۴ تیر ۱۴۰۰ | Jun 25, 2021
معروف شاعر اہلبیت (ع) رضا سرسوی انتقال کرگئے

حوزہ/ علماء اور دانشواران خصوصا مراجع عظام اور رہبر معظم سے بے پناہ عشق و محبت رکھنے والے رضاؔ سرسوی کا ماننا تھا بچھڑے معاشرے اور تاریک ماحول کو صرف نعروں کی گونج سے نہیں بدلا جاسکتا، تبدیلی اور اصلاح کے لیے میدان عمل میں آنا لازمی ہے۔

تحریر: مولانا سید قمر عباس قنبر نقوی سرسوی۔ نئی دہلی

حوزہ نیوز ایجنسیکائنات کی افضل ترین ماں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی پاک نسل سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ شاعر الحاج سید نوشے رضا نقوی ، رضاؔ سرسوی ابن قاضی سید رئیسِ الحسن نقوی ادبی دنیا اور حسینی معاشرے میں ایک ایسے مخلص شاعر  کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں جنکا ہدف اور نصب العین اصلاح قوم، نوجوانوں میں دینی شعور اور احساس ذمدارای پیدا کرنا ہے ۔  انھیں یہ درس اور جذبہ کسی جامعہ یا یونیورسٹی سے نہں بلکہ فرشِ عزائے حسینؑ سے نصیب ہوا ہے ۔ علماء اور دانشواران خصوصا مراجع عظام اور رہبر معظم سے بے پناہ عشق و محبت رکھنے والے رضاؔ سرسوی کا ماننا تھا بچھڑے معاشرے اور تاریک ماحول کو صرف نعروں کی گونج سے نہیں بدلا جاسکتا، تبدیلی اور اصلاح کے لیے میدان عمل میں آنا لازمی ہے جبکہ عمل بغیر علم اور مضبوط قیادت کے کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔  چنانچے عمل اور اہمیتِ قیادت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ؃
دونوں تھے بے مثل دُنیا میں خُمینی اور خُوئی۔
اِک نیامِ صبر تھا، اِک عزم کی شمشیر تھا۔
عُمر بھر کرتے رہے دونوں یزیدوں سے جہاد۔
ایک سیرت میں حسنؑ تھا، دوسرا شبیرؑ تھا۔

شہدائے انقلاب اور رہبر معظم کے حوالے سے فرماتے ہیں۔
جس میں ہے پاکیزہ ماؤں کے کلیجوں کا لہُو۔
خامنہ ای کے حوالے ہے وہ باغِ اِنقلاب۔
آؤ سب مِل کر امامِ عصرعج سے وعدہ کریں
ہم کبھی بجھنے نہیں دیں گے چراغِ انقلاب ۔

دنیائے انسانیت و حسینیت میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے والے رضاؔ سرسوی کو عزدارئ حضرت سیدالشہداؑ سے بے پناہ عشق تھا امام حسینؑ کا نام سنتے ہی با آواز بلند گریہ کرتے ایام عزا میں پورے اہتمام سے اپنے گھر میں عشرہ مجالس کا انعقاد کرتے۔ احقر کو بھی ان مجالس میں خطابت کا  شرف نصیب ہوا ۔ الحاج رضاؔ سرسوی عزادارئ حضرت امام حسینؑ کی اہمیت وقت افادیت واضع کرتے ہوئے عزاداروں کو اتحاد کا پیغام دیتے ہوئے  فرماتے ہیں۔
متحد رکھے ہے کُل قوم کو تسبیح عزا۔
ڈور ٹوٹے گی تو دانے بھی بکھر جائیں گے۔
مچھلیاں زندہ کہا رہتیں ہیں پانی کے بغیر۔
ہم غمِ شےِ سے جُدا ہوں گے تو مر جائیں گے۔

عزائے حسینؑ کے عشق میں ڈوب کر فرماتے ہیں۔
فرشِ عزا پہ آتے ہی ایسا لگا رضاؔ۔
جیسے ہر اک فکر کی حد سے نکل گئے۔
اے مجلسِِ حسینؑ شریفوں کی آبرو۔
لاکھوں غریب تیرے تبرک پہ پل گئے۔

مزید فرماتے ہیں ۔ 
ہزاروں لوگ اِسی غم میں جل رہے ہیں حسینؑ۔
بڑے بڑے ترے ٹکڑوں پے پل رہیں ہیں حسینؑ۔
تمہاری ایک ہی حرؒ پر ٹھر گئیں نظریں۔
ہزاروں روز مقدر بدل رہیں ہیں حسینؑ۔

حضراتِ محمدؐ و آلؑ محمدؑ سے عملی محبت کرنے والے عقیدہ کے مضبوط اور اپنے اصلاحی اشعار اور خوبصورت عملی کردار سے دنیا میں پہچانے جانے والے رضاؔ سرسوی انقلاب کے کامیاب مستقبل اور اپنی بہترین عاقبت کے لیے  مطمئن نظر آتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

انگلیوں سے اب قلم چُھٹ بھی گیا تو اے رضاؔ
سینکڑوں اشعار ہوں گے ترجُمانِ انقلاب

رضاؔ سرسوی  سادات کے مشہور قصبے سرسی ضلع  مرادآباد (موجودہ سنبھل) جو ابتدا سے ہی ادبی و مذہبی سرگرمیوں اور عزائے حضرت امام حسین علیہ السلام کا مرکز ہے ، میں 1943 میں پیدا ہوئے۔ رضاؔ سرسوی نے شاعری کا باقاعدہ سفر 80 کی دہائی کے آغاز میں آگرہ سے کیا جہاں وہ روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے۔ رضاؔ سرسوی کے 40 سالہ سفرِ شاعری میں اصل محور تبلیغِ دین  اور عظمتِ اہلیبتؑ کا عملی اقرار،  عزادارئ امام حسینؑ ، اصلاحِ قوم ، نوجوانوں میں بیداری ہے۔ ان کی ذندگی اور شاعری میں اصلاحِ ملّت اور قومی شعور کی بلندگی کا پاک جذبہ اسقدر حاوی ہے کہ فنِ شاعری اور لغتِ ادب کی بندیش بھی انھیں اس جذبہ سے باز نہ رکھ سکیں۔ دضاؔ سرسوی نے اگرچے ہر صنفِ شاعری یعنی  قطعات، دباعی، نعت، سلام، نوحہ، قصیدہ ، نظم، مسدس اور مرثیہ میں طبع آزمائی کی ہے ۔ ان کے نوحے ، مسدس اور نعتیں تو پوری  دنیا میں پڑھے اور سنے جاتے ہیں  لیکن رضاؔ سرسوی کو عالمی شہرت رشتوں کے حوالے کی گئی شاعری خصوصا مقبول عام نظم " ماں" سے ملی اور یہ ہی انکی پہچان بن گئی۔ رضا سرسوی نے اس شہرہ آفاق نظم  میں جہاں ماں کی عظمت و منزلت کے مختلف پہلو بیان کیے  وہیں نظم کے ہر شعر میں اسلامی ، تعلیمی ، تاریخی ، اصلاحی ، سماجی ، معاشی یا سیاسی کوئی نہ کوئی نکتہ اور پہلو پوشیدہ  رکھا ہے نظم کا مطلع ہی ہر باشعور وجود کو پوری زندگی تابع داری اور خاموش شکریہ کی طرف متوجہ کرتا ہے فرماتے ہیں۔

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں۔
تب کہیں جاکر رضاؔ تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں
اولاد کی تربیت میں ماں اہم ذمداری  کی طرف انتہائی خوبصورت اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ؃
اپنے پہلو  میں لٹا کر روز طوطے کی طرح۔
ایک بارہ پانچ  چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں ۔

پھر فرماتے ہیں۔
عمر بھر غافل نہ ہونا ماتم شبیرؑ سے
رات دن اپنے عمل سے ہم کو سمجھاتی ہے ماں

رضاؔ سرسوی نے  نظم ماں اگست 1988مطابق  (24 شعبان المظم 1408ھ) میں مولانا سید محمد  تقی حسینی صاحب قبلہ، شعبہ دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کہ دولت کدہ واقع گنگیرو سہارنپور  میں لکھی اور اُسی روز  امام بارگاہ دربارِ حسینی،گنگیرو  میں پڑھی۔ رضاؔ سرسوی نظم پڑھ رہے تھے اور سامعین پر باوجود اُس کے کہ شادی کا ماحول تھا شامِ غریباں کی کیفیت طاری ہورہی تھی  اور  ہر طرف سے مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں کے گریے کی آوازیں آرہیں تھیں۔

اس تقریب عقد میں حقیر نے بھی حاضری کی سعادت حاصل کی تھی۔ اس وقت یہ نظم  12 اشعار کے حصار میں تھی۔ اب ماشاءاللہ اسکا حجم تقریبا 500 اشعار پر مشتمل ہے اور اسکے  متعدد ایڈیشن مختلف ممالک، مختلف زبانوں اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان شائع ہو چکے ہیں ۔ اور شاید ہی کوئی شہر ایسا ہوگا جہاں اس کے دو چار نسخے موجود نہ ہو۔ رشتوں کے حوالے سے *رضاؔ سرسوی نے دفترِادب میں پانچ مقبول عام اور گراں قدر شعری مجموعوں اضافہ کیا ہے 1۔ ماں، 2۔ مادر مہربان، 3۔ وسیلہ حیات(ماں و باپ) 4۔ امانتِ ماں (عزاداری) 5۔ بیٹی ۔

