ہفتہ 18 اپریل 2026 - 18:21
مزاحمت نے اسلحے کی بات کرنے والے کو اصلاح پر مجبور کردیا

حوزہ/عالمی سیاست کے افق پر کبھی کبھی ایسے مناظر ابھرتے ہیں جہاں الفاظ بارود کی طرح جلتے ہیں اور لہجے تلواروں کی طرح چمکتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب طاقت اپنے غرور میں بولتی ہے اور دنیا سہم کر سننے لگتی ہے۔ مگر تاریخ کا ایک اور رخ بھی ہے، جہاں مزاحمت خاموشی سے کھڑی رہتی ہے، جہاں صبر ایک ڈھال بنتا ہے، اور جہاں استقامت آہستہ آہستہ سب سے بلند آواز کو بھی بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| عالمی سیاست کے افق پر کبھی کبھی ایسے مناظر ابھرتے ہیں جہاں الفاظ بارود کی طرح جلتے ہیں اور لہجے تلواروں کی طرح چمکتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب طاقت اپنے غرور میں بولتی ہے اور دنیا سہم کر سننے لگتی ہے۔ مگر تاریخ کا ایک اور رخ بھی ہے، جہاں مزاحمت خاموشی سے کھڑی رہتی ہے، جہاں صبر ایک ڈھال بنتا ہے، اور جہاں استقامت آہستہ آہستہ سب سے بلند آواز کو بھی بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں امریکہ اور ایران کے تعلقات اسی کشمکش کی جیتی جاگتی تصویر بن گئے۔ ابتدا میں جو زبان سنائی دی وہ دھمکیوں، دباؤ اور طاقت کے اظہار سے لبریز تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ فیصلہ اب میدانِ جنگ میں ہوگا، اور سفارت کاری کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ مگر وقت کی گردش نے ایک مختلف داستان رقم کی، ایسی داستان جس میں مزاحمت نے اپنا رنگ دکھایا اور طاقت کے نشے میں چور مغرور کو جھکنے پر مجبور کیا۔

یہ صرف سیاسی حکمت عملی کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک گہرا نفسیاتی اور فکری انقلاب تھا۔ ایک طرف وہ قوت تھی جو اسلحے کی زبان پر یقین رکھتی تھی، اور دوسری طرف وہ عزم جو اپنے اصولوں پر قائم رہنے کو کامیابی سمجھتا تھا۔ ایران نے اس دباؤ کے مقابلے میں جو راستہ اختیار کیا وہ صرف دفاعی نہیں بلکہ ایک بیانیہ تھا، خودداری، استقلال اور انکار کا بیانیہ۔

یہ منظر ایک ایسے مکالمے کی طرح ہے جس میں ایک کردار چیخ کر اپنی طاقت جتاتا ہے، جبکہ دوسرا خاموش رہ کر اپنی سچائی کو ثابت کرتا ہے۔ اور بالآخر وہی خاموشی گونج بن جاتی ہے، وہی صبر دلیل بن جاتا ہے، اور وہی استقامت فیصلہ کن قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ ابھرتا ہے کہ طاقت ہمیشہ بندوق کی نلی سے نہیں نکلتی، بلکہ بعض اوقات وہ دل کے یقین، قوم کے حوصلے اور قیادت کی حکمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ عناصر یکجا ہو جائیں تو بڑے سے بڑا دباؤ بھی اپنا اثر کھو دیتا ہے، اور سب سے بلند آواز بھی دھیمی پڑنے لگتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ بیانات میں نرمی، مذاکرات کی بات، اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں اس بات کی علامت بنیں کہ یکطرفہ دباؤ اپنی حدود کو پہنچ چکا ہے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں دھمکی کا لہجہ تبدیل ہونے لگا، اور اسلحے کی زبان کو پسِ پشت ڈال کر اصلاح، مفاہمت اور توازن کی بات کی جانے لگی۔

قابل غور ہے کہ یہ واقعہ ایک روشن مثال ہے کہ مزاحمت محض ردعمل نہیں بلکہ ایک فعال قوت ہے، ایسی قوت جو حالات کو بدل سکتی ہے، بیانیے کو نئی سمت دے سکتی ہے، اور طاقت کے توازن کو ازسرِ نو ترتیب دے سکتی ہے اور دنیا یہ سبق دیتی ہے کہ اگر اصول مضبوط ہوں اور عزم پختہ ہو تو بڑے سے بڑا دباؤ بھی انسان کو جھکا نہیں سکتا۔

یہ داستان دنیا کو ایک گہری حقیقت سے آشنا کرتی ہے کہ دنیا میں اصل کامیابی صرف قتل کرنے میں نہیں بلکہ اپنے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے حالات کو بدلنے میں ہے۔ جب مزاحمت اپنے عروج پر ہوتی ہے تو وہ صرف دفاع نہیں کرتی، بلکہ مخالف کو بھی اپنے طرزِ فکر پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں اسلحے کی گونج مدھم پڑ جاتی ہے اور اصلاح کی صدا سنائی دینے لگتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha