اتوار 17 مئی 2026 - 12:44
بحرین میں شیعوں پر ہو رہے مظالم کے خلاف علماء و طلاب حوزہ علمیہ قم کا احتجاجی مظاہرہ

حوزہ/ حرمِ حضرت معصومہ (س) کے شبستانِ امام خمینی (رہ) میں ہونے والے عظیم اجتماع میں ہزاروں علماء و طلاب نے خبردار کیا کہ بحرین میں شیعوں پر ہونے والے ظلم و ستم نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ جو حکومت اپنی عوام کی پناہ گاہ نہ بن سکے، وہ دیر یا زود خود سقوط کر جائے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں حضرت معصومہ (علیہا السلام) کے روضۂ اقدس کے اندر واقع شبستان امام خمینی (رہ) میں حوزہ علمیہ قم کے علما، طلاب کا ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔ اس اجتماع کا مقصد بحرین، کویت اور امارات سمیت پورے خطے میں مظلوم شیعوں کے خلاف جاری مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

حوزہ علمیہ قم کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے اپنے بیان کا آغاز سورہ ہود کی آیت نمبر 113 «وَلَا تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ» (یعنی ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ آتش جہنم تمہیں بھی اپنی جانب کھینچ لے گی) سے کیا اور اعلان کیا کہ خاموشی ظلم پر مہرِ قبول ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں چند نکتے کی جانب اشارہ کیا:

پہلا نکتہ: انسان کی عزت کو پامال نہ کیا جائے

بیانیہ میں کہا گیا کہ اسلام نے انسان کو "اشرف المخلوقات" قرار دیا ہے۔ ارشاد باری ہے: «وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ» (بنی اسرائیل، 70)۔ بحرین میں بغیر ثبوت کے گرفتاریاں، تشدد، جیلوں میں برتاؤ، دینی اداروں پر پابندیاں اور علما و طلاب کو نشانہ بنانا اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف انسانی کرامت پامال ہو رہی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

دوسرا نکتہ: بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی

مقررین نے بتایا کہ بحرین کی حکومت نے عالمی معاہدوں کے تحت یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے شہریوں کو آزادیِ رائے، مذہبی آزادی اور حقوقِ نسواں دے گی۔ لیکن عملاً وہاں مظاہروں کو تشدد سے کچلا جا رہا ہے، بولنے کی آزادی ختم کر دی گئی ہے اور مذہبی اقلیتوں کو ستایا جا رہا ہے۔ یہ سب 'انسانی حقوق اور 'بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق' کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تیسرا نکتہ: مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی سازش

بیانیہ میں خبردار کیا گیا کہ بحرین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک بڑی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ مقصد مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور ان کی توجہ اصل دشمن (صیہونی حکومت اور استعماری طاقتوں) سے ہٹانا ہے۔ علما و طلاب کو نشانہ بنا کر دراصل عوام کو ان کے حقیقی رہنماؤں سے کاٹا جا رہا ہے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ یہ گھٹیا پالیسیاں صرف اسرائیل اور امریکہ کے مفاد میں ہیں، عوام کے نہیں۔

چوتھا نکتہ: حکمرانوں کے نام پیغامِ عبرت

انہوں نے بحرین اور خلیجی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جس حکومت نے اپنی عوام کے دکھ کو نہیں سمجھا، اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ ظلم و تشدد سے کبھی کوئی اقتدار مضبوط نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ انہوں نے خیرخواہی کے ساتھ کہا کہ ابھی وقت ہے کہ اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے اور مظلوموں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہ حکومتیں اندرونی طور پر ڈھیر ہو جائیں گی۔

مطالبات:

آخر میں انہوں نے عالمی برادری سے تین اہم مطالبے کیے:

1. بحرین میں جاری نسل کشی اور مظالم کو فوری طور پر روکا جائے۔

2. قیدیوں کے اہل خانہ تک انسانی امداد اور قانونی مدد پہنچائی جائے۔

3. بین الاقوامی میڈیا اس سانحے کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے دنیا کے سامنے لائے۔

اجتماع کا اختتام اس عزمِ محکم پر ہوا کہ جب تک بحرین کے مظلوم شیعوں کو انصاف نہیں ملتا، وہ ان کی آواز بن کر رہیں گے اور ظلم کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha