منگل 23 جون 2026 - 16:30
بحرین میں عزاداری پر پابندیوں کے باوجود محرم کے جلوس جاری

حوزہ/ بحرین میں محرم الحرام کے جلوسوں اور عزاداری کی مجالس پر عائد حکومتی پابندیوں کے باوجود عزاداروں کی بڑی تعداد رات گئے سڑکوں پر جلوسوں کی شکل میں نکل رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ جلوس نہ صرف عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کا مظہر ہیں بلکہ حکومتی پابندیوں کے خلاف عوامی ردِعمل اور مزاحمت کی علامت بھی بن چکے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں محرم الحرام کے جلوسوں اور عزاداری کی مجالس پر عائد حکومتی پابندیوں کے باوجود عزاداروں کی بڑی تعداد رات گئے سڑکوں پر جلوسوں کی شکل میں نکل رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ جلوس نہ صرف عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کا مظہر ہیں بلکہ حکومتی پابندیوں کے خلاف عوامی ردِعمل اور مزاحمت کی علامت بھی بن چکے ہیں۔

بحرین میں محرم الحرام کی عزاداری ایک بار پھر حکومتی پابندیوں اور سکیورٹی اقدامات کے باوجود پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے جلوسوں اور عزاداری کی سرگرمیوں کے لیے مقررہ اوقات کے خاتمے کے بعد بھی مختلف علاقوں میں عزادار رات گئے مجالس اور ماتمی جلوسوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں میں عزادار آدھی رات کے بعد جمع ہوتے ہیں اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی یاد میں نوحہ خوانی، مرثیہ خوانی اور سینہ زنی کرتے ہیں۔ ان جلوسوں میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ وہ عزاداری کو اپنی دینی اور مذہبی شناخت کا اہم حصہ سمجھتے ہیں اور اس کے تسلسل کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

مقامی مبصرین کے مطابق حالیہ پابندیوں کے بعد عزاداری کی بعض سرگرمیوں نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ بعض جلوسوں کے منتظمین اور نوحہ خواں اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے، جبکہ شرکاء نظم و ضبط کے ساتھ عزاداری انجام دیتے ہیں۔ ان تقریبات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہو رہی ہے، جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ماضی کی سیاسی تحریکوں کا دور نہیں دیکھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی اقدامات کا مقصد عزاداری کی سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا، تاہم اس کے برعکس عوام میں عزاداری کے حوالے سے جذبات اور وابستگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سخت پابندیوں نے محرم کے جلوسوں کو ایک نئی سماجی اور عوامی اہمیت عطا کر دی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق عزاداری سید الشہداء (ع) کے دوران پڑھے جانے والے نوحوں اور اشعار میں دینی، اخلاقی اور سماجی موضوعات کے ساتھ ساتھ بعض سیاسی پیغامات بھی شامل ہوتے ہیں۔ شرکاء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت، ظلم کے خلاف قیام اور حق و انصاف کے لیے قربانی کے پیغام کو اپنی زندگیوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بحرین میں محرم الحرام صرف ایک مذہبی مناسبت نہیں بلکہ عوامی سطح پر اتحاد، مذہبی شناخت اور اہل بیت علیہم السلام سے عقیدت کے اظہار کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پابندیوں اور نگرانی کے باوجود عزاداری کی سرگرمیاں جاری ہیں اور مختلف علاقوں میں عزادار بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی یاد اور کربلا کا پیغام ہر دور میں ظلم کے مقابل حق، انصاف اور استقامت کی علامت رہا ہے، اور یہی پیغام آج بھی بحرین کے عزاداروں کو محرم کی مجالس اور جلوسوں میں شریک ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha