حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کابل کے مغربی علاقے دارالامان میں واقع حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کو طالبان حکام کی جانب سے خالی کرانے کے اقدام کے بعد حوزہ کے اساتذہ، طلبہ اور دیگر شیعہ شہریوں نے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔ عینی شاہدین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور بعض افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان فورسز نے حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کے احاطے میں موجود بعض افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ حوزہ سے وابستہ معروف شیعہ عالم دین حجت الاسلام والمسلمین حسن محسنی جو مرحوم آیت اللہ محمد آصف محسنی کے فرزند ہیں، کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) افغانستان کا اہم شیعہ علمی مرکز
حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کابل میں شیعہ مسلمانوں کے اہم ترین دینی و علمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1386 ہجری شمسی میں معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ محمد آصف محسنی نے رکھی تھی۔
یہ حوزہ کابل کے سرک دارالامان میں واقع ہے، جہاں دینی تعلیم کے ساتھ علمی، تحقیقی اور ثقافتی سرگرمیاں بھی انجام دی جاتی ہیں۔ افغانستان کے متعدد شیعہ علما اور طلبہ نے اس مرکز سے تعلیم و تدریس کے مراحل مکمل کیے ہیں۔
آیت اللہ محمد آصف محسنی افغانستان کی معروف شیعہ مذہبی و سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے ملک میں دینی، علمی اور سیاسی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے خاندان نے حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

حوزہ علمیہ اور دیگر شیعہ مراکز کے خلاف اقدامات پر تشویش
حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کے خلاف حالیہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان میں شیعہ مذہبی و تعلیمی سرگرمیوں اور ہزارہ برادری کے حوالے سے مختلف پابندیوں اور اقدامات پر شیعہ حلقوں کی جانب سے پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
شیعہ حلقوں کا کہنا ہے کہ شیعہ فقہ کی تدریس سے متعلق پابندیاں، بعض صوبائی علماء کونسلوں سے شیعہ نمائندوں کی مبینہ بے دخلی، ہزارہ برادری سے متعلق جبری بے دخلی اور املاک کے مسائل سمیت مذہبی و تعلیمی مراکز کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات افغانستان کے مذہبی و سماجی ماحول پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کے خلاف کارروائی کو بھی شیعہ برادری کے مذہبی اور علمی مراکز پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تین بڑی افغان سیاسی جماعتوں کی مذمت
حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) پر کارروائی اور شیعہ و ہزارہ برادری سے متعلق دیگر اقدامات کے خلاف افغانستان کی تین اہم سیاسی جماعتوں نے بھی الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں۔
حزب وحدت اسلامی افغانستان، حزب وحدت اسلامی مردم افغانستان اور جمعیت اسلامی افغانستان نے اپنے بیانات میں حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) پر دھاوے، ٹیلی ویژن تمدن اور راہ فردا کی نشریات کی بندش اور ہزارہ و شیعہ برادری کے خلاف عائد کی جانے والی بعض پابندیوں کی مذمت کی ہے۔
حزب وحدت اسلامی افغانستان نے کابل میں حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) پر طالبان فورسز کی کارروائی اور ہرات کے علاقہ جبرئیل میں شہریوں کی دکانیں بند کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کو افغانستان کی ہزارہ اور شیعہ برادری پر بڑھتے ہوئے دباؤ، محدودیتوں اور بنیادی حقوق سے محرومی کے تسلسل کا حصہ قرار دیا ہے۔

علما و طلبہ کا مشترکہ بیانیہ
دوسری جانب افغانستان کے حوزاتِ علمیہ سے وابستہ اساتید، علما اور طلبہ نے بھی حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کے محاصرے اور جبری طور پر خالی کرانے کے خلاف مشترکہ بیانیہ جاری کیا ہے۔
اس بیانیہ کے آغاز میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ «إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ» پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلامی حکومت (امارت اسلامی افغانستان) میں عدل و انصاف، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ حکمرانی کے بنیادی اصول ہیں۔
افغان علما و طلبہ کے اس بیانیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی شریعت میں قومی، نسلی اور مذہبی اختلافات کی بنیاد پر امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں اور قرآن کریم عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے۔ بیانیے کے مطابق مذہبی و قومی امتیاز نہ صرف شرعی اصولوں کے منافی ہے بلکہ ملک میں بداعتمادی اور عدم استحکام کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
اس بیانیہ میں افغانستان کو ایسے ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں مختلف اسلامی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے عوام طویل عرصے سے باہمی اخوت، اسلامی بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔ علما و طلبہ نے خبردار کیا کہ مذہبی دباؤ، تفریق اور وحدت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات افغانستان کے قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

