جمعہ 20 فروری 2026 - 18:03
چراغِ تقویٰ کی خاموش روشنی؛ شیخ غلام حسین مقدس مہدی آبادی کی بابرکت زندگی پر ایک نظر

حوزہ/زندگی کی کتاب میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو شور و غوغا سے نہیں، بلکہ کردار کی تابانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ شہرت کے طلبگار نہیں ہوتے، مگر تاریخ ان کے نقوش کو اپنے اوراق میں محفوظ کر لیتی ہے۔ سرزمینِ بلتستان جو علم و عرفان کی آماجگاہ رہی ہے، نے جن نفوسِ قدسیہ کو جنم دیا اُن میں حجت الاسلام شیخ غلام حسین مقدس کا نام ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

تحریر: تطہیر حسین

حوزہ نیوز ایجنسی| زندگی کی کتاب میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو شور و غوغا سے نہیں، بلکہ کردار کی تابانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ شہرت کے طلبگار نہیں ہوتے، مگر تاریخ ان کے نقوش کو اپنے اوراق میں محفوظ کر لیتی ہے۔ سرزمینِ بلتستان جو علم و عرفان کی آماجگاہ رہی ہے، نے جن نفوسِ قدسیہ کو جنم دیا اُن میں حجت الاسلام شیخ غلام حسین مقدس کا نام ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

آپ نہ صرف نامور نجفی علماء میں شمار ہوتے تھے، بلکہ پیکرِ تقویٰ، مجسمۂ اخلاص، سراپا ایثار اور اخلاقِ فاضلہ کے آئینہ دار تھے۔ آپ کی حیات سراپا خدمت اور وفا کا استعارہ تھی۔ شخصیت میں سادگی، وقار اور روحانیت کا حسین امتزاج نمایاں تھا۔ ظاہری حلیے میں بھی آپ عارفِ زمان حضرت آیت اللہ محمد تقی بہجت کی یاد تازہ کرتے تھے اور عرفانِ عملی میں گویا اُن کی ایک جھلک محسوس ہوتی تھی۔ آپ کا سکوت بھی درس دیتا تھا اور آپ کی مسکراہٹ بھی تربیت کا وسیلہ بن جاتی تھی۔

آپ نے کبھی اپنی ذات کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی؛ دین اور خدمتِ خلق ہمیشہ آپ کی ترجیح رہے۔

شیخ حسن مہدی آبادی کے ارتحال کے بعد آپ تادمِ حیات محمدیہ ٹرسٹ پاکستان کے سرپرستِ اعلیٰ رہے۔ اس منصب کو آپ نے اعزاز نہیں، بلکہ امانت سمجھا۔ آپ کی سرپرستی میں دینی مدارس، دارالایتام، مکاتبِ قرآنی اور فلاحی منصوبوں کا جو وسیع سلسلہ گلگت بلتستان خصوصاً بلتستان کے طول و عرض میں قائم ہوا، وہ آپ کے عزم و اخلاص کا روشن ثبوت ہے۔ شاید ہی کوئی گاؤں ایسا ہو جہاں محمدیہ ٹرسٹ کے زیر اہتمام مکاتبِ قرآنی قائم نہ ہوں۔ یہ ایک خاموش مگر مؤثر انقلاب تھا، جس نے قریہ قریہ تعلیماتِ آلِ محمدؐ کو پہنچایا۔

آپ کی زندگی کا نمایاں پہلو نفسِ امّارہ پر کامل کنٹرول اور مجاہدۂ نفس تھا۔ نشست و برخاست، لباس و گفتار اور طرزِ معاشرت میں سادگی جھلکتی تھی۔ کویت میں قیام بھی آپ نے دنیاوی آسائش کے لیے نہیں بلکہ خدمتِ دین کے لیے اختیار کیا۔ آپ کے لیے زندگی کا مقصد رضائے الٰہی اور بندگانِ خدا کی خدمت تھا۔
دارالایتام کی تعمیر اور یتیم بچوں کی کفالت آپ کے مشن کا بنیادی حصہ تھی۔ آپ نے محروم بچوں کو نہ صرف شفقتِ پدری دی بلکہ انہیں دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کیا۔

آپ کا ایمان تھا کہ اگر یتیم بچے تعلیم و تربیت سے محروم رہ جائیں تو معاشرہ ایک قیمتی سرمایہ کھو دیتا ہے۔ اسی احساس کے تحت آپ نے تعلیم، تربیت اور اخلاقی پرورش کا منظم نظام قائم کیا۔ بیواؤں، فقراء اور مساکین کی دستگیری آپ کا معمول تھا۔ آپ کے در سے کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہ لوٹتا۔

آپ کی تواضع ضرب المثل تھی۔ بڑے علما کے سامنے انکسار کا پیکر اور عام لوگوں کے ساتھ شفقت کا مظہر نظر آتے۔ آپ نے گمنامی میں رہ کر وہ خدمات انجام دیں جو صدقۂ جاریہ کی صورت میں آج بھی جاری ہیں۔ حدیثِ نبویؐ کے مطابق انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے صدقۂ جاریہ، علمِ نافع اور اولادِ صالح کے۔ آپ کی حیات ان تینوں اوصاف کا حسین امتزاج تھی۔

آپ کے فرزندِ ارجمند حجۃ الاسلام شیخ جواد، آپ کی تربیت کے روشن آئینہ دار ہیں۔ وہ جامعہ محمدیہ مہدی آباد میں تدریس اور تبلیغِ دین میں مصروف ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے صرف ادارے قائم نہیں کیے بلکہ نسلوں کی فکری و روحانی تربیت بھی کی۔

9 فروری 2026ء (20 شعبان المعظم 1447ھ) کو اسلام آباد میں آپ کی رحلت کی خبر نے بلتستان سمیت پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ آپ کے جسدِ خاکی کو بائی روڈ بلتستان منتقل کیا گیا۔ مرکزی جامع مسجد امامیہ سکردو میں صدر انجمن امامیہ بلتستان و نائب امام جمعہ آغا سید باقر الحسینی کی اقتدا میں ہزاروں افراد نے نمازِ جنازہ ادا کی۔ ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمزدہ تھا۔ بعد ازاں آبائی گاؤں مہدی آباد کھرمنگ میں امام جمعہ مرکزی جامع مسجد گلگت آغا سید راحت حسین الحسینی کی امامت میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور ہزاروں سوگواروں کی آہوں کے درمیان آپ کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔

یہ منظر گواہ تھا کہ آپ نے دلوں پر حکومت کی تھی۔ لوگ آپ کو منصب کے سبب نہیں بلکہ کردار کی وجہ سے چاہتے تھے۔ آپ نے ثابت کیا کہ عظمت شہرت میں نہیں، اخلاص میں ہے؛ کامیابی دولت میں نہیں، خدمت میں ہے۔

آپ ایک فرد نہیں، بلکہ ایک تحریک تھے — تعلیم کی تحریک، تربیت کی تحریک، خدمت کی تحریک اور عرفانِ عملی کی تحریک۔ آپ نے یہ پیغام دیا کہ دین کی خدمت کے لیے بڑے وسائل نہیں بلکہ بڑا دل درکار ہوتا ہے۔

بلاشبہ آپ کی رحلت ایک عظیم خلا ہے، مگر آپ کے قائم کردہ ادارے، تربیت یافتہ شاگرد اور سنوارے ہوئے کردار اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ائمہ معصومین علیہم السلام کی شفاعت نصیب فرمائے اور ہمیں آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔

آمین یا رب العالمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha