حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حرم امام حسین علیہ السلام کے زیرِ اہتمام چلنے والا تعلیمی ادارہ، وارث الانبیاء سکول اسلام آباد میں 15 شعبان المعظم کے مقدس موقع پر امامِ زمانہؑ، منجیٔ بشریت، حضرت امام مہدیؑ کی ولادتِ باسعادت نہایت عقیدت سے منائی گئی۔

اس بابرکت تقریب کا مقصد سٹوڈنٹس میں روحانی بیداری، فکری شعور اور انتظارِ امام سے متعلق اخلاقی و سماجی ذمہ داریوں کا ادراک پیدا کرنا تھا۔
اس محفلِ جشن کی صدارت اور کلیدی خطاب کے لیے مہمان خصوصی کے طور پر معروف عالم دین قبلہ شیخ احمد حسین فخرالدین تشریف لائے۔

تقریب کا باضابطہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد سٹوڈنٹس نے نعت، منقبت، شاعری اور امام زمانہ عجل الله فرجہ کی ولادتِ باسعادت اور آپ کی آفاقی شخصیت کی اہمیت کو بیان کرنے کے لیے تقریریں پیش کیں۔
پروگرام کا ایک نمایاں اور فکری حصہ وارث الانبیاء سکول کے ذہین اور ہونہار سٹوڈنٹس کا علمی ڈسکشن کا سیشن بھی تھا، جس میں چار منتخب سٹوڈنٹس نے منتظرینِ امام کی ذمہ داریوں، دورِ غیبت کی معنویت اور موجودہ دور میں دینی و سماجی فرائض پر اہم سوالات اور ان کے مدلل جوابات پیش کئے۔

اس علمی ڈسکشن نے سٹوڈنٹس کی بلند فکری سطح، خوداعتمادی، تنقیدی سوچ، علمی بصیرت اور اظہارِ خیال کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔
جشنِ مہدی موعود میں سٹوڈنٹس نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیے ہوئے تعلیمی چارٹس، پوسٹرز اور دیگر آرٹس اور فن پارے پیش کئے، جن کے ذریعے انہوں نے امامِ زمانہؑ کی تعلیمات اور اپنے اعلیٰ مقاصد سے وابستگی کا اظہار کیا۔

پروگرام میں ایک خصوصی کارنر بعنوانِ "گوشۂ انتظار" قائم کیا گیا، جہاں سٹوڈنٹس نے امامؑ سے اپنی محبت، احساسات اور امیدوں کو تحریری صورت میں پیش کیا؛ مزید برآں ایک اور کارنر میں سٹوڈنٹس کی جانب سے امامِ زمانہؑ (عج) کو لکھے گئے خطوط نمائش کے لیے رکھے گئے، جو عقیدت و خلوص کا عملی مظہر تھے۔

تقریب میں حفظ قرآن کا عملی مظاہرہ بھی شامل تھا۔
اس قرآنی پریزنٹیشن میں مختصر عرصے کے دوران مکمل حفظ کیے گئے قرآن مجید کے چار پاروں سے آیات کو مختلف طریقوں سے پیش کیا گیا۔
مہمانانِ گرامی، اساتذہ اور شرکاء نے صفحہ نمبر، آیت نمبر یا آیت کے چند الفاظ کی تلاوت کرکے حفاظ سے آیات کی مکمل تفصیل کے بارے میں مختلف سوالات کئے، سٹوڈنٹس نے جن کے مکمل اور فوری جوابات دے کر شرکائے محفل سے خوب داد تحسین وصول کیا۔
حفظ قرآن کے اس عملی مظاہرے کا مقصد قرآنی تعلیمات کو عملی زندگی سے جوڑنا تھا۔


وارث الانبیاء سکول کے ہونہار سٹوڈنٹس نہ صرف حفظ قرآن کے مختلف پہلؤوں پر مہارت حاصل کر رہے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ ماڈرن ایجوکیشن میں بھی بھرپور مہارتیں حاصل کر رہے ہیں؛ اسی تسلسل میں چند سٹوڈنٹس نے سائنسی پروجیکٹس بھی پیش کیے، جن میں ایک روبوٹک سیکیورٹی ڈیٹیکٹر خاص طور پر قابلِ توجہ تھا، جو جدید ٹیکنالوجی کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
مدرسہ حفظُ القرآن، اسکردو کے طلبہ نے بھی پروگرام میں شرکت کی اور تواشیح پیش کر کے روحانی فضا کو مزید مؤثر اور پُرکیف بنا دیا۔

تقریب کا اختتام نہایت عقیدت کے ساتھ دعائے فرج پر ہوا، جس میں امامِ زمانہؑ (عج) کے ظہور کی عاجزانہ دعا اور عالمِ انسانیت میں عدل و امن کے قیام کی تمنا کی گئی۔
یہ تقریب مجموعی طور پر وارثُ الانبیاء اسکول کے اس عزم کی عکاس تھی کہ ادارہ دینی اقدار، فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیتوں اور جدید سائنسی شعور کو ایک منظم اور علمی تعلیمی ڈھانچے میں پروان چڑھا رہا ہے۔










آپ کا تبصرہ