جنگوں سے تھکی قوم کو امن اور استحکام کی ضرورت ہے
افغان علما و طلبہ نے اپنے بیانیہ میں کہا ہے کہ افغانستان کے عوام طویل جنگ، خونریزی اور بدامنی سے گزر چکے ہیں اور اب انہیں امن، استحکام اور اطمینان کی ضرورت ہے۔
اس بیانیہ میں زور دیا گیا ہے کہ ملک میں ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جو دوبارہ بے چینی، خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کرے۔ حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) جیسے مذہبی و تعلیمی مراکز کا محاصرہ اور انہیں جبری طور پر بند کرنے کی کوششیں عوام کے روحانی و نفسیاتی تحفظ کے احساس کو متاثر کر سکتی ہیں۔
علما و طلبہ نے واضح کیا کہ قومی مفادات کے تحفظ اور عمومی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اختلافات اور تنازعات کو طاقت کے بجائے قانونی اور عدالتی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔

املاک اور مذہبی مراکز سے متعلق تنازعات عدالت کے ذریعہ حل کرنے کا مطالبہ
مشترکہ بیانیہ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ کسی فرد یا ادارے کے اموال و املاک سے متعلق دعوے، تنازعات اور اختلافات کو قانونی و عدالتی طریقۂ کار کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ علمی، ثقافتی اور مذہبی مراکز کو بند کرنا، افراد کو قانونی کارروائی کے بغیر حراست میں لینا یا ان کے حقوق سلب کرنا اسلامی عدل کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
حوزاتِ علمیہ افغانستان کے علما و طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کا محاصرہ ختم کیا جائے، اس کے مصادرے اور جبری تخلیہ کا عمل روکا جائے اور اس سے وابستہ افراد کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔

تمدن ٹیلی ویژن کی بندش
حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کے خلاف کارروائی کے ساتھ اس سے وابستہ ٹیلی ویژن "تمدن" بھی طالبان حکام کی کارروائیوں کی زد میں آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق طالبان کی وزارتِ عدلیہ کے حکم پر ٹیلی ویژن تمدن کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ ٹیلی ویژن راہ فردا کے حوالے سے بھی پابندی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ شیعہ حلقوں کا کہنا ہے کہ دینی و ثقافتی مراکز کے ساتھ میڈیا اداروں کی بندش بھی افغانستان میں شیعہ برادری کی مذہبی، علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین حسن محسنی کی سلامتی پر تشویش
حجت الاسلام والمسلمین حسن محسنی کی گرفتاری کی اطلاعات کے بعد شیعہ حلقوں میں ان کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔ متعلقہ حلقوں نے طالبان حکومت کو ان کی جان، سلامتی اور حرمت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں فوری طور پر معلومات فراہم کرنے اور انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) سے وابستہ حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے بارے میں معلومات فراہم نہ کی گئیں یا انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تو افغانستان کے مختلف علاقوں بالخصوص جنوب مغربی خطے سے شیعہ عوام احتجاج کرنے کابل کا رخ کر سکتے ہیں۔

مذہبی رواداری اور قومی وحدت کا مطالبہ
افغانستان کے شیعہ علما و طلبہ نے اپنے بیانیہ میں اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ شیعہ عوام ملک میں اسلامی اخوت، قومی وحدت اور امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اس وقت مختلف چیلنجز سے گزر رہا ہے اور ان حالات کا مقابلہ صرف باہمی تعاون، عدل و انصاف، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
مختلف شیعہ اور سیاسی حلقوں نے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص) کے معاملے کو طاقت اور جبر کے بجائے مذاکرات، قانون اور عدالتی اصولوں کے مطابق حل کیا جائے، گرفتار شدہ افراد کی صورتحال واضح کی جائے اور افغانستان میں تمام مذہبی و قومی طبقات کے بنیادی، مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔









آپ کا تبصرہ