پیر 31 اگست 2026 - 20:56
آغوشِ رسالتؐ سے مکتبِ صادقؑ تک/رسالتِ مصطفیٰؐ اور امامتِ صادقؑ؛ علم، اخلاق اور ہدایت کا ایک تسلسل

حوزہ/تاریخ کے اوراق میں بعض ایام محض تاریخ نہیں ہوتے؛ وہ اپنے اندر ایک پورا عہد، ایک تہذیب، ایک فکر اور ایک انقلاب سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ۱۷ ربیع الاول بھی ایسا ہی ایک تاریخ ساز دن ہے؛ وہ مبارک دن جسے مکتبِ اہل بیتؑ میں دو عظیم ولادتوں کی نسبت سے غیر معمولی عظمت حاصل ہے: حضرت محمد مصطفیٰؐ، رسولِ رحمتؐ اور حضرت امام جعفر صادقؑ، علم و معرفت کے آفتاب۔

تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی، سربراہ، مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ

حوزہ نیوز ایجنسی|

۱۷ ربیع الاول؛ تاریخِ انسانیت کا ایک درخشاں باب

تاریخ کے اوراق میں بعض ایام محض تاریخ نہیں ہوتے؛ وہ اپنے اندر ایک پورا عہد، ایک تہذیب، ایک فکر اور ایک انقلاب سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ۱۷ ربیع الاول بھی ایسا ہی ایک تاریخ ساز دن ہے؛ وہ مبارک دن جسے مکتبِ اہل بیتؑ میں دو عظیم ولادتوں کی نسبت سے غیر معمولی عظمت حاصل ہے: حضرت محمد مصطفیٰؐ، رسولِ رحمتؐ اور حضرت امام جعفر صادقؑ، علم و معرفت کے آفتاب۔

ایک جانب وہ ہستی جلوہ گر ہوئی جس کے بارے میں قرآن نے فرمایا:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘

(سورۂ انبیاء، ۲۱:۱۰۷)

اور دوسری جانب اسی خانوادۂ رسالتؐ میں وہ فرزندِ رسولؐ پیدا ہوئے جنہوں نے علومِ محمد و آلِ محمدؑ کو ایک عظیم علمی و فکری مکتب کی صورت میں فروغ دیا۔

امام جعفر صادقؑ کی ولادت کے بارے میں امامیہ مصادر میں ۱۷ ربیع الاول ۸۳ھ معروف روایت ہے؛ بعض تاریخی مآخذ میں سنِ ولادت کے بارے میں اختلاف بھی نقل ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ۱۷ ربیع الاول کو صرف ایک تاریخی مناسبت کے طور پر دیکھنا اس دن کی معنوی عظمت کو محدود کردینا ہے۔ یہ دن ہمیں رسالت، امامت، علم، اخلاق، معرفت اور انسان سازی کے ایک مسلسل سفر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

رسالتؐ نے ہدایت کا چراغ روشن کیا اور امامتؑ نے اس نورِ ہدایت کی حفاظت، تشریح اور ترویج کی۔

طلوعِ آفتابِ رسالتؐ

بعثتِ نبویؐ سے قبل عرب معاشرہ جاہلیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھرا ہوا تھا۔ شرک، قبائلی تعصبات، طبقاتی تفاخر، اخلاقی انحطاط اور انسانی حقوق کی پامالی نے معاشرے کی روح کو مجروح کردیا تھا۔

ایسے ماحول میں حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ولادت اور پھر بعثتِ نبویؐ انسانیت کے لیے ایک نئے عہد کا آغاز تھی۔

قرآن مجید نے رسولِ اکرمؐ کی شخصیت کو عظیم اخلاق کے پیکر کے طور پر پیش کیا:

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ

’’اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔‘‘(سورۂ قلم، ۶۸:۴)

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ رسالتِ محمدیؐ کا انقلاب محض سیاسی یا سماجی انقلاب نہیں تھا؛ یہ انسان کے باطن، کردار اور اخلاق کا انقلاب بھی تھا۔

رسولِ اکرمؐ نے انسان کو صرف یہ نہیں بتایا کہ خدا کون ہے؛ بلکہ یہ بھی سکھایا کہ خدا کا بندہ بن کر انسان کیسے بنا جاتا ہے۔

آپؐ نے توحید کا درس دیا تو عدل بھی سکھایا، عبادت کی تعلیم دی تو حقوق العباد کی پاسداری بھی، علم کی ترغیب دی تو اخلاق کو اس کی روح قرار دیا، اور فرد کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی تعمیر کو بھی اپنی ذمہ داری کا حصہ بنایا۔

رسالتؐ؛ تعلیم و تزکیہ کا جامع مکتب

قرآن کریم رسولِ اکرمؐ کے منصب کو صرف تبلیغ تک محدود نہیں کرتا بلکہ تعلیم و تزکیہ کو بھی آپؐ کی ذمہ داری قرار دیتا ہے:

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ(سورۂ جمعہ، ۶۲:۲)

یعنی رسولِ اکرمؐ لوگوں پر اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔

یہاں رسالت کا ایک مکمل تعلیمی فلسفہ سامنے آتا ہے:

تلاوت، تزکیہ، تعلیم اور حکمت۔

گویا نبویؐ مکتب محض معلومات فراہم کرنے والا مدرسہ نہیں بلکہ انسان بنانے والا مدرسہ ہے۔

رسولِ اکرمؐ نے ایسے انسان تیار کیے جو علم رکھتے تھے تو کردار بھی رکھتے تھے، ایمان رکھتے تھے تو ذمہ داری کا احساس بھی، عبادت کرتے تھے تو معاشرے کے درد کو بھی محسوس کرتے تھے۔

یہی وہ بنیادی تصور ہے جس سے آغوشِ رسالتؐ سے مکتبِ صادقؑ تک کا فکری سفر شروع ہوتا ہے۔

اہل بیتؑ؛ نبویؐ میراث کے امین

رسولِ اکرمؐ کی رحلت کے بعد امت کے سامنے ایک بنیادی سوال تھا: کتابِ خدا اور سنتِ رسولؐ کی صحیح تفہیم، حفاظت اور تشریح کس طرح جاری رہے؟

مکتبِ اہل بیتؑ کے نزدیک ائمۂ اہل بیتؑ، رسولِ اکرمؐ کے علمی و ہدایتی وارث اور نبویؐ معارف کے امین ہیں۔

حدیثِ ثقلین اسی فکری پس منظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے، جس میں قرآن اور اہل بیتؑ سے وابستگی کی تاکید منقول ہے۔ اس حدیث کے متعدد طرق مختلف حدیثی مصادر میں موجود ہیں، اگرچہ الفاظ اور اسانید میں روایات کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

اہل بیتؑ کی علمی زندگی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ کتابِ خدا، سنتِ رسولؐ اور معارفِ دین کو زمانے کے فکری سوالات کے سامنے واضح کیا جائے۔

اسی سلسلے میں امام محمد باقرؑ اور ان کے فرزندِ گرامی حضرت امام جعفر صادقؑ کا عہد ایک غیر معمولی علمی اہمیت رکھتا ہے۔

امام جعفر صادقؑ؛ علم و معرفت کا آفتاب

حضرت امام جعفر صادقؑ، امام محمد باقرؑ کے فرزند اور اہل بیتؑ کے چھٹے امام ہیں۔ آپؑ کی علمی شخصیت نے اسلامی تاریخ کے ایک ایسے دور میں نمایاں حیثیت حاصل کی جب فقہی، کلامی اور فکری مباحث تیزی سے تشکیل پارہے تھے۔

آپؑ کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی اور امامیہ مصادر کے مطابق ۱۷ ربیع الاول ۸۳ھ آپؑ کی ولادت کا معروف قول ہے۔

امام صادقؑ نے اپنے عہد کے سیاسی انتشار کے درمیان علمی و فکری میدان کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔ آپؑ کے گرد ایک وسیع علمی حلقہ تشکیل پایا اور آپؑ کی تعلیمات فقہ، حدیث، کلام اور اخلاق سمیت مختلف علمی شعبوں میں منتقل ہوئیں۔

جدید علمی مطالعات بھی امام صادقؑ کو ابتدائی اسلامی علمی تاریخ کی ایک اہم فقہی، حدیثی اور کلامی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ امامیہ فقہی روایت میں آپؑ سے منقول روایات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے اور اسی نسبت سے امامیہ فقہ کو مذہبِ جعفری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام صادقؑ کو صرف ایک فقیہ یا محدث کے عنوان سے محدود کرنا آپؑ کی علمی شخصیت کی وسعت کو کم کردینا ہوگا۔

مکتبِ صادقؑ فقہ بھی ہے، حدیث بھی؛ کلام بھی ہے، اخلاق بھی؛ معرفت بھی ہے اور انسان کی فکری تربیت بھی۔

مکتبِ صادقؑ؛ علم، عقل اور استدلال کا مدرسہ

امام صادقؑ کا زمانہ فکری اعتبار سے نہایت حساس تھا۔ مختلف فقہی آرا سامنے آرہی تھیں، کلامی مباحث شدت اختیار کررہے تھے اور مختلف فکری رجحانات اپنے دلائل کے ساتھ اسلامی معاشرے میں جگہ بنا رہے تھے۔

ایسے ماحول میں امام صادقؑ نے علم کو محض روایت اور نقل تک محدود نہیں رکھا بلکہ فہم، استدلال، سوال اور علمی گفتگو کو بھی اہمیت دی۔

آپؑ کے علمی حلقے سے وابستہ متعدد شخصیات نے بعد کے اسلامی فکری مباحث میں نمایاں کردار ادا کیا۔ جدید تاریخی مطالعات میں ہشام بن حکم اور محمد بن نعمان جیسے کلامی شخصیات کا ذکر بھی امام صادقؑ کے علمی ماحول کے ضمن میں ملتا ہے۔

یہی مکتبِ صادقؑ کا ایک نمایاں امتیاز ہے:

سوال سے خوف نہیں، جہالت سے خوف؛

اختلاف سے فرار نہیں، دلیل کی تلاش؛

علم کا دعویٰ نہیں، علم کی ذمہ داری۔

یہ علمی مزاج آج کے دور میں بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔

فقہِ جعفری؛ نبویؐ فقہ کی علمی روایت

امام صادقؑ کی علمی میراث کا ایک نمایاں حصہ فقہ ہے۔ امامیہ فقہی روایت میں آپؑ سے منقول احادیث و روایات فقہی استنباط کا بنیادی ذخیرہ ہیں، اور اسی نسبت سے امامیہ فقہ کو فقہِ جعفری کہا جاتا ہے۔

لیکن مکتبِ صادقؑ کی وسعت کو صرف فقہی احکام تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔

آپؑ سے منقول علمی میراث میں توحید، نبوت، امامت، قرآن، اخلاق، عبادات، معاملات، معاشرت اور انسانی کردار جیسے موضوعات کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔

یہاں ایک اہم علمی احتیاط بھی ضروری ہے: امام صادقؑ کی طرف منسوب ہر قول، ہر کتاب اور ہر روایت کو بلا تحقیق قطعی طور پر آپؑ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ روایت کے ساتھ اس کا اصل ماخذ، باب اور حتی الامکان سند بھی پیش کی جائے۔

یہی رویہ مکتبِ صادقؑ کی حقیقی علمی روح سے بھی ہم آہنگ ہے۔

رسالتؐ سے امامتؑ تک؛ ایک نورانی تسلسل

یہاں ہمارے مضمون کے عنوان کی معنویت پوری طرح سامنے آتی ہے:

آغوشِ رسالتؐ سے مکتبِ صادقؑ تک۔

رسولِ اکرمؐ نے توحید کا چراغ روشن کیا؛ امام صادقؑ نے توحیدی معارف کو علمی استدلال کے میدان میں آگے بڑھایا۔

رسولِ اکرمؐ نے قرآن کی تعلیم دی؛ امام صادقؑ نے قرآن و حدیث کے معارف کی توضیح اور علمی تشریح میں نمایاں کردار ادا کیا۔

رسولِ اکرمؐ نے اخلاقی انقلاب برپا کیا؛ امام صادقؑ نے علم و اخلاق کو ایک دوسرے سے مربوط رکھنے والی تربیت کو فروغ دیا۔

رسالتؐ سرچشمۂ ہدایت ہے اور امامتؑ اس ہدایت کی حفاظت، تشریح اور عملی رہنمائی کا تسلسل۔

اسی لیے رسالتؐ اور امامتؑ کو دو جداگانہ فکری دائروں میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک ہی سلسلۂ نور و ہدایت کے مختلف مراحل کے طور پر سمجھنا مکتبِ اہل بیتؑ کے فکری مزاج سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔

علم اور اخلاق؛ مکتبِ محمدؐ و آلِ محمدؑ کا مشترکہ پیغام

آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم دین کو صرف معلومات کا مجموعہ نہ سمجھیں۔

دین اگر علم دے مگر کردار نہ دے تو علم ادھورا ہے۔

دین اگر عبادت سکھائے مگر انسانیت نہ سکھائے تو عبادت کی روح مجروح ہے۔

دین اگر عقیدہ دے مگر اخلاق نہ دے تو معرفت اپنا اثر کھو دیتی ہے۔

رسولِ اکرمؐ کی سیرت اور امام صادقؑ کا مکتب ہمیں علم و عمل، ایمان و اخلاق اور معرفت و کردار کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی تعلیم دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کے مسلمان نوجوان کو صرف یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ امام صادقؑ کون تھے؛ بلکہ یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ:

امام صادقؑ نے علم کے ساتھ ہمارا تعلق کیسا چاہا؟

دین کو عقل کے ساتھ کیسے سمجھایا؟

اخلاق کو زندگی میں کیسے اتارا؟

اور اختلاف کے دور میں علمی بصیرت کیسے پیدا کی؟

عصرِ حاضر اور مکتبِ صادقؑ کی ضرورت

آج انسان معلومات کے ایک ایسے سیلاب میں گھرا ہوا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ایک کلک پر ہزاروں کتابیں، لاکھوں آراء اور بے شمار نظریات سامنے آجاتے ہیں؛ لیکن معلومات کی فراوانی ہمیشہ معرفت پیدا نہیں کرتی۔

آج ضرورت صرف معلومات کی نہیں بلکہ درست فہم، علمی بصیرت اور اخلاقی شعور کی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مکتبِ صادقؑ ہماری رہنمائی کرسکتا ہے۔

ہمیں ایسا علم چاہیے جو انسان کو متکبر نہ بنائے بلکہ متواضع کرے۔

ایسی فکر چاہیے جو اختلاف کو دشمنی نہ بننے دے۔

ایسا دین چاہیے جو عبادت کے ساتھ اخلاق، علم کے ساتھ تقویٰ اور عقیدے کے ساتھ ذمہ داری عطا کرے۔

اور ایسی تعلیم چاہیے جو ہماری نئی نسل کو صرف امتحان پاس کرنے کے قابل نہ بنائے بلکہ زندگی کا امتحان کامیابی سے دینے کے قابل بنائے۔

۱۷ ربیع الاول؛ جشن سے تجدیدِ عہد تک

۱۷ ربیع الاول یقیناً جشن و مسرت کا دن ہے۔

ہم رسولِ اکرمؐ کی ولادت پر خوشی منائیں، امام جعفر صادقؑ کی ولادت پر مسرور ہوں، محافلِ میلاد منعقد کریں، درود و سلام پیش کریں اور فضائل و مناقب بیان کریں؛ لیکن اس خوشی کو معرفت اور عمل سے ضرور جوڑیں۔

ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:

کیا ہمارا جشن ہمیں سیرتِ مصطفیٰؐ کے قریب لے جارہا ہے؟

کیا ہماری محبت ہمیں مکتبِ صادقؑ کے علم و معرفت سے جوڑ رہی ہے؟

کیا ہماری محافل ہماری نئی نسل میں قرآن، علم، اخلاق اور اہل بیتؑ کی محبت پیدا کررہی ہیں؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمارا جشن محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک فکری و تربیتی تحریک ہے۔

ورنہ ہمیں اپنے جشن کے ساتھ اپنے کردار کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا۔

نئی نسل کے نام ایک پیغام

اگر ہم واقعی رسولِ اکرمؐ اور امام جعفر صادقؑ کی ولادت منانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نسلوں کو صرف میلاد کی محفل تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

انہیں قرآن سے جوڑنا ہوگا۔

انہیں سیرتِ رسولؐ پڑھانی ہوگی۔

انہیں اہل بیتؑ کی معرفت عطا کرنا ہوگی۔

انہیں فقہ و احکام سے آشنا کرنا ہوگا۔

انہیں علمی سوال کرنے اور دلیل سمجھنے کا حوصلہ دینا ہوگا۔

اور سب سے بڑھ کر انہیں ایسا کردار دینا ہوگا جس سے اسلام کی خوب صورتی ان کی زندگی میں نظر آئے۔

مدرسہ، مسجد، گھر اور معاشرہ۔سب کو مل کر اس ذمہ داری کو ادا کرنا ہوگا۔

کیونکہ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو صرف ماضی کے واقعات سنائے اور مستقبل کے لیے فکری و اخلاقی تربیت نہ دی تو ہم اپنے عہد کی ذمہ داری پوری نہیں کرسکیں گے۔

چراغِ رسالتؐ سے آفتابِ صادقؑ تک

۱۷ ربیع الاول ہمیں دو عظیم ولادتوں کی خوشی عطا کرتا ہے، مگر اس خوشی کے پس پردہ ایک عظیم ذمہ داری بھی رکھتا ہے۔

ہمیں رسولِ اکرمؐ سے رحمت سیکھنی ہے،

قرآن سے ہدایت لینی ہے،

اہل بیتؑ سے وفاداری سیکھنی ہے،

اور امام صادقؑ سے علم، بصیرت اور فکری استقامت حاصل کرنی ہے۔

رسولِ اکرمؐ نے انسانیت کو توحید، اخلاق اور ہدایت کا راستہ دکھایا، اور امام جعفر صادقؑ نے علومِ اہل بیتؑ کو ایک وسیع علمی و فکری مکتب میں فروغ دیا۔ آپؑ کی فقہی، حدیثی اور کلامی شخصیت اسلامی علمی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

لہٰذا ۱۷ ربیع الاول صرف تقویم کا ایک مبارک دن نہیں؛ یہ معرفتِ رسالت، محبتِ اہل بیت، علم کی عظمت اور کردار کی تعمیر کا پیغام ہے۔

آئیے اس مبارک دن ہم عہد کریں کہ قرآن کو سمجھیں گے،سیرتِ مصطفیٰؐ کو اپنائیں گے،مکتبِ اہل بیتؑ سے وابستہ رہیں گے،

علم کو فروغ دیں گے،

اخلاق کو زندگی کا حصہ بنائیں گے،

اور اپنی آنے والی نسلوں کو محمدؐ و آلِ محمدؑ کے نورِ ہدایت سے جوڑیں گے۔

کہ یہی اس مبارک سفر کا حاصل ہے:

**آغوشِ رسالتؐ سے مکتبِ صادقؑ تک؛

چراغِ رسالتؐ سے آفتابِ امامتؑ تک؛

اور وہاں سے دلِ انسان تک۔**

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha