جمعہ 13 فروری 2026 - 16:19
مہدی موعود (عج) اہلِ ایمان کی حتمی فتح کی علامت اور عملِ صالح پر دیے گئے وعدوں کا مظہر ہیں

حوزہ / حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے لیے صحیح انتظار کا مطلب اسلامی احکام کو معطل کرنا نہیں بلکہ حق کے محاذ میں شامل ہونے کے لیے عملی آمادگی ہے۔ امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ظہور مستضعفین اور صالحین کی حاکمیت سے متعلق الٰہی وعدے کی تکمیل ہے اور اس سے فیض یاب ہونے کی شرط آج ہی ایمان اور عملِ صالح ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد شہید مطهری (رہ)نے اپنی ایک تصنیف میں حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے بارے میں قرآنی اور فعال نقطۂ نظر کو بیان کیا ہے جو اہلِ علم کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حضرت امام مہدی (عج) کے ظہور اور ان کے قیام کا اس قسم کا تصور جس سے اسلامی حدود اور قوانین میں ایک طرح کی تعطیل لازم آتی ہے اور جسے ایک قسم کی «اباحی گری» شمار کیا جانا چاہیے ہرگز اسلامی اور قرآنی معیار سے سازگار نہیں ہے۔

آیات قرآن کریم مذکورہ تعبیر کے بالکل برعکس سمت کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی موعود کا ظہور اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان جاری جدوجہد کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ہے جو بالآخر اہلِ حق کی حتمی کامیابی پر منتج ہوتی ہے۔ اس سعادت میں کسی فرد کی شراکت اسی وقت ممکن ہے جب وہ عملاً اہلِ حق کے گروہ میں شامل ہو۔

وہ آیات جن کی طرف روایات میں استناد کیا گیا ہے اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مہدی موعود (عج) اہلِ ایمان اور عملِ صالح کے لیے دیے گئے وعدے کا مظہر ہیں اور اہلِ ایمان کی حتمی فتح کی علامت ہیں:

«وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا…» (النور/۵۵)

اللہ تم میں سے ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں زمین میں جانشین بنائے گا جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو جانشین بنایا اور ان کے لیے اس دین کو جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے مستحکم کرے گا اور ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا تاکہ وہ بے خوف ہو کر صرف میری عبادت کریں اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرائیں۔

مہدی موعود (عج) کا ظہور مستضعفین اور حقیر سمجھے گئے لوگوں پر ایک الٰہی عنایت ہے تاکہ انہیں پیشوا بنایا جائے اور زمین میں الٰہی خلافت کے وارث قرار دیے جائیں:

«وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ» (القصص/۵)

مہدی موعود کا ظہور اس وعدے کی عملی تعبیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے قدیم ترین زمانوں سے آسمانی کتابوں میں صالحین اور متقیوں سے کیا ہے کہ زمین انہی کی ہوگی اور انجام کار متقیوں ہی کے لیے ہے:

«وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» (الانبیاء/۱۰۵)

«إِنَّ الْأَرْضَ لِلّٰهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» (الاعراف/۱۲۸)

مآخذ: قیام و انقلابِ مہدی (ع) اور مقالہ شہید صفحات ۵۵ تا ۵۷

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha