تحریر: ڈاکٹر سید جاوید شیرازی
حوزہ نیوز ایجنسی | افغانستان میں جمہوری نظام کے قیام کے بعد، حامد کرزئی کے دورِ صدارت میں حکومت نے آیت اللہ شیخ آصف محسنی کو تعلیم و تربیت کے مقصد سے ایک وسیع قطعۂ اراضی قانونی طور پر الاٹ کیا، جہاں انہوں نے مدرسہ عالیہ خاتم النبیین کے نام سے ایک عظیم دینی و تعلیمی مرکز قائم کیا۔ یہاں ایک وسیع مسجد، طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی مراکز، ہاسٹلیں، اساتذہ کے لیے رہائشی سہولیات اور دیگر ضروری انتظامات موجود تھے۔ وقت کے ساتھ یہ ادارہ اپنی وسعت اور علمی سرگرمیوں کے اعتبار سے ایک جامع یونیورسٹی کی صورت اختیار کر گیا، جہاں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے اور مختلف فقہی مکاتبِ فکر کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یوں مدرسہ عالیہ خاتم النبیین افغانستان میں دینی تعلیم، علمی تحقیق اور بین المسالک فکری تعامل کا ایک اہم مرکز بن چکا تھا۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وزارتِ عدلیہ نے گزشتہ تقریباً چالیس برس کے دوران سابق حکومتوں کی طرف سے سرکاری اراضی کی جانے والی الاٹمنٹس پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے متعدد زمینیں ریاستی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس عمل میں بعض افراد سے زمینیں واپس لے کر بعد میں انہیں دوبارہ فروخت کیا گیا، تاہم شیعہ آبادیوں اور اداروں سے متعلق بعض اراضی واپس لینے کے باوجود انہیں مناسب قانونی تلافی یا ان کے حقوق کی رعایت نہیں دی گئی۔ اسی پالیسی کے تحت مدرسہ عالیہ خاتم النبیین پر بھی زبردستی قبضہ کیا گیا، جو ایک عظیم علمی و مذہبی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس اقدام سے شیعہ مکتب کے جذبات کا مجروح ہونا ایک فطری امر ہے اور اس سے طالبان حکومت کے قانونی طرزِ عمل، عدل و مساوات اور سیاسی مشروعیت کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی قانونی اور سیاسی سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگر سابق حکومتوں کی طرف سے کیے گئے فیصلوں کو صرف اس بنیاد پر کالعدم قرار دیا جائے کہ وہ سابق حکومتوں کے فیصلے تھے تو پھر موجودہ حکومت کے فیصلوں کی قانونی حیثیت بھی مستقبل میں اسی معیار پر پرکھی جا سکتی ہے۔
آج اگر ایک حکومت سابق حکومت کے فیصلوں کو یک طرفہ طور پر معطل کرتی ہے تو کل جب یہ حکومت اقتدار میں نہیں ہوگی، اس کے اپنے فیصلے بھی اسی منطق کے تحت کالعدم قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ریاستی تسلسل کا تقاضا یہ ہے کہ حکومتیں تبدیل ہوں مگر ریاست کے قانونی معاملات اور اس کے جائز انتظامی فیصلوں کا تسلسل برقرار رہے۔ یہی اصول بین الاقوامی قانونی نظم اور ریاستی ذمہ داریوں کے ساتھ بھی زیادہ سازگار ہے۔ لہٰذا اگر سابق حکومت کی طرف سے مدرسہ عالیہ خاتم النبیین کے لیے زمین قانونی طور پر الاٹ کی گئی تھی تو اسے یک طرفہ طور پر منسوخ کرنے کے بجائے اس کے قانونی تسلسل کو تسلیم کرنا زیادہ مناسب تھا۔ اگر کسی قانونی اشکال کی بنیاد پر نظرِ ثانی ناگزیر سمجھی جاتی تو مدرسے کی موجودہ عمارت، اس کے عظیم تعلیمی کردار اور اس سے وابستہ ہزاروں طلبہ و اساتذہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مناسب معاوضے، متبادل اراضی یا کسی دوسرے قابلِ قبول قانونی حل کا راستہ اختیار کیا جا سکتا تھا۔ جس طرح بعض دوسرے معاملات میں زمین واپس لے کر اس کا معاوضہ دیا گیا یا نئے سرے سے قانونی معاملہ طے کیا گیا، اسی اصول کو یہاں بھی بروئے کار لایا جا سکتا تھا۔
افغانستان جیسے حساس اور کثیرالمسلکی معاشرے میں ریاستی اقدامات کے ذریعے مذہبی و مسلکی تعصبات کو بڑھانا کسی حکومت کے مفاد میں نہیں۔ آج شیعہ مکتب سیاسی اعتبار سے کمزور پوزیشن میں ہے اور شاید اس فیصلے کو برداشت کر لے مگر ایسے اقدامات سے محرومی، بے اعتمادی اور عدمِ تحفظ کا احساس ضرور پیدا ہوتاہے اور مستقبل میں یہی عناصر طالبان کے مخالف قوتوں کے ساتھ صف آرا ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں وہی سیاسی کشمکش، خونریزی اور داخلی انتشار دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے جس نے افغانستان کو طویل عرصے تک تباہی سے دوچار رکھا۔ اس کا نقصان صرف شیعوں تک محدود نہیں ہوگا؛ طالبان حکومت، اس کی سیاسی پوزیشن اور پورا افغانستان اس کے اثرات سے متاثر ہو گا۔
اسی لیے طالبان حکومت کے لیے زیادہ دانش مندانہ راستہ یہ تھا کہ وہ مدرسہ عالیہ خاتم النبیین کو ایک بڑے علمی و دینی مرکز کی حیثیت سے برقرار رکھنے کے لیے قانونی اور منصفانہ حل اختیار کرتی۔ مزید برآں، شیعہ مکتب کے اس عظیم علمی مرکز اور ان کے تمدن ٹی وی چینل کو بند کرنے جیسے اقدامات سے بھی گریز کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ مذہبی و فکری اداروں کو محدود کرنا معاشرے میں اعتماد پیدا کرنے کے بجائے فاصلے اور بے اعتمادی کو بڑھاتا ہے۔
طالبان حکومت کے لیے حقیقی سیاسی قوت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو مسلکی حساسیتوں کو دبانے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے قانون، عدل، مساوات اور حکمت کے ذریعے مختلف طبقات کا اعتماد حاصل کرے۔ حکومت کی پائیدار قوت صرف اقتدار پر گرفت سے پیدا نہیں ہوتی؛ اس کی اصل بنیاد قانونی تسلسل، منصفانہ طرزِ حکمرانی اور شہری و مذہبی طبقات کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر طالبان افغانستان میں ایک مستحکم اور دیرپا سیاسی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسے تمام اقدامات سے احتراز کرنا ہوگا جو کسی مذہبی طبقے میں یہ احساس پیدا کریں کہ ریاست اس کے ساتھ مساوی قانونی سلوک نہیں کر رہی کیونکہ ریاست کی پائیدار مشروعیت طاقت کے استعمال سے نہیں، انصاف کے قیام اور حقوق کے تحفظ سے پیدا ہوتی ہے۔









آپ کا تبصرہ