بے شعور دینداری

حوزہ/بے شعور دینداری اکثر انسان کو تنگ نظری، شدت پسندی، تعصب اور ظاہر بینی کی طرف لے جاتی ہے۔ کیونکہ جب دین پروری اور عبادت گزاری علم و بصیرت سے جدا رکھی جائے تودین کی حقیقی روح پژمردہ ہونے لگتی ہے۔ اس کے برعکس شعوری دینداری انسان کے اندر عاجزی، وسعت نظر، فکری پختگی اور اخلاقی حسن پیدا کرتی ہے۔

تحریر: حسین حامد (نگراں سکریٹری معاون کمیٹی تنظیم المکاتب کشمیر)

حوزہ نیوز ایجنسی| قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (اے رسول کہہ دیجیے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہو جائیں گے جو نہیں جانتے ہیں)

یہ آیت کریمہ صرف ایک استفسار نہیں ہے بلکہ شعور کی پکار ہے‘لفظوں میں ڈھلا ہوا ایک احساس ہے اور ہمارے سوچ کے دریچوں پر دستک ہے۔یہ انسانی شخصیت، ایمان، شعور اور زندگی کے مقصد کے بارے میں ایک عظیم قرآنی پیغام ہے ۔یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ علم محض کتابی معلومات تک محدود نہیں بلکہ یہ وہ معرفت الٰہی ہےجو دل کو روشن کرتی ہے ‘کردار کو پاکیزہ بناتی ہے اور زندگی کے ہر شعبے کو سنواردیتی ہے ۔ اسی لئے نبی اکرمﷺ کی حدیث مبارک نقل ہوئی ہے: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ علَیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

ایک اور حدیث مبارک میں نبی کریم ﷺکا ارشاد ہوا ہے : اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّينِ، فَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ مطلب یہ ہے کہ: تعلیم حاصل کرنا چاہیے چاہے چین جانا پڑے۔ کیونکہ تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

علم کے بارے میں مولا علی علیہ السلام کے عظیم ارشادات میں سے ایک ارشاد گرامی ہے۔

اَلْعِلْمُ ضالَّۃُ المُؤمِنُ یعنی علم مومن کی متاع گم شدہ ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کا ایک اور ارشاد گرامی بھی ہے: اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُوْمِنُ فَخُذَالْحِکْمَۃُ وَلَوْ مِنْ اَھْلِ النِّفَاقٍ یعنی حکمت (دانائی) مومن کی گمشدہ متاع ہے لہذا حکمت حاصل کرو اگر چہ وہ اہل نفاق ہی کے پاس کیوں نہ ہو۔

اہل بیت علیہم السلام نے علم اور اہل علم کی عظمت کو نہایت بلند انداز میںبیان فرمایا اور مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کی بھرپور ترغیب دی ہے۔ انؑ کی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کا حصول ایک ضرورت ہی نہیں بلکہ انسان کی روحانی اور فکری ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسلام نے علم کو مال و دولت سے کہیں زیادہ قیمتی قرار دیا ہے کیونکہ دولت صرف دنیا سنوارتی ہے جبکہ علم انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو روشن کرتا ہے۔

مذکورہ گفتگو کی روشنی میں یہ حقیقت نہایت واضح ہو جاتی ہے کہ حقیقی علم انسان کے اندر صرف معلومات کا اضافہ نہیں کرتا بلکہ اس کے عقل و شعور کو بیدار کر کے اس سے احکام الٰہی کی معرفت‘ اطاعت اور عملی پیروی کی طرف قائل کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شعوری دینداری اور بےشعور دینداری کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔علم و حکمت و بصیرت کے ساتھ احکام شریعت کا پابند ہونا شعوری دینداری کہلاتا ہے اور جہالت کی اسیری میں اعمال شریعت کا بجالانا بے شعور دینداری کہلاتا ہے۔ بےشعور دینداری اکثر رسم‘ عادات یا جذبات تک بس محدود رہتی ہے ۔حالات بدل جائیں تو اس کی کیفیت بھی بدل جاتی ہے۔ لیکن شعوری دینداری فہم و ادراک کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے اس لئے وہ انسان کو فتنوں‘شبہات اور خواہشات کے طوفان میں بھی ثابت قدم رکھتی ہے۔ دین اسلام رسومات‘ظاہری اعمال یا محدود عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر اور مکمل ذاتِ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی، روحانی اور فکری زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بعض لوگ دینداری کا دعویٰ تو کرتے ہیں‘ مذہبی شعار بھی اختیار کرتے ہیں‘ مگر ان کی دینداری شعور، حکمت اور صحیح فہم سے خالی ہوتی ہے۔ ایسی بے شعور دینداری اکثر انسان کو تنگ نظری، شدت پسندی، تعصب اور ظاہر بینی کی طرف لے جاتی ہے۔ کیونکہ جب دین پروری اور عبادت گزاری علم و بصیرت سے جدا رکھی جائے تودین کی حقیقی روح پژمردہ ہونے لگتی ہے۔ اس کے برعکس شعوری دینداری انسان کے اندر عاجزی، وسعت نظر، فکری پختگی اور اخلاقی حسن پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کو صرف عبادات گزار نہیں بناتی بلکہ ایک باکردار، ذمہ دار، بااخلاق ‘صاحب بصیرت اور قومی فلاح و اصلاح کے لئے ایثار پر مبنی بے لوث خدمت کرنے والا انسان بناتی ہے۔

بے شعور دینداری ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان عبادات اور مذہبی اعمال کی ظاہری صورت تو اختیار کر لیتا ہے مگر ان کی روح، مقصد اور حقیقی پیغام سے ناواقف رہتا ہے۔ بےشعور دیندار نماز تو ادا کرتا ہے لیکن نماز اُسے برائیوں، ظلم، تکبر اور بےحیائی سے نہیں روکتی ‘حالانکہ قرآن نے نماز کی یہی تاثیر بیان کی ہے: إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (بےشک نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے)

وہ روزہ رکھتا ہے مگر اس کے اندر صبر، تقویٰ، ہمدردی اور نفس کی اصلاح پیدا نہیں ہوتی۔ اس کی زبان ذکر سے تر ہوتی ہے۔ لیکن اس کے اخلاق وآداب میں نرمی‘معاملات میں دیانت اور رویّوں میں سلیقہ دکھائی نہیں دیتا ۔گویا عبادت اس کے جسم تک محدود رہتی ہے دل اور کردار تک نہیں پہنچتی۔

قرآن مجید انسان کو محض ظاہری طور پر دین اختیار کرنے کی دعوت نہیں دیتا بلکہ بار بار انسان کے اندر عقل، شعور اور غور و فکر کو بیدار کرنا چاہتا ہے اس لئےقرآن میں جگہ جگہ ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں:

أَفَلَا تَعْقِلُونَ

کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ

کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے۔

﴿لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

تاکہ تم غور و فکر کرو۔

یہ انداز اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام انسان سے ایک باشعور اور سمجھی ہوئی دینداری کا مطالبہ کرتا ہے نہ کہ اندھی پیروی اور بے سوچے سمجھے عمل کا تقاضا کرتا ہے۔اندھی پیروی یا اندھی تقلید سے مراد کسی شخص‘گروہ یا نظرئے کے بغیر سوچے سمجھے پیروی کرنا ہے یعنی یہ وہ طرز عمل ہے جس میں انسان بغیر دلیل کے صرف دوسروں کی پیروی ہے۔بعض مذہبی حلقوں میں ایک ہی مکتب فکر کے اندر کسی فقہی ‘نظری یا عقائدی اختلاف کےبغیر الگ الگ دھڑے اور جماعتیں قائم کرلی جاتی ہیں ان کی قیادت اکثر مخصوص خاندانوں تک محدود رہتی ہے جہاں مذہبی پیشوائی روحانی خدمت کے بجائے خاندانی وراثت بن جاتی ہے۔یہ خاندان نسل در نسل اپنے اثر و رسوخ‘عقیدت اور مالی مفادات کو محفوظ رکھنے کے لئے عوام کے جذبات اور مذہبی وابستگی کو استعمال کرتے ہیں۔افسوس کہ شعور اور تحقیق سے دور لوگ شخصیت پرستی اور اندھی تقلید میں اس قدر گرفتار ہوجاتے ہیں کہ دین کی اصل روح کو پس پشت ڈال کر فرقہ وارانہ مراکز کی طاقت اور دولت بڑھانے کو نیکی سمجھنے لگتے ہیں جو بے شعوری دینداری کی حد ہے۔اسطرح مذہب کو جو آزادی ِ فکر اور اخلاقی بیداری دیتا ہے‘ بعض ہاتھوں میں استحصال کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔

اسلئے معلوم ہوا ہے کہ حقیقی دینداری وہ ہے جس میں علم بھی ہو اور شعور بھی ہو۔ جب انسان دین سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوتا ہے تو اس کے اعمال میں خوبصورتی آتی ہے‘ اس کے اخلاق سنور جاتے ہیں اور اس کی شخصیت دوسروں کے لیے مثال بن جاتی ہے۔

وہ دینداری جو شعور سے خالی ہو انسان کے باطن کو خالی چھوڑ دیتی ہے اور اس کو ریاکا‘سخت دل اور انسانیت و سماج کے لئے خطر ناک اور نقصان دہ بنا دیتی ہے۔ جبکہ حقیقی باشعور دینداری جو علم ‘حلم اور اخلاق و آداب کے ساتھ ہو اس کو دوسروں کے لئے رحمت بنا دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم دین کو سمجھ کر اپنائیں اور اپنی زندگی کو علم، شعور اور اخلاص سے روشن کریںاور بےشعور دینداری سے ہر طرح بچے رہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha