نور واحد سے بضعة منی کا عقد

حوزہ/تاریخِ انسانیت میں بعض نسبتیں محض دو افراد کے درمیان قائم ہونے والا رشتہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ مشیتِ الٰہی کے صحیفے پر ثبت ایسا نورانی عنوان بن جاتی ہیں جن کے زیرِ سایہ قرونِ عالم اپنی معنویت تلاش کرتے ہیں۔ انھیں نسبتوں میں ایک نسبت عقد نیرین و نورین ہے یہ وہ عقدِ قدسی ہے جس میں نور نے نور سے مصافحہ کیا۔

تحریر: مولانا گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ انسانیت میں بعض نسبتیں محض دو افراد کے درمیان قائم ہونے والا رشتہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ مشیتِ الٰہی کے صحیفے پر ثبت ایسا نورانی عنوان بن جاتی ہیں جن کے زیرِ سایہ قرونِ عالم اپنی معنویت تلاش کرتے ہیں۔ انھیں نسبتوں میں ایک نسبت عقد نیرین و نورین ہے یہ وہ عقدِ قدسی ہے جس میں نور نے نور سے مصافحہ کیا۔ عصمت نے ولایت کے حضور سرِ تعظیم خم کیا گویا معصومہ نے ایجاب کیا اور معصوم نے قبول فرمایا اس طرح یہ شادی عقد عصمتین بھی کہی گئی اور ادھر رسالت نے اپنی ابدی امانت کے نگینہ کو آغوش امامت کی انگشتری کے سپرد کردیا۔

یہ صرف حضرت مرتضیٰ علیہ السلام اور حضرت مرضیہ سلام اللہ علیہا کا ازدواجی اتصال نہ تھا، بلکہ اس کا انتظام رب ہیت نور اور مالک کعبہ نے معراج میں مرضیہ کو مصداق کوثر کی شکل میں اعطیناک کے جزدان میں صحیفہ حیا کو دیا اور خانہ کعبہ سے حضرت مرتضیٰ کو دیا پھر دونوں حقیقتوں کی تعبیر عمیق بحرین بے کراں کے التقاء کی وہ ساعتِ نور قرار پائی جسے قرآن حکیم نے اپنے اعجازِ بیان میں مرج البحرین کے عنوان سے مزین فرمایا: (مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِيَان فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤ وَالْمَرْجَان)(سورہ الرحمان ایت 30 29)

اہلِ دل نے ان آیات کے ظاہری مفہوم کے پسِ پردہ ایک اور جہان معنی کی جھلک دیکھی ہے ان کے نزدیک ایک بحر، بحرِ ولایتِ علی علیہ السّلام ہے اور دوسرا بحر، بحرِ عصمتِ زہراء علیہا السلام ان دونوں کے درمیان جو برزخ ہے وہ خود ذات مصطفیٰ ص کی حقیقتِ جامعہ ہے وہ حقیقت جس نے نور کو نور سے اس طور ملا دیا کہ اتحاد بھی باقی رہا اور امتیاز بھی محفوظ۔

پھر اسی اتصال نور سے لؤلؤ و مرجان کی صورت میں حسن علیہ السّلام و حسین علیہ السّلام کے وہ دو درخشاں گوہر نمودار ہوئے جن کی ضیا سے آفاق ہدایت ہمیشہ روشن رہیں گے گویا یہ عقد صرف ایک گھر کی تشکیل نہ تھا بلکہ امامت و شہادت صبر و ایثار، ایمان و عرفان اور بقاء دین کے پورے سلسلے کی بنیاد تھا۔

حضرت علی علیہ السّلام وہ نور ہیں جن کے متعلق رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا یہ قول جلی ہے: (أنا وعلی من نور واحد)

اور حضرت زہراء سلام اللہ علیہا وہ تجلی نور ہیں جن کے لیے قول نبوی ہے: فاطمة بضعة مني

پس جب نورِ رسالت کے پروردہ نورِ ولایت کا اتصال نورِ عصمت سے ہوا تو کائنات نے پہلی مرتبہ عبادت کو مجسم، تقویٰ کو متحرک، اور محبت کو معصوم مورت کے سانچہ میں ڈھلا دیکھا۔

اس عقد کا انعقاد زمین پر ہوا مگر اس کی صدائے بازگشت ساتوں آسمانوں کے طبقات میں گونجی روایتوں میں مذکور ہے کہ اہلِ آسمان نے اس نسبت پر تہنیت پیش کی اس لیے کہ یہ عقد دو اشخاص کے درمیان نہ تھا بلکہ دو تجلیاتِ الٰہیہ کے درمیان تھا ایک جانب عدالت شجاعت حکمت اور علم کا بحر عمیق ، اور دوسری طرف حیا، طہارت، عفت اور سکینہ کا دریائے نور جب یہ دونوں سمندر ملے تو انسانیت کو ایثار و کردار کی وہ کامل تفسیر نصیب ہوئی جس کی مثیل و نظیر تاریخ عالم و آدم پیش کرنے سے قاصر ہے۔

