تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کے کچھ نام صرف نام نہیں رہتے؛ وہ اپنے ساتھ ایک پورا عہد، ایک پورا مزاج، ایک پوری سیاست اور ظلم و بربریت کی ایک پوری داستان اٹھائے پھرتے ہیں؛ یزید بھی ایسا ہی نام ہے۔یزید کو سمجھنا ہو تو صرف کربلا کے میدان میں کھڑے اس شخص کو نہ دیکھیے؛ تاریخ کی چند دہائیاں پیچھے جائیے، اس گھر کی دہلیز تک پہنچئے جہاں اس نے آنکھ کھولی، ان سازشی مکار کرداروں کو دیکھیے جن کی چھاؤں میں اس کی شخصیت بنی، اس سیاست کو دیکھیے جس میں اقتدار کے لیے اصول قربان ہوتے گئے، اور اس خونی میراث کو دیکھیے جو ابو سفیان سے ہندہ، ہندہ سے معاویہ، معاویہ سے یزید اور یزید سے کربلا تک پہنچتی ہوئی اپنی بھیانک صورت میں سامنے آئی۔ یہاں بحث محض نسب کی نہیں بلکہ اس پست فکری، مکارسیاسی اور ہوس بھرے اقتداری ماحول کی ہے جس میں مکر، جبر، ظلم ، بربریت،انتقام کی آگ اور سلطنت کی حفاظت کو اخلاق و اصول پر ترجیح ملتی چلی گئی۔
یزید کا دادا ابو سفیان مکہ کے ان خونخوار سرداروں میں تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کے خلاف قریش کی سیاسی،سماجی اور عسکری مزاحمت کی قیادت کی؛ بدر، احد اور احزاب اسی کشمکش کے بڑے ابواب ہیں، اور فتح مکہ تک یہ خاندان اسلام کے مقابل بدترین دشمن بن کے کھڑا رہا۔ پھر یزید کی دادی ہند بنت عتبہ کا کردار سامنے آتا ہے؛
جنگ احد کی خونیں روایات میں اس کا نام حضرت حمزہ علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے جسدِ مبارک کے ساتھ وحشیانہ سلوک کے حوالے سے سامنے آیا، یہاں تک کہ ابن ہشام ابن اسحاق سے نقل کرتے ہیں: «وَبَقَرَتْ عَنْ كَبِدِ حَمْزَةَ، فَلَاكَتْهَا، فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تُسِيغَهَا، فَلَفَظَتْهَا»، یعنی: “اس نے حمزہ کے جگر کو چاک کیا، اسے چبایا، مگر نگل نہ سکی تو اسے باہر پھینک دیا۔” السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ج 2، ص 129۔
یوں یزید کے خاندانی پس منظر میں ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف قدیم دشمنی،مکارسیاسی مزاحمت تھی اور دوسری طرف احد کی وہ خونیں یادیں جنہیں تاریخ آج تک بھلا نہ سکی۔
پھر اسی گھر کا بیٹا معاویہ تاریخ کے منظر پر آتا ہے؛ ابو سفیان کی قبائلی سیاست اب ایک منظم اقتداری سیاست کی صورت اختیار کرتی ہے، حضرت علی علیہ السلام کے مقابل صف آرائی ہوتی ہے، جنگ صفین برپا ہوتی ہے، اور اسی معرکے میں حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ علیہ شہید ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے ہی فرمایا تھا: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»، یعنی: “عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔” صحیح مسلم، حدیث 2916، کتاب الفتن۔
عمار حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے اور صفین میں معاویہ کے لشکر کے مقابل شہید ہوئے؛ یوں صفین صرف دو لشکروں کی جنگ نہ رہی بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس پیش گوئی کے سامنے کھڑا ایک تاریخی سوال بن گئی جسے صدیوں کی تاویلیں بھی ختم نہ کرسکیں۔
اور معاویہ کے بارے میں صحیح مسلم میں رسول اللہ ص کے وہ الفاظ بھی محفوظ ہیں جو تاریخ کے دامن سے کبھی جدا نہیں ہوسکے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو معاویہ کو بلانے کے لیے بھیجا گیا، وہ واپس آئے اور بتایا کہ معاویہ کھانا کھا رہے ہیں؛ دوبارہ بھیجا گیا تو پھر یہی جواب ملا، اس پر رسول اللہ ص نے فرمایا: «لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ»، یعنی: “اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کرے۔” صحیح مسلم، حدیث 2604، کتاب البر والصلة والآداب۔ یہ کسی بعد کے مؤرخ کا الزام نہیں بلکہ صحیح مسلم میں محفوظ رسول اللہ ص کے الفاظ ہیں۔
معاویہ کی حکومت خلافتِ راشدہ کے اجتماعی تصورِ قیادت کا تسلسل نہیں بلکہ اقتدار کی وہ نئی صورت تھی جس نے حکمرانی کو سلطنت اور سلطنت کو خاندان کی میراث بنا دیا؛ اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کرکے اس نے اقتدار کی موروثی بنیاد مضبوط کردی، اور یزید نے تخت سنبھالتے ہی سب سے پہلے حسین بن علی علیہما السلام سے بیعت کا مطالبہ کیا—کیونکہ حسین علیہ السلام کی بیعت اس موروثی سلطنت کے لیے جواز، اور حسین علیہ السلام کا انکار اس کے خلاف سب سے بڑی اخلاقی گواہی تھا؛
تاریخ طبری میں یزید کا ولید بن عتبہ کے نام حکم محفوظ ہے: «فَخُذْ حُسَيْنًا وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ بِالْبَيْعَةِ أَخْذًا شَدِيدًا لَيْسَتْ فِيهِ رُخْصَةٌ حَتَّى يُبَايِعُوا»، یعنی: “حسین، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر سے سختی کے ساتھ بیعت لو، کسی قسم کی گنجائش نہ چھوڑو یہاں تک کہ وہ بیعت کرلیں۔” تاریخ الطبری، ج 3، ص 269۔
اس ایک حکم میں یزیدی اقتدار کا پورا مزاج سمٹ آتا ہے: امام حسین علیہ السلام سے اختلاف نہیں، بیعت کا مطالبہ؛ دلیل نہیں، دباؤ؛ حق کی تلاش نہیں، تخت کا تحفظ۔
لیکن یزید کی داستان کو اس کے باپ معاویہ سے الگ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یزید سے پہلے اسی اقتداری سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام اور حضرت حسن علیہ السلام کے خونیں ابواب لکھے جاچکے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت بظاہر عبدالرحمن بن ملجم کے ہاتھوں ہوئی، لیکن اس کے پیچھے معاویہ کی جانب سے سیاسی حالات اور مسلسل کشمکش کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خوارج نے حضرت علی علیہ السلام، معاویہ اور عمرو بن العاص کو قتل کرنے کی سازش کی تھی، اور بلاذری نے أنساب الأشراف، ج 2، ص 489 میں اس واقعے کی تفصیل نقل کی ہے۔ مگر خوارج کی اس سازش کے عملی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی معاویہ نے وہ سیاسی فضا پیدا کردی تھی جس میں حضرت علی علیہ السلام کے خلاف دشمنی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ صفین کی جنگ اسی دشمنی کا سب سے بڑا مظہر تھی؛ چنانچہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کو اس وسیع سیاسی کشمکش سے الگ کرکے دیکھنا تاریخ کے ایک بڑے باب کو نظر انداز کرنا ہوگا۔
پھر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کا دور آتا ہے؛
زہر دے کر شہید کیے جانے کی تاریخی روایات متعدد مصادر میں محفوظ ہیں، اور بعض تاریخی روایات اس کے پس پردہ معاویہ کی ترغیب و سازش کا مکمل ذکر ہے۔ ابن عبد البر الاستیعاب، ج 1، ص 389 میں لکھتے ہیں: «سُمَّ الحسنُ بنُ عليّ، سمَّتْه امرأتُه جَعْدَةُ بنتُ الأشعثِ بنِ قيسٍ الكِندي، وقالت طائفةٌ: كان ذلك منها بتدسيسِ معاويةَ إليها وما بذل لها في ذلك»، یعنی: “حسن بن علی کو زہر دیا گیا؛ ان کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس نے انہیں زہر دیا، اور ایک جماعت نے کہا کہ یہ معاویہ کی سازش اور اس کی طرف سے دی گئی ترغیب کے نتیجے میں ہوا۔” بلاذری نے أنساب الأشراف، ج 3، ص 55 میں بھی اس نسبت کو نقل کیا، جبکہ حاکم نیشاپوری نے المستدرک علی الصحیحین، ج 3، ص 176 میں قتادہ سے نقل کیا: «سَمَّتْ جَعْدَةُ ابْنَةُ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَكَانَتْ تَحْتَهُ، وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا»، یعنی: “جعدہ بنت اشعث بن قیس نے حسن بن علی کو زہر دیا، وہ ان کی زوجہ تھیں، اور اس کام پر انہیں مال دیا گیا۔” یوں تاریخ میں ایک ایسا سازشی سلسلہ سامنے آتا ہے جس میں علی علیہ السلام کے مقابل سیاسی جنگ اور شہادت، حسن علیہ السلام کی زہر سے شہادت کے بارے میں منقول روایات، اور پھر یزید کے لیے ہموار کیا گیا اقتدار ایک دوسرے سے جدا نظر نہیں آتے۔
یہاں آکر یزید کا خاندانی اور سیاسی پس منظر ایک خوفناک تصویر مکمل کرتا ہے: دادا کے عہد میں رسول اللہ ص کے خلاف مزاحمت، دادی کے نام سے وابستہ احد کی خونیں روایات، باپ کی علی ع کے مقابل جنگ اور موروثی اقتدار کی بنیاد، حسن علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں اسی خاندان پر وارد تاریخی شواہد اور آخرکار بیٹے یزید کے ہاتھ میں وہ سلطنت جس نے حسین علیہ السلام سے بیعت لینے کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ یہ نسب کا مقدمہ نہیں؛ یہ تاریخ کے تسلسل کا مقدمہ ہے۔
پھر حسین علیہ السلام نے بیعت سے انکار کیا؛ مدینہ سے مکہ، مکہ سے عراق، اور عراق سے کربلا تک سفر ہوا، اور یزید کی سلطنت کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نواسہ کھڑا ہوگیا۔ ایک طرف تخت، لشکر اور حکومت تھی؛ دوسری طرف حق، غیرت، آزادی اور حسین علیہ السلام تھے۔ یزید کے پاس طاقت تھی مگر حسین علیہ السلام کے پاس حق کا انکار نہ کرنے کا حوصلہ تھا؛ یزید کے پاس سلطنت تھی مگر حسین علیہ السلام کے پاس وہ کردار تھا جس کے سامنے سلطنت بے معنی ہوجاتی ہے۔ پھر کربلا آئی، خیمے جلائے گئے، رسول زادیوں کو قیدی بنایا گیا، وفادار ساتھی شہید ہوئے، علی اکبر علیہ السلام، عباس علیہ السلام اور دوسرے اصحاب و اہل بیت علیہم السلام قربان ہوئے، اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کا سر نیزے پر اٹھا دیا گیا۔
کربلا نے اس دن صرف ایک جنگ کا فیصلہ نہیں کیا؛ اس نے تاریخ میں دو اقتداروں کی حقیقت کھول دی: ایک وہ جو تلوار سے جسموں کو شکست دیتا ہے، دوسرا وہ جو قربانی سے دلوں کو فتح کرلیتا ہے۔ یزید نے سمجھا تھا کہ حسین علیہ السلام کو قتل کرکے اُن کے پیغام کو ختم کردیا جائے گا، مگر نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا؛
امام حسین ع کا جسم کربلا میں رہ گیا، مگر ان کا نام زمانے کے سینے پر نقش ہوگیا، جبکہ یزید کی سلطنت چند برسوں کی مہمان ثابت ہوئی اور اس کا نام کربلا کی بدترین یاد کے ساتھ ہمیشہ کے لیے وابستہ ہوگیا۔
یہ تاریخ کا وہ الٹ پھیر ہے جسے کوئی طاقت بدل نہیں سکتی: جس کے پاس لشکر تھا وہ تاریخ میں بے اختیار ہوگیا، اور جس کے پاس صرف حق تھا وہ تاریخ کا سب سے طاقتور نام بن گیا؛ جس نے تخت بچانے کے لیے حسین علیہ السلام کو قتل کیا، اس کا تخت مٹ گیا، اور جس نے تخت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا، اس کا نام قیامت تک بلند ہوگیا۔
اس لیے یزید کی سب سے بڑی تذلیل کوئی گالی نہیں؛ کربلا خود اس کی فردِ جرم ہے۔ اس کے خلاف سب سے بڑی شہادت کوئی اشتعال انگیز قصہ نہیں؛ تاریخ کے وہ صفحات ہیں جو اس کے عہد، اس کی سیاست اور اس کے اقتدار کے نتائج بیان کرتے ہیں۔ اسے رسوا کرنے کے لیے مصنوعی الفاظ کی ضرورت نہیں؛ اس کا نام لیتے ہی کربلا سامنے آجاتی ہے، حسین علیہ السلام کا خون یاد آتا ہے، زینب سلام اللہ علیہا کی استقامت یاد آتی ہے، سجاد علیہ السلام کی اسیری یاد آتی ہے، اور وہ سلطنت یاد آتی ہے جو ایک خاندان کے ہاتھ میں تھی مگر تاریخ کے سامنے ہمیشہ کے لیے شکست خوردہ ہوگئی۔
یزید کے لیے اس سے بڑی سزا کیا ہوگی کہ صدیوں گزرنے کے باوجود اس کا نام عزت کی مجلسوں میں نہیں بلکہ کربلا کے ماتم، ظلم کی مثال اور عبرت کے عنوان کے طور پر لیا جاتا ہے؛ اور حسین علیہ السلام کا نام آئے تو دل جھک جاتے ہیں، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور زبان پر بے اختیار آتا ہے:
السلام علیک یا ابا عبداللہ۔
یہی کربلا کا آخری فیصلہ ہے: تخت یزید کا تھا، مگر تاریخ حسین علیہ السلام کی ہوگئی؛ اقتدار یزید کے پاس تھا، مگر عزت امام حسین علیہ السلام کے حصے میں آئی؛ یزید نے حکومت پائی، امام حسین ع نے انسانیت جیت لی۔
اور یہی وہ شکست ہے جسے دنیا کی کوئی سلطنت، کوئی لشکر، کوئی تخت اور کوئی تاریخ کا حیلہ کبھی یزید کے نام سے جدا نہیں کرسکتا۔









آپ کا تبصرہ