حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے ایران کے تعلیمی سربراہان کے 39ویں اجلاس کے نام اپنے پیغام میں نوجوانوں کی دینی و اعتقادی بنیادوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے اسے نظامِ تعلیم و تربیت کی بنیادی ترجیحات میں شامل کرنے کی تاکید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم نے تعلیم و تزکیہ کو انبیائے الٰہی کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں قرار دیا ہے اور اسلام نے انسان کی تعلیم، تربیت اور تزکیہ کو اس کی نجات کا ذریعہ بتایا ہے۔ تاہم نوجوان نسل کی تربیت پر خصوصی توجہ ضروری ہے، کیونکہ یہ عمر نیکی اور بھلائی قبول کرنے کے لیے زیادہ آمادگی رکھتی ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا کہ طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور انہیں بہتر مستقبل کے لیے تیار کرنے کے لیے تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین اور منصوبہ سازوں کے درمیان مضبوط تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔
انہوں نے ملک کی ترقی، آزادی اور عزت کے لیے مستقبل کی واضح منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو درپیش مسائل اور خطرات، خصوصاً سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کو درست طور پر سمجھنے اور ان کا مؤثر انتظام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خاندان اور اسکول کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں معاشرے میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے بنیادی ستون ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کی مشکلات کم کرکے ان کے شوق اور حوصلے کو بڑھانا چاہیے تاکہ اسکول کا ماحول زیادہ فعال اور تعمیری بن سکے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے ایران کی تاریخ اور حالیہ برسوں کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں اور نوعمروں کی دینی و اعتقادی بنیادوں کی مضبوطی ایرانی قوم کی کامیابی اور سربلندی کے اہم عوامل میں سے ایک رہی ہے، اس لیے اسے تعلیمی و تربیتی پروگراموں کی بنیادی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے آخر میں تعلیمی نظام کے تمام ذمہ داران، مدیران اور بالخصوص اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایران میں امن، سلامتی اور سربلندی کے لیے دعا کی۔









آپ کا تبصرہ