روشن اور علمی کڑی قاضی سید عبدالرزاق ابنِ سید زین العابدین ابنِ سید محمد، المعروف بہ شاہ چاند، مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے عہدِ حکومت میں اپنی علمی صلاحیت، فہم و فراست اور عدالتی بصیرت کے پیشِ نظر قاضی (جج) مقرر ہوئے تھے۔ اسی مناسبت سے اُن کا خانوادہ اور آئندہ کی نسلیں اپنے نام کے ساتھ قاضی لکھتی رہی ہیں۔ اسی علمی و سادات خانوادے کی ایک نمایاں شخصیت مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ترویجِ دین، ذکرِ اہلِ بیتؑ اور عزائے سیدالشہداءؑ میں بسر کی۔

آپ کی ولادت اترپردیش کے ضلع مرادآباد (موجودہ ضلع سنبھل) کے قصبۂ سرسی سادات میں ایک معزز، زمیندار، دیندار اور عزائے سیدالشہداء حضرت امام حسینؑ سے گہری عقیدت رکھنے والے خانوادے میں 2 محرم 1363 ہجری کو ہوئی۔ یہ تاریخ اسلامی تاریخ میں اپنے اندر ایک خاص معنوی نسبت رکھتی ہے۔ اسی تاریخ کو حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ اپنے اہلِ حرم اور اصحاب کے ہمراہ 2 محرم 61 ہجری کو اسلام کی بقا، حق کی سربلندی اور باطل کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے سرزمینِ کربلا میں وارد ہوئے۔ یوں یہ تاریخ عزم و استقامت، حق پرستی اور راہِ خدا میں قربانی کی ایک عظیم علامت بن گئی۔

مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ ـ حیات و خدمات

یہ بھی کیا خوب صورت اتفاق تھا کہ اسی تاریخ کو سرسی کی ایک معزز شخصیت قاضی سید ناظم حسین نقوی مرحوم کے گھر، ایک ایسے فرزند نے آنکھ کھولی جس کا نام حسین رضا رکھا گیا۔ یہ محض اتفاق تھا یا منشاے پروردگار کا مظہر کہ نام میں بھی حسینؑ کی نسبت تھی اور آنے والے نومولود کی پوری زندگی بھی حسینیت کے پیغام سے وابستہ رہی۔ یہ حقیقت ہے کہ مولانا مرحوم اپنے نام کے سچے ترجمان اور اسم با مسمیٰ ثابت ہوئے۔ جب بھی عظمتِ اہلِ بیتؑ، عزائے حسینؑ اور حق و باطل کے معرکے کا ذکر آیا، مولانا مرحوم نے اپنی بساط کے مطابق حق کا ساتھ دینے میں کبھی پس و پیش نہیں کیا۔ زمانۂ تعلیم، لکھنؤ کے واقعات ہر خاص و عام کی زبان پر ورد ہیں۔ دورانِ ملازمت بھی تبلیغِ دین سے وابستہ رہے، نہ حق بات کہنے میں مصلحت کو آڑے آنے دیا اور نہ باطل کی حمایت کو گوارا کیا۔ عظمتِ اہلِ بیتؑ اور عشقِ حسینؑ گویا اُن کی رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھا۔

علمی سفر کا آغاز

مولانا مرحوم نے ابتدائی اسکولی تعلیم اپنے وطن سرسی میں حاصل کی۔ کم عمری ہی میں حصولِ علمِ دین کے لیے بابائے فلسفہ و بحرِ معقولات، مولانا سید ایوب حسین نقوی سرسویؒ، کے ہمراہ لکھنؤ کی عظیم علمی درسگاہ جامعہ ناظمیہ چلے گئے۔ یہیں سے اُن کی باقاعدہ علمی زندگی کا آغاز ہوا۔ جامعہ ناظمیہ میں آپ نے مولانا ظل ابرارؒ، مولانا سید اجلالؒ، مولانا سید ایوب حسین نقوی سرسویؒ اور مولانا سید شاکر حسین نقویؒ امروہوی جیسے اہلِ علم سے کسبِ فیض کیا۔

علمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے یہاں سے 1965 میں سلطان المدارس، جامعہ سلطانیہ، لکھنؤ چلے گئے، جہاں مولانا سید محمدؒ، مولانا سید محمد صالحؒ، مولانا سید علی رضویؒ، مولانا سید مہدی زیدپوریؒ، مولانا سید کلب عابد نقویؒ اور مولانا سید الطاف حیدرؒ جیسے بزرگ و ممتاز اساتذہ سے استفادہ کیا۔ سند الافاضل کے بعد صدرالافاضل شروع ہوا اور اسی دوران، جبکہ حصولِ علم کا مقدس سفر جاری تھا، تکمیل الطب کالج، لکھنؤ سے ڈپلومہ اِن یونانی فارمیسی کا کورس کیا اور عربی فارسی بورڈ، الٰہ آباد سے عالم، فاضل اور کامل کی اسناد حاصل کیں۔ 1975 میں صدرالافاضل کی سند حاصل کی ۔

ملازمت اور تبلیغِ دین

تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد 1975 میں ہی حکومتِ اترپردیش کے محکمۂ یونانی میں آپ کی تقرری ہوگئی۔ ملازمت کی پہلی تعیناتی کانپور میں ہوئی۔ سرکاری فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ آپ نے وہاں نمازِ جماعت اور تبلیغِ دینِ اسلام کی ذمہ داریاں بھی پورے ذوق و شوق سے انجام دیں۔ بعد ازاں آپ کا تبادلہ اورنگ آباد، ضلع بلند شہر ہوگیا۔ یہاں بھی آپ نے منصبی فرائض و مصروفیات کے ساتھ نمازِ جماعت اور دینی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔

1980ء میں آپ کا تبادلہ مرادآباد ہوگیا۔ چنانچہ اب آپ نے اپنے وطن سرسی میں ہی سکونت اختیار کرلی۔ اس کے بعد تقریباً پینتیس برس تک سرسی میں نمازِ پنجگانہ کے ساتھ نمازِ جمعہ و عیدین کے ذریعے خدمتِ دین و ملت اور اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ اسی عرصے میں ایک مقامی تنازع اور اپنے بے باک و نڈر مزاج کے باعث اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے، تاہم دینی خدمات کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔

شیعہ جامع مسجد کے علاوہ مسجد کعبہ ثانی اور دیگر مساجد میں بھی آپ نے طویل عرصے تک دینی خدمات انجام دیں۔

قرآن، اہلِ بیتؑ اور عزائے حسینؑ سے وابستگی

مولانا مرحوم نے ذکرِ اہلِ بیتؑ، مصائبِ حضرت سیدالشہداءؑ و اسیرانِ کربلا اور درسِ قرآن کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا تھا۔ اُن کے دل میں تبلیغِ دین کا جذبہ ایک تحریک کی مانند بھرا ہوا تھا۔ امام بارگاہ حضرت ابوالفضل العباسؑ میں بچوں کو درسِ قرآن دینے کا سلسلہ زندگی کے آخری ایام تک جاری رکھا۔ یوں اُن کی شخصیت میں ایک طرف مدرسِ قرآن نظر آتا ہے تو دوسری جانب مبلغِ دین اور خطیبِ منبر عزائے حسینؑ کا پیکر دکھائی دیتا ہے۔

مرحوم پورے اخلاص اور عقیدت سے ہر سال 8 محرم کو افضل الشہداء حضرت ابوالفضل العباسؑ کی وسیع پیمانے پر حاضری کرتے۔ راقم السطور نے اپنے بچپن میں مولانا مرحوم کے والد کی رہائش گاہ میں مردانہ عشرے مجالس میں بھی شرکت کی ہے۔ اب غالباً وہاں خواتین کا عشرہ منعقد ہوتا ہے ۔

وطنِ عزیز سرسی کا شاید ہی کوئی ایسا عزا خانہ یا منبر ہو جہاں سے مولانا مرحوم نے ذکرِ حضرت سیدالشہداءؑ نہ کیا ہو۔ سرسی کے علاوہ امام باڑہ وقف زین العباء بیگ، مرادآباد، قصبہ شکارپور، سری گنگا نگر، راجستھان اور دیگر مقامات پر بھی متعدد عشرہ ہائے مجالس سے خطاب کیا۔

مولانا منفرد اور دلچسپ اندازِ میں خطابت فرماتے اُن کی خطابت میں ایک عجیب دل آویزی تھی۔ اُن کے یہاں اساتذہ کی شفقت، والدین کا پیار، بزرگوں کی مخلصانہ ڈانٹ اور دردِ دل سب ایک ساتھ جھلکتا تھا۔ اُن کا مقصد محض مجلس کو خطاب کرنا نہیں تھا، بلکہ دین کا پیغام سامعین کے دل تک پہنچانا اور اُنہیں اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے جوڑنا تھا۔

مرحوم صرف خطیب ہی نہیں تھے، بلکہ ایک اچھے اور ذمہ دار سامع بھی تھے۔ وہ وقت کی مناسبت سے اکثر مجالس میں شرکت کرتے۔ راقم السطور کو یہ شرف حاصل ہے کہ جہاں مولانا مرحوم کی مجالس سے استفادہ کیا، وہیں اپنی مجالس سنا کر اُن سے داد و تحسین حاصل کرنے کی سعادت بھی پائی۔ بالخصوص 21 رمضان المبارک، شہادتِ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ؛ 28 صفر المظفر، شہادتِ کریمِ اہلِ بیت حضرت امام حسنؑ؛ اور 28 رجب المرجب، سفرِ حضرت امام حسینؑ کی مناسبت سے امام بارگاہ حضرت ابوالفضل العباسؑ میں منعقد ہونے والی مجالس، جن میں خطابت کا شرف احقر کو نصیب ہوتا ہے، مولانا مرحوم باقاعدگی سے اِن مجالس میں تشریف لاتے اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔

واضح رہے کہ 21 رمضان المبارک اور 28 صفر کو راقم السطور کے گھر سے سرسی کے سب سے قدیم ترین تابوت برآمد ہوتے ہیں، جبکہ 28 رجب کو فرزندانِ مرحوم سید قمر عباس مولائی کے زیرِ اہتمام جلوسِ نوچندی برآمد ہوتا ہے۔

ہم درس اور ہم عصر طلابِ دینیہ

مولانا سید محمد اصغر زیدی پھنڈیرویؒ، ممتاز استادِ سلطان المدارس، جامعہ سلطانیہ، لکھنؤ؛ مولانا ابنِ حسن املوی واعظؒ، بانی حسن اسلامک ریسرچ سینٹر، املو، مبارکپور؛ مولانا محمد داؤد املویؒ، امامِ جماعت و خطیب، احمدآباد؛ مولانا سید محمد مہدی عابدیؒ، نوگانواں سادات؛ اور مولانا سید اسد رضا حسینیؒ، بانی و مدیر حوزۂ علمیہ امام حسینؑ، مظفرنگر، کے نام خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

مولانا نے اپنی پوری زندگی ترجیحی بنیادوں پر دین و مذہب اور قرآن فہمی، یعنی قرآن پڑھنے اور پڑھانے میں بسر کی۔ وہ اسلام، خصوصاً شیعیت، کے خلاف صف بستہ جماعتوں کا جواب حکمتِ عملی کے ساتھ بڑے دلیرانہ انداز میں دیتے تھے۔ اُن کی طبیعت میں اولادِ رسولِ اکرمؐ اور وطن دوستی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، جس کا مظاہرہ اُن کی زندگی میں جابجا نظر آتا ہے۔

مولانا اپنی زندگی میں لگی لپٹی رکھنے کے قائل نہ تھے۔ زیادہ مروت و رعایت اُن کے مزاج کے خلاف تھی۔ وہ مذہب اور عقیدے پر ہونے والے حملوں کا بے باکی سے دفاع کرتے۔ مولانا مجلس پڑھنے کو ایک بڑی عبادت سمجھتے تھے۔ وہ تند مزاج تھے، مگر تند مزاجی کو کبھی ذاکری میں آڑے نہ آنے دیا۔ وہ خود بانیانِ مجالس سے اپنی تاریخ معلوم کرلیتے تھے۔

اِن تمام حقائق کے باوجود مولانا طبیعتاً غیور و حساس انسان تھے۔ قوم و ملت کے انتہائی ہمدرد و محب تھے۔ وہ علم دوست اور علماء کے قدردان تھے۔ راقم السطور کے والدِ بزرگوار، مولانا سید نظائر حسین نقوی سرسویؒ، طاب ثراہ، جب بھی علی گڑھ سے سرسی تشریف لاتے تو مولانا ضرور اُن سے ملاقات فرماتے۔ دونوں بزرگوں کے درمیان دیر تک علمی، قومی اور سماجی موضوعات پر گفتگو ہوتی۔ یہ ملاقاتیں محض دو اہلِ علم کی باہمی نشستیں نہ تھیں، بلکہ علم، تجربے، اخلاص اور قومی فکر کے تبادلے کا ایک خوب صورت منظر ہوتی تھیں۔

وفات

یومِ اربعینِ حسینی، 20 صفر 1448ھ کو میرٹھ کے ایک نجی اسپتال میں سرسی کے جلوسِ چہلم کی آن لائن زیارت کرنے کے بعد، بالکل اُسی طرز پر جیسے آپ کے آقا و مولا حضرت سیدالساجدینؑ، شہزادیٔ حضرت زینبؑ اور اہلِ حرمِ کبریٰ، قبرِ امام حسینؑ کی زیارت کے بعد اپنے وطن مدینہ روانہ ہوئے، اور ادھر ان کا زندگی بھر ذکر کرنے والے مولانا مرحوم تقریباً 85 برس کی عمر میں اپنے حقیقی وطن، جوارِ معصومینؑ، کی طرف روانہ ہوگئے۔

اِنّا للّٰہ و اِنّا اِلَیہِ راجِعون۔

جیسے ہی یہ غم ناک خبر سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہوئی، مولانا مرحوم کی رہائش گاہ پر سوگواروں اور تعزیت پیش کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملک و بیرونِ ملک سے تعزیت اور اظہارِ افسوس کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔ مرحوم عالمِ دین کی نمازِ جنازہ امامِ جمعہ، سرسی نے ادا کرائی۔ تدفین امام بارگاہ کلاں، سرسی سادات کے صدر دروازے پر مقامِ سبیل میں عمل میں آئی۔

اسی امام بارگاہ کے احاطے میں مولانا سید نظائر حسین نقویؒ، مولانا سید سخی احمد نقویؒ، مولانا سید شباب حیدر نقویؒ، مولانا سید حسین الزماں نقویؒ اور دیگر اہم شخصیات کی قبور بھی موجود ہیں، جبکہ اسی احاطے میں مزارِ دادا مخدوم صاحب کے بالکل نزدیک مولانا عارف علی نقویؒ بھی مدفون ہیں۔

مولانا مرحوم کے جنازے میں کثیر تعداد میں علماء، خطباء، شعراء، ادباء، مدبرین، مرثیہ خواں، مدح خواں، صاحبانِ بیاض اور عقیدت مندوں نے نم دیدہ آنکھوں کے ساتھ شرکت کی۔ تدفین کے موقع پر اہلِ علم و دانش اور عوام کی غیر معمولی شرکت اس امر کی گواہی دے رہی تھی کہ مولانا مرحوم کی طویل زندگی محض اپنی ذات تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ سماج، معاشرے، دین اور ملت کی خدمت سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔

مولانا مرحوم کے پسماندگان میں اُن کے علمی وارث مولانا سید محمد ناظم نقوی، بی ایس سی، صدرالافاضل، کے علاوہ بیوہ اور تین بیٹیاں، پوتا، پوتیاں، نواسے اور نواسیاں شامل ہیں۔

بارگاہِ خداوندی میں دعا ہے کہ مولانا مرحوم کی دینی، ملی، علمی اور عوامی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ اُن کے درجات بلند فرمائے، علماء و شہداء اور صالحین کے ساتھ محشور فرمائے، اور پسماندگان و احباب کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ ـ حیات و خدمات

یہ چند ادھوری اور بے ربط سطریں دراصل وطنِ عزیز کی اِس عظیم علمی و دینی شخصیت، مولانا قاضی سید حسین رضا نقویؒ، طاب ثراہ، کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اُن کی چند دینی، علمی، ملی اور سماجی خدمات کو آئندہ نسلوں کے لیے ایک امانت کے طور پر محفوظ کرنے کی بساط بھر کوشش ہیں۔ مجھے احساس ہے کہ اپنی کم علمی اور محدود معلومات کے باعث میں مولانا مرحوم کی خدمات کا ایک بڑا حصہ ضبطِ تحریر میں نہیں لاسکا۔ اس کوتاہی کے لیے مولانا کے وارثین اور احباب سے معذرت خواہ ہوں۔ البتہ اطمینان ہے کہ ماشاء اللہ مولانا مرحوم کی اولاد اور احباب میں میدانِ قلم کے ایسے مجاہدین کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جو اُن کی زندگی، علمی خدمات اور دینی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کو زیادہ جامع اور مستند انداز میں آئندہ نسلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

اِن شاء اللہ تعالیٰ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha