حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جشن کی صدارت معروف خطیب مولانا سید عزادار حسین زیدی نے کی، جبکہ نظامت خطیبِ اہلِ بیتؑ الحاج سید قمر عباس قنبر نقوی نے انجام دی۔

اِس روحانی جشن میں معروف اسلامی اسکالر مولانا سید کلب رشید رضوی، مولانا سید تقی حیدر نقوی، ڈاکٹر فیروز احمد ربانی، مولانا سید غلام علی نقوی، ریٹائرڈ پی سی ایس افسر اشجع رضا زیدی خطاب کیا، جبکہ مولانا شیخ ممتاز علی مرتضوی، مولانا سید سلمان رضا نقوی، ڈاکٹر سید رضا ارشاد رضوی اور جاوید زیدی بلگرامی نے خصوصی شرکت کی۔

مقررین نے جشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عیدِ زہراء اسلامی تاریخ کی عظیم ترین مسرتوں میں سے ایک ہے۔ واقعۂ کربلا کے تقریباً پانچ سال بعد آج ہی کے دن قاتلین شُہداء کربلا کو عبرت ناک سزا ملنے کی خبر سن کر امام زین العابدین کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور خاندانِ رسالتؐ نے ظلم و مصائب کے طویل دور کے بعد خوشی کا سانس لیا۔
مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تمام مسلمان باہمی اتحاد و اخوت کے ساتھ عیدِ زہراء سلام اللہ علیہا منائیں، کیونکہ اتحاد کسی وقتی یا موسمی ضرورت کا نام نہیں بلکہ انسانی اور معاشرتی زندگی کی ایک دائمی اور فطری ضرورت ہے۔

علماء و خطباء نے واقعۂ کربلا میں امام حسینؑ اور خانوادۂ رسالتؐ کی خواتین پر مظالم ڈھانے والوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پروردگارِ عالم ظلم و ستم کے مرتکبین اور ان کے حامیوں کو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی سے دوچار فرمائے۔
جشنِ عید زہراء سلام اللہ علیہا میں آصف جلال بجنوری، شمیم الہ آبادی، ڈاکٹر سید غضنفر عباس نقوی سرسوی، نظر عباس اعظمی، شمیم مظفر نگری، عباس مہدی، داروغہ اسد رضا، اعظم نوگانوی، حازق حسن، محمد عابد پھول اور علی کاظمی نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جشنِ عید زہراء کا آغاز انیس احمد نے تلاوتِ کلامِ پاک اور حاجی رضوان نے حدیثِ کساء سے کیا۔
جشن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات اور خدمانِ اہلِ بیتؑ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
آخر میں مونس رضا نقوی، محمد نوید نقوی اور محمد حیدر نقوی نے تمام مہمانان، علماء، خطباء، شعراء اور شرکائے جشن کا شکریہ ادا کیا۔










آپ کا تبصرہ