عزاداری امام حسینؑ معنیٰ، تقاضے اور ذمہ داریاں

حوزہ/عزاداری عربی لفظ ’’عَزَا‘‘سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی غم، سوگ اور مصیبت پر اظہارِ رنج کرنے کے ہیں ۔ اصطلاح میں عزاداری سے مراد اہلِ بیتِ رسولؐ خصوصاً امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی مظلومیت اور مصائب کی یاد میں غم منانا، ان کے فضائل و مقاصد کو بیان کرنا اور ان کی قربانیوں کو زندہ رکھنا ہے۔

تحریر: مولانا سید امیر حسنین زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| عزاداری عربی لفظ ’’عَزَا‘‘سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی غم، سوگ اور مصیبت پر اظہارِ رنج کرنے کے ہیں ۔ اصطلاح میں عزاداری سے مراد اہلِ بیتِ رسولؐ خصوصاً امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی مظلومیت اور مصائب کی یاد میں غم منانا، ان کے فضائل و مقاصد کو بیان کرنا اور ان کی قربانیوں کو زندہ رکھنا ہے۔

اس عزاداری کو برپا کرنے والوں کو عزادار کہا جاتا ہے اس عزاداری کو زندہ رکھنے کا سب سے اہم عنصر اور ذریعہ مجلس عزا ہے جو عزاداری کی روح، پیغامِ کربلا کی ترجمان اور شعارحسینی کی سب سے مؤثر درسگاہ ہے جب تک مجالسِ عزا آباد رہیں گی عزاداری کا مقدس سلسلہ بھی زندہ و تابندہ رہے گا۔

مجلسِ عزا کئی اہم اجزا کے مجموعے سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ اجزا حقیقت میں عزاداروں ہی کی الگ الگ حیثیتیں ہیں جن میں بانیانِ مجلس ، خطباء و ذاکرین، سامعین، مرثیہ خوانان، نوحہ خوانان اور ماتم داران الگ الگ کردار ادا کرتے ہیں یہ اس عظیم الشان کارواں کے اہم ستون ہیں،جن میں سے ہر ایک پر کچھ مخصوص ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اگر یہ تمام افراد اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں تو مجلسِ عزا محض ایک اجتماع نہیں رہے گی بلکہ ایک مؤثر دینی، فکری اور تربیتی درسگاہ بن جائیگی۔یہاں پر ان تمام اعضاء کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جن سے ایک مجلس تشکیل پاتی ہے۔

بانیانِ مجالس عزا کی ذمہ داریاں:بانیانِ مجالس اور خدمت گزارانِ عزا کو یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ وہ جس مقدس خدمت کو انجام دے رہے ہیں، اس کا اصل مقصد بارگاہِ خداوندی میں قربت حاصل کرنا، اہلِ بیتؑ کی محبت و مودّت کا اظہار کرنا اور شعائرِ حسینی کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہے۔ اس عظیم خدمت کو کسی بھی صورت میں ذاتی تشہیر، سماجی برتری، نام و نمود یا دنیاوی مفادات کے حصول کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

اسی طرح ضروری ہے کہ مجالس کے لیے ایسے علماء اور خطبا کو دعوت دی جائے جو مستند معلومات، صحیح عقائد اور تعمیری افکار کے ذریعے سامعین، خصوصاً نوجوان نسل کی فکری اور دینی تربیت کر سکیں تاکہ مجلس کا پیغام مؤثر اور بامقصد انداز میں منتقل ہو سکے۔

مجالس کے اوقات کی پابندی، نشست و برخاست کا مناسب انتظام، صوتی نظام کی درست ترتیب اور دیگر انتظامی امور کو نہایت عمدہ طریقے سے انجام دینا چاہیے تاکہ مجلس وقار، نظم اور سکون کے ساتھ منعقد ہو۔

مجلس کے ماحول کو ہمیشہ ادب، تقدس اور روحانیت سے آراستہ رکھنا چاہیے اور ہر اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیے جو مجلس کی عظمت اور وقار کے منافی ہو۔

اسی طرح مجلس میں آنے والے عزاداروں کے آرام، سہولت اور احترام کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے اور ان کی خدمت کو باعثِ ثواب اور عظیم سعادت سمجھ کر انجام دینا چاہیے، کیونکہ یہی روحِ مجلس اور اصل مقصدِ عزاداری ہے۔

خطبا ء و ذاکرین کی ذمہ داریاں: بیان اور تقریر کا اصل مقصد صرف رضائے الٰہی، خدمتِ دین اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کی ترویج ہونا چاہیے، نہ کہ شہرت، ذاتی مفاد یا دنیاوی مقاصد کا حصول۔ خطباء اور ذاکرین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی گفتگو خالص نیت کے ساتھ ہو اور وہ اپنی مجالس کو اخلاص اور مقصدیت کے ساتھ انجام دیں۔

خطباء و ذاکرین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآنِ مجید، احادیثِ نبویؐ اور معتبر تاریخی مصادر کی روشنی میں گفتگو کریں اور تفسیر بالرائے، ضعیف یا غیر مستند روایات کے بیان سے مکمل اجتناب کریں تاکہ سامعین تک صحیح اور مستند دین پہنچ سکے۔

