حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محترمہ نجمہ جوادی کی تحریر کردہ کتاب «اہلِ زاریا» کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ کتاب «نشر بینالملل» کی جانب سے شائع ہونے والی تازہ ترین تصنیف ہے۔
یہ کتاب نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم زکزاکی کی زندگی کی داستانی روایت ہے، جس میں مصنفہ نے کوشش کی ہے کہ قارئین کو زاریا کے قتلِ عام سے متعلق تصاویر اور خبروں سے آگے لے جاتے ہوئے شیخ زکزاکی کی شخصیت کی تشکیل کے فکری، سماجی اور اعتقادی پس منظر اور ان کی جدوجہد کے سفر سے روشناس کرایا جائے۔
12 دسمبر 2015ء کو نائیجیریا کے شہر زاریا میں شیعوں کا قتلِ عام اس ملک کے شیعوں کی تاریخ معاصر کے تلخ ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ واقعہ نائیجیرین فوج کی جانب سے زاریا کے شیعوں پر حملے کے دوران پیش آیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شہید اور زخمی ہوئے جبکہ حسینیہ بقیۃ اللہ بھی مسمار کر دیا گیا۔ تاہم «اہلِ زاریا» کی داستان اس واقعے سے شروع نہیں ہوتی۔ مصنفہ اس کتاب میں شیخ زکزاکی کا نام عالمی ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہونے سے کئی سال پہلے کے دور کی طرف لوٹتی ہیں تاکہ قارئین کے سامنے ان کی شخصیت، عقائد اور افکار کی تشکیل کے سفر کو بیان کیا جا سکے۔

خانم جوادی نے اس کتاب میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک فکر کس طرح انسان کی شخصیت تشکیل دے سکتی ہے اور پھر وہ انسان کس طرح اپنے اردگرد کے معاشرے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اسی بنیاد پر یہ کتاب نائیجیریا کے مسلمانوں کی تاریخ، عثمان دان فودیو کے فکری ورثے اور اسلامی حکومتِ سوکوٹو سے شروع ہوتی ہے اور آگے چل کر ابراہیم زکزاکی کے انقلاب اسلامی ایران اور امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے افکار سے آشنائی تک پہنچتی ہے۔
کتاب کے بعض حصوں میں شیخ ابراہیم زکزاکی کے بچپن اور ان کی شخصیت کی تشکیل میں خاندان کے کردار کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ابراہیم کی والدہ منجی اور ظلم سے پاک مستقبل کے بارے میں گفتگو کے ذریعے ان کے ذہن میں امید، انتظار اور نجات جیسے تصورات کو پروان چڑھاتی ہیں؛ یہی تصورات بعد میں ان کی سماجی اور جدوجہدانہ زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں۔
کتاب "اہلِ زاریا" کا ایک اور حصہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کے خاندان کی زندگی کے دشوار ترین برسوں سے متعلق ہے؛ ایسے سال جن میں گرفتاری، قید، زخمی ہونے اور خاندان کے افراد کی شہادت جیسے تلخ واقعات پیش آئے۔
مصنفہ نے اس حصے میں مزاحمت کو محض ایک سیاسی تصور کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے خاندانی زندگی اور مرکزی کردار کے انسانی تجربات کے تناظر میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
اسی تناظر میں «اہلِ زاریا» میں زکزاکی محض ایک مظلوم شخصیت نہیں بلکہ ایک باشعور اور پُرعزم انسان کے طور پر سامنے آتے ہیں، جنہوں نے اپنے عقائد کی خاطر ایک دشوار راستے کا انتخاب کیا اور اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی۔

کتاب کا ایک مؤثر منظر شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کی اہلیہ زینت کی اس گھر میں واپسی کا واقعہ ہے جہاں ان کی بہن فاطمہ اور ان کے تین بچوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔
محترمہ نجمہ جوادی نے اس کتاب کی تیاری کے لیے چار سال تحقیق اور ایک سال تصنیف میں صرف کیا۔ کتاب کا ابتدائی خیال 2020ء میں ایک انٹرویو دیکھنے کے بعد سامنے آیا اور اس کے بعد مصنفہ نے تحقیق اور تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا۔
اس تحقیق کے نتیجے میں 176 صفحات پر مشتمل ایسی کتاب سامنے آئی ہے جو محض ایک رپورٹ پر مبنی سوانح عمری پیش کرنے کے بجائے قارئین کو کرداروں کی زندگی کے ماحول میں داخل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
کتاب میں شیخ ابراہیم زکزاکی کے فکری اور سماجی سفر پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے نائیجیریا میں شیعہ تحریک کی تشکیل کے پس منظر، زکزاکی کے فکری ارتقا اور انقلاب اسلامی ایران و امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے افکار سے ان کے اثرپذیری کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ کتاب زاریا کے واقعات کی محض خبر پر مبنی فضا سے آگے بڑھتے ہوئے قارئین کو ان انسانوں سے روشناس کرانے کی کوشش بھی کرتی ہے جو اس واقعے کے اعداد و شمار، تصاویر اور خبروں کے پس پردہ موجود ہیں؛ ایسے انسان جن کی زندگی، خاندان، عقائد اور ذاتی تجربات اس تاریخ کی حقیقت کا ایک حصہ ہیں۔
محترمہ نجمہ جوادی کی تحریر کردہ کتاب «اہلِ زاریا» 176 صفحات پر مشتمل ہے اور «نشر بینالملل» کے زیراہتمام شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب شیخ ابراہیم زکزاکی کی زندگی، افکار اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ نائیجیریا کے مسلمانوں اور شیعوں کی معاصر تاریخ کے ایک حصے کی داستانی روایت قارئین کے سامنے پیش کرتی ہے۔










آپ کا تبصرہ