حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المصطفیٰ پاکستان کے نمائندے حجت الاسلام سید علی شمسی پور نے کراچی پاکستان میں سورۂ مبارکۂ حجرات کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ نزولِ قرآن کے پس منظر کا علم، قرآن فہمی کے لیے مددگار ہے۔
انہوں نے کہا کہ تفسیرِ قرآن شروع کرنے سے پہلے چند بنیادی امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر ان اصولوں کی رعایت نہ کی جائے تو تفسیر "تفسیر بالرائے" (اپنی رائے سے تفسیر) شمار ہوگی، یعنی انسان قرآن کی آیات کو اپنی پسند و ناپسند اور ذاتی نظریات کے مطابق بیان کرنے لگے گا۔
انہوں نے اس سوال تفسیر بالرائے کیا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: مَن فَسَّرَ القُرآنَ بِرَأیِهِ ... فَليَتَبَوَّأ مَقعَدَهُ مِنَ النَّار. یعنی: جو شخص قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔
حجت الاسلام شمسی پور نے آیاتِ قرآن کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن کی بعض آیات کئی جہات اور معانی رکھتی ہیں: کچھ آیات عام لوگوں کے لیے ہیں، کچھ مخصوص افراد کے لیے اور بعض آیات ایسی ہیں جن کا حقیقی مفہوم امینِ وحی، یعنی پیغمبرِ اکرم اور اہلِ بیت علیہم السلام کے ذریعے ہی واضح ہوتا ہے۔ اسی بنا پر تفسیرِ اہلِ بیتؑ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
انہوں نے تفسیر سے پہلے ضروری علوم کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی صحیح تفسیر کے لیے درج ذیل علوم کا حصول ضروری ہے:
علومِ ادبیات
لغت: صرف، نحو، علمِ معانی و بیان
قرائتِ قرآن کی معرفت
قرآن کی مختلف قرائت کو جاننا ضروری ہے، کیونکہ بعض مقامات پر قرائت کے اختلاف سے معنی میں فرق آجاتا ہے؛ جیسے آیت "وَأَرْجُلَكُمْ" کے اختلاف نے فقہی مسائل میں اختلاف پیدا کیا۔
ناسخ و منسوخ کی معرفت
یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سی آیت کس حکم کو منسوخ کرتی ہے اور کون سی منسوخ ہوچکی ہے۔
اسبابِ نزول
آیات کے نزول کے پس منظر کو جاننا معنی کے درست فہم میں مدد دیتا ہے۔
علمِ حدیث اور علمِ رجال
احادیث کی صحت اور راویوں کی وثاقت کو پرکھنے کے لیے یہ علوم نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے تفسیر کے منابع اور اقسامِ تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ تفسیر کے مختلف منابع (مآخذ) اور اقسام ہیں، نیز اس کے مختلف اسالیب اور مناہج پائے جاتے ہیں، جنہیں سمجھے بغیر مکمل فہم ممکن نہیں۔
اخلاص اور نیت کی پاکیزگی
تفسیرِ قرآن کے لیے سب سے اہم شرط اخلاص اور نیت کی پاکیزگی ہے۔ قرآن کی خدمت محض علمی مشغلہ نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے، جس کے لیے تقویٰ اور خلوص لازم ہیں۔ محکم اور متشابہ آیات، مطلق اور مقید،عام اور خاص کی پہنچان؛ ان اصولوں کو ملحوظ رکھ کر ہی قرآنِ کریم کی صحیح اور معتبر تفسیر کی جاسکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