رضاؔ سرسوی کو پروردگار نے پاک اور تعمیری فکر عطا کی تھی انکی خواہش تھی کہ ملّت کے نوجوان عزائے حضرت سید الشہداؑ اور دینی تعلیم  کے ساتھ زندگی ہر شعبہ میں بلند و اعلیٰ منزل پر نظر آئیں ، اس کے لیے ہمیشہ کوشاں بھی رہتے اس اعلی مقصد حصول کے لیے مرحوم نے اپنے چند رفقاء کے ساتھ ولادت کریمِ اہلیبتؑ ، سبطِ اکبر کے مبارک و مسعود موقع پر ادارہ فلاحِ ملّت قائم کیا۔ اس کے پہلے صدر محبِ اہلیبتؑ ماسٹر وزیر علی سانکھنوی بنائے گئے جبکہ نائب صدر خود رضاؔ سرسوی، جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد احمد برنی اور خازن مولانا سید محمد تقی حسینی صاحب قبلہ طے پائے۔
دنیائے حسینیت کے مقبول شاعر رضاؔ سرسوی محبتِ اہلیبتؑ اور عزاداری حضرت امام حسینؑ کو اوّلیت قرار دیتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کے حامی تھے اور وہ کسی کی دلِ شکنی کے قائل نہ تھے فرماتے ہیں۔
جو کسی کو بھی ستائے وہ مسلمان نہیں ہے ۔
حق یتیموں کا جو کھائے وہ مسلمان نہیں ہے۔

افسوس ! 6 اپریل 2021 کو 78سال کی عمر میں یہ عظیم انسان اور بہترین شاعر اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور  سرسی کے آبائی قبرستان میں سینکڑوں سوگواران  جسمیں بڑی تعداد میں علماء ، شعراء ، ادباء اور معززین ملّت شامل تھے، سپرد خاک کر دیا گیا۔ مرحوم کے پسماندگان میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا شامل ہیں ۔ رضاؔ سرسوی اس اعتبار سے بھی انتہائی بلند نصیب تھے کہ انتقال کی خبر نشر ہوتے ہی ہر طرف رنج و غم  کا بادل چھا گیا اور شاید ہی دنیا کا کوئی ایسا خطہ ہو جہاں رضاؔ سرسوی کے ایصال ثواب کے لیے تعزیتی جلسے اور مجالس نہ ہوئیں ہوں ہر طبقہ فکر کے علماء،  شعراء، ادبی تنظیموں، انجمنوں ، تعلیمی و سماجی اداروں، سفارتی مراکز  غرض زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں نے اپنے اپنے اعتبار سے سوگ، تعزیت اور ایصال ثواب کیا۔  

رضاؔ سرسوی کہ ایک معتبر دوست اور شاعرِ اہلیبتؑ اعظم عباس شکیلؔ صاحب مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

غم میں مولا کے رلانا ہے چلو جنت چلیں۔
مدح بھی تم کو سنانا ہے چلو جنت چلیں۔
عرش سے آکے فرشتوں نے رضاؔ سے یہ کہا۔
ماں کی عظمت کو بتانا ہے چلو جنت چلیں۔
رضاؔ سرسوی چلے گئے لیکن سوچئے رضاؔ سرسوی کی عبادات، خدمات اور قلمی کاوشوں میں کس قدر اخلاص تھا ۔ مرحوم کی وہ کونسی عبادتی ادا تھی جو خالق کائنات اور شخصیات سبب وجودِ کائنات کو اسقدر پسند ہے کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود ہر شخص سوگوار اور ہر مقام پر ایصال ثواب۔ 78 سالہ زندگی میں 50 سے زیادہ مرتبہ حج و زیارات نصیب ہوئی۔ دوستوں  خدمت کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے آیئے ہم سب اپنے اپنے اعتبار اور استعداد کے مطابق دین خدا اور بندگان خدا کی خدمت کی کوشش کریں اور انعامات پروردگار کے مستحق بنیں۔ 

بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ بحق حضرات آئمہ معصومین علیہم السلام  مرحوم کی دینی اور علمی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازتے ہوئے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائیں ۔ آپ تمام قارئین سے التماس ہے ایک سورہ فاتحہ سورہ سے نوازیں۔

انسانی کے رشتوں کا شاعر رضاؔ سرسوی کی شاعری اور خدمات
مولانا سید قمر عباس قنبر نقوی سرسوی

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 12 =