یہ وہ گھر تھا جہاں فقیری تھی مگر احساسِ محرومی نہ تھی، جہاں تنگ دستی تھی مگر قناعت کا قانون قائم تھا ، جہاں چکی کے پتھروں کی گردش ذکرِ الٰہی کا سارنگ بجا رہی تھی اور جہاں ظلمت شب میں محرابِ عبادت اشکوں کی شبنمی برسات گل بوٹوں کے وضو کا سامان فراہم کر رہی تھی شاید اسی لئے کسی شاعر کا بڑا حسین شعر ہے:

چمن میں رات کو گرتی ہے اس لئے شبنم

کہ پتہ پتہ کرے یاد تیری با وضو ہو کر

یہاں محبت خواہشات کی اسیر نہ تھی بلکہ معرفت کی مطیع تھی یہی وجہ ہے کہ علی ع کا تکلم عبادت تھی اور زہرا س کا تبسم تسبیح۔ اس گھر میں جو کی روٹی کی سادگی تھی مگر روحانیت کی ایسی رفعت کہ ملائکہ بھی آستانہ تطہیر پر اذنِ دخول طلب کرتے تھے۔

مرج البحرین کا عرفانی اشارہ یہ بھی ہے کہ دو عظیم حقیقتیں جب باہم ملتی ہیں تو ان کے اتصال سے فقط نسلیں نہیں جنم لیتیں بلکہ زمانوں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ علی ع و فاطمہ ع کے اس عقدِ نورانی سے فقط اولاد پیدا نہیں ہوئی بلکہ صبرِ زینب س حلم حسن ع شجاعت حسین ع عبادتِ سجاد ع علم باقر ع اور صداقت صادق ع اور موسی ع کا کاظم الغیظ رضا ع کی رضایت رب تقی ع کا تقوی نقی ع کی نقابت عسکری ع کی ہیبت اور بارہویں عج کی غیبت جیسے چراغ روشن ہوئے۔

گویا تاریخِ ہدایت کا ہر روشن باب اسی بحرین کی موجوں سے وابستہ ہے اور شاید یہی پانی سے روشنی کے نمودار ہونے کا استعارہ ہے شفق کربلا کی سرخی بھی اسی عقد کے افق سے طلوع ہوئی اور شام کے دربار میں زینب س کے لہجے کی دھمک بھی اسی گھر کی پرورش تھی۔

عقد نیرین کا ایک دقیق فکری پہلو یہ بھی ہیکہ اسلام نے ازدواج کو محض معاشرتی بندھن نہیں رہنے دیا بلکہ اسے سلوکِ الٰہی اور تکامل روح کا وسیلہ قرار دیا دنیا کے اکثر رشتے خواہشات کے گھیرے میں گھومتے ہیں مگر علی ع و فاطمہ ع کا رشتہ رضائے الٰہی کے محور پر قائم تھا۔ یہی سبب ہے کہ ان کی زندگی میں رنج و غم تھے مگر اضطراب پیہم نہ تھے، مصائب و مشکلات تھے مگر شکوہ و شکایت نہ تھا، اور محرومیاں تھیں مگر دلوں میں غیرِ خدا کی طلب نہ تھی۔

آج جب تعلقات مادیت کے بوجھ تلے اپنی روح کھوتے جارہے ہیں، عقدِ نورین انسانیت کو یہ درس دیتا ہے کہ رفاقت کا حقیقی حسن ایک دوسرے میں فنا ہونے میں نہیں بلکہ ایک دوسرے کو خدا تک پہنچانے میں ہے۔ محبت اگر معرفت سے خالی ہو تو وقتی جذبہ رہ جاتی ہے لیکن جب محبت عبادت بن جائے تو وہ نسلوں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔

لہٰذا عقدِ نیرین و نورین محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ آفاقِ معرفت میں کھلا ہوا ایک ایسا درِ نور ہے جس سے ولایت کی خوشبو، عصمت کی طہارت، اور توحید کی روشنی مسلسل پھوٹ رہی ہے۔

یہ وہ مرج البحرین ہے جس کی موجوں سے قیامت تک ہدایت کے لؤلؤ و مرجان نکلتے رہیں گے اور یہ وہ عقد ہے جس کے چراغ سے انسانیت ہمیشہ اپنے ظلمت کدوں کو روشن کرتی رہے گی۔

رب کریم اس عقد کے صدقہ میں اہل ایمان کے جوڑوں کو سلامت رکھے اور ہمیں عقد قاب قوسین کی سیرت طیبہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha