حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مکتب تشیع کے عظیم علمی مرکز جامعة الکوثر اسلام آباد میں محرم الحرام کی آمد کے موقع پر علماء کرام، مبلغین اور خطباء مکتب اہل بیت علیہم السلام کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام، ذاکرین، خطباء اور مبلغین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
یہ علمی و فکری روایت جامعة الکوثر کے بانی، مفسر قرآن مرحوم علامہ شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کی تھی، جس کا مقصد محرم الحرام میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کی نمائندگی کرنے والے علماء، خطباء اور مبلغین کی فکری، علمی اور تبلیغی رہنمائی کے ساتھ باہمی مشاورت کو فروغ دینا ہے۔

اجلاس کی میزبانی مرحوم شیخ محسن علی نجفی کے فرزندان علامہ شیخ محمد اسحاق نجفی اور علامہ شیخ انور علی نجفی نے انجام دی۔
اجلاس میں قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
مقررین نے اپنی گفتگو میں قیام امام حسین علیہ السلام کے مقاصد، فلسفۂ عزاداری، تعلیمات قرآن و اہل بیت علیہم السلام، فضائل و سیرت اہل بیت علیہم السلام اور پیغام کربلا کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای (رہ) کی دینی، فکری اور سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
مقررین نے زور دیا کہ مجالس عزا میں قرآنی تعلیمات، اسلامی اخلاقیات، اتحاد امت اور قومی یکجہتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے اور محرم الحرام کو اصلاح معاشرہ، بیداری امت اور احیائے اسلام کے عظیم موقع کے طور پر بروئے کار لایا جائے۔

اجلاس میں سوشل میڈیا کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال پر بھی خصوصی گفتگو ہوئی۔ علماء کرام نے اس امر پر زور دیا کہ محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا کو معارف اہل بیت علیہم السلام کی ترویج، اتحاد و اخوت کے فروغ اور پیغام حسینی کی اشاعت کے لیے استعمال کیا جائے جبکہ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی، فرقہ واریت، مقدسات کی توہین اور منفی پروپیگنڈے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
شرکاء نے بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی، قومی وحدت، امن و استحکام اور معاشرے کے مختلف طبقات تک پیغام حسینیت پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں عزاداری کے راستے میں پیش آنے والی انتظامی مشکلات اور آئین پاکستان کے تحت حاصل مذہبی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
علماء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسے مسائل کو افہام و تفہیم، قانونی اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اپنے اختتامی خطاب میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے علماء، خطباء اور مبلغین کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام احیائے اسلام، بیداری امت اور اصلاح معاشرہ کا عظیم ذریعہ ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ واقعۂ کربلا، سیرت امام حسین علیہ السلام اور تعلیمات اہل بیت علیہم السلام کو اس انداز میں بیان کیا جائے کہ معاشرے کے تمام طبقات، مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اس عالمگیر پیغام سے استفادہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا: پیغام حسینیت درحقیقت انسانیت، عدل، حق، آزادی، وحدت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کا پیغام ہے، جسے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ہر سطح پر عام کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن و استحکام، اتحاد امت مسلمہ، بین المسالک ہم آہنگی اور عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کے پرامن انعقاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔









آپ کا تبصرہ