حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے کہا: خاتم النبیین علمی کمپلیکس افغانستان کا ایک اہم دینی و تعلیمی مرکز ہے، جہاں حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے علاوہ تمدن چینل سمیت مختلف سماجی و تعلیمی ادارے بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: ایک بڑے علمی و تعلیمی مرکز کو اس انداز میں حکومتی کنٹرول میں لینا، اس کے علماء و اساتذہ کو گرفتار کرنا اور طلبہ کو حراست میں لینا تعلیم و تحقیق کے بنیادی حق کے منافی ہے۔ اس طرح کی کارروائی نہ صرف ایک عظیم دینی و علمی مرکز کی علمی آزادی کو متاثر کرتی ہے بلکہ میڈیا کی آزادی پر بھی ناروا حملہ تصور ہوتی ہے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے مزید کہا: موجودہ دور میں تعلیمی اور تحقیقی مراکز کو تعصب یا امتیازی پالیسیوں کی بنیاد پر محدود کرنا انتہائی تشویشناک امر ہے۔ تعلیم دشمنی درحقیقت معاشرے کے مستقبل سے دشمنی ہے جبکہ دینی و علمی مراکز کو نشانہ بنانا علم اور دین دونوں کے خلاف متعصبانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں، اقوام متحدہ اور بالخصوص تعلیم، ثقافت، انسانی حقوق اور میڈیا سے متعلق عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں خاتم النبیین علمی کمپلیکس کی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ گرفتار علماء، اساتذہ اور طلبہ کے معاملے کا جائزہ لیا جائے اور کمپلیکس میں علمی و تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر نے کہا: افغانستان میں لسانی، قومی اور دینی و مسلکی تعصبات کو ہوا دینے والی کسی بھی پالیسی کے خطے کے امن، استحکام اور باہمی اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کے عوام کو تعلیم، مذہبی سرگرمیوں، میڈیا کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی انسانی حقوق کے ادارے، اقوام متحدہ اور خصوصاً تعلیم، ثقافت اور میڈیا کے حوالے سے کام کرنے والے عالمی ادارے اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور خاتم النبیین کمپلیکس کی علمی و تعلیمی آزادی، اساتذہ و طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔









آپ کا تبصرہ