واقعۂ کربلا کو صرف مصائب کے بیان تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس کے عظیم اہداف، مقاصد اور اس کے اخلاقی، سماجی اور اصلاحی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ اس واقعے کا حقیقی پیغام معاشرے تک پہنچ سکے۔

خطاب کے دوران ایسے الفاظ اور اندازِ بیان سے پرہیز کرنا چاہیے جو مسلمانوں میں نفرت، اختلاف یا تفرقہ پیدا کریں۔ ہمیشہ حکمت، بصیرت اور حسنِ کلام کو ملحوظ رکھنا چاہیے تاکہ مجلس اتحاد اور اصلاح کا ذریعہ بنے۔

نوجوانوں کے فکری اور اخلاقی مسائل کو سمجھتے ہوئے انہیں دین، قرآن اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ صحیح دینی اور اخلاقی سمت میں رہنمائی حاصل کر سکیں۔

مجلس کے مقررہ اوقات اور نظم و ضبط کی پابندی بھی ضروری ہے اور اپنی گفتگو کو ہر حال میں مفید، جامع اور بامقصد رکھنا چاہیے۔

خطباء اور ذاکرین کا عملی کردار ان کی گفتگو سے زیادہ اثر رکھتا ہے، اس لیے ان کی زندگی علم، تقویٰ، اخلاص اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ ہونی چاہیے تاکہ ان کی باتیں زیادہ مؤثر ثابت ہوں۔

اسی طرح مجالس کو ایسے وقت پر شروع کرنا چاہیے کہ اذان کے اوقات سے ٹکراؤ نہ ہو، اور اگر دورانِ مجلس اذان کی آواز سنائی دے تو مقرر یا ذاکر کی ذمہ داری ہے کہ احترامِ اذان میں اپنا بیان فوراً روک دے۔

سامعین کی ذمہ داریاں

مجالسِ عزا میں شرکت کرنے والے سامعین کو چاہیے کہ وہ اپنی حاضری کا اصل مقصد رضائے الٰہی، محبتِ اہلِ بیتؑ اور پیغامِ کربلا سے حقیقی استفادہ قرار دیں۔ مجالس کو صرف رسم و رواج یا عادت کے طور پر ادا کرنے کے بجائے ان کے روحانی، فکری اور اصلاحی پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔

سامعین پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ ذاکرین اور دیگر عزاداروں کے احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں اور مجلس کو ہر قسم کے اختلافات اور تنازعات سے پاک رکھتے ہوئے محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کی فضا کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی طرح خطیب کے بیان کو توجہ سے سننا، غیر ضروری گفتگو اور مشغولیات سے اجتناب کرنا بھی ضروری ہے۔ بغیر سوچے سمجھے محض تقلید کرتے ہوئے خطیب کو داد و تحسین سے نوازنا یا جوبات دین کی تعلیمات کے خلاف ہو اس پر داد دینا بلکہ ہر وہ کام جو مجلس کے وقار کو متاثر کرے سے دور رہیں ۔

یہ بھی سامعین کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں اور نوجوانوں کو مجالس میں ساتھ لائیں، انہیں آدابِ مجلس سے روشناس کرائیں اور اہلِ بیتؑ کی محبت و معرفت سے آشنا کریں تاکہ نئی نسل میں دینی شعور اور اخلاقی تربیت پیدا ہو سکے۔ مزید یہ کہ مجالس سے حاصل ہونے والے اسباق اور پیغامات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی سامعین کی ایک بنیادی اور اہم ذمہ داری ہے۔

مرثیہ خوانوں کی ذمہ داریاں : مرثیہ خوانی کا مقصد رضائے الٰہی اور رضائے ِ اہلِ بیتؑ کے ساتھ ساتھ مرثیہ خوانی میں ایسے اشعار اور کلام پیش کرنا جو معتبر تاریخی حقائق اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق ہوں نیز مرثیہ صرف غم و اندوہ کا بیان نہ ہو بلکہ اس میں امام حسینؑ کے مقصدقربانی اور پیغام کو بھی اجاگر کیا جائے۔

نوحہ خوانوں کی ذمہ داریاں : نوحوں کا متن صحیح عقائد، تاریخی حقائق اور شان اہلبیت کے مطابق ہونا چاہیےنیز ایسے نوحیں اور ایسی آواز ہونا چاہیئے جو سامعین کے دلوں کو غمزدہ کر دے ،بے جا اور بھونڈیں اشاروں سے پرہیز کرنا چاہیئے۔

ماتم داروں کی ذمہ داریاں : ماتم کا مقصد امام حسینؑ اور شہدائے کربلا سے محبت اور وفاداری کا اظہار ہو، ماتم عزاداری کے تقدس، وقار اور دینی حدود کے مطابق انجام دیا جائے، ماتم کے دوران مجلس یا جلوس کے نظم وضبط میں خلل نہ آنے دیا جائے،ماتم داروں کو چاہیئے کہ اخلاقی اصولوں کی رعایت کریں اور اس طرح اپنے اخلاق سے حسینی تعلیمات کی نمائندگی کریں۔

اگر ان میں سے کوئی ایک گروہ بھی اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا نہ کرے تو یقینی طور پر مجلس کے مطلوبہ نتائج متاثر ہوں گے لہٰذا سبھی عزاداروں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینا چاہیئے تاکہ عزاداری کا اصل ہدف اور مقصد پورا ہو جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha