حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،نئی دہلی/ جنت البقیع کی تعمیