۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
مولانا ارشد مدنی

حوزہ/ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈیڑھ سو سے زیادہ ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے تراشے اور اہم تفصیلات پٹیشن کے ساتھ عدالت میں داخل کی گئی ہیں، جنمیں صحافتی اصولوں و اخلاق کو تارتار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری کررہے ہیں اور اپنی ان حرکتوں سے انہوں نے ملک کے امن واتحاد اور سلامتی کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،نئی دہلی/ جھوٹ اور نفرت انگیزیزی کے سہارے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیا Print Media کے خلاف مولانا ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر 6/اپریل 2022 کو داخل پٹیشن پر آج گیارہویں سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے آج سالیسٹر جنرل کے ذریعہ نفرت آمیز تقاریر ہیٹ کرائم (نفرت آمیز جرائم) اور ٹیلی ویژن قوانین کو چیلنج کرنے والی عرضداشتوں کی فہرست داخل نہ کرنے پربرہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس اے ایم کھانولکر نے سالیسٹر جنرل آف انڈیا کو ناراضگی بھرے لہجے میں کہا کہ گذشتہ سماعت پر ہی آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ فہرست مرتب کرکے عدالت میں پیش کی جائے لیکن آفس رپورٹ کے مطابق یونین آف انڈیا کی جانب سے رجسٹری میں کوئی فہرست داخل نہیں کی گئی۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج ہی فہرست تیار کرکے عدالت میں داخل کریں گے۔ اس درمیان میڈیا پر کارروائی کرنے کو لیکر سپریم کورٹ میں داخل جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن کی سماعت سپریم کورٹ علیحدہ سے 20 جون کو کرے گی اور دیگر عرضداشتوں پر بھی الگ الگ تاریخوں پر سماعت ہوگی۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے آج عدالت میں سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول پیش ہوئے جس میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سب سے پہلے جمعیۃ علماء ہند نے پٹیشن داخل کی تھی جس پر عدالت نے یونین آف انڈیا نوٹس جاری کیا تھا لیکن اس درمیان دریگر فریق بھی عدالت سے رجوع ہوئے جس کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہوگیا۔

وکلاء نے عدالت سے گذارش کی کہ جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کو چیلنج کیا گیا ہے پر سماعت علیحدہ کرنا چاہیے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ کے جسٹس کھانولکر، جسٹس ابھئے اور جسٹس جے بی پاردی والا نے حکم دیا کہ عرضداشتوں کو ان کے نیچر کے حساب سے علیحدہ کیا جائے اور گرمیوں کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے پیش کیا جائے۔ اسی درمیان دھرم سنسد پر پابندی لگانے والی پٹیشن پر سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت سے مجوزہ دھرم سنسد پر پابندی لگانے کی عدالت سے گذارش کی جسے عدالت نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ مستقبل میں کیا ہوگا ابھی اس کے خلاف پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ البتہ عدالت یہ اجازت دے رہی ہیکہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران اگر دھرم سنسد منعقد ہوئی تو آپ عدالت سے رجوع کرسکتے ہو۔ چھٹیوں کے دوران بیٹھنے والی عدالت آپ کے مقدمہ کی سماعت کرے گی۔


آج سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے۔صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل پٹیشن پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی بنے ہیں۔اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈیڑھ سو سے زیادہ ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے تراشے اور اہم تفصیلات پٹیشن کے ساتھ عدالت میں داخل کی گئی ہیں، جن میں انڈیا ٹی وی، زی نیوز، نیشن نیوز، ری پبلک بھارت، ری پبلک ٹی وی، شدرشن نیوز اور نیوز18وغیرہ جیسے چینل بھی شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں واخلاق کو تارتار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری کررہے ہیں اوراپنی ان حرکتوں سے انہوں نے ملک کے امن واتحاد اور سلامتی کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔

تبلیغی مرکز کو لیکر نفرت آمیز رپورٹ کرنے والے اخبارات جن کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہیں دینک جاگرن، لوک مت،دینک بھاسکر، ٹائمز آف انڈیا، نو بھارت، دی ہندو، دوییا بھاسکر، وجئے کرناٹک، دی ٹیلی گراف، اسٹار آف میسور، ممبئی سماچار، تہلکہ میگزین، انڈیا ٹودے و دیگر شامل ہیں جن کی تفصیلات عدالت میں بذریعہ حلف نامہ داخل کی گئی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 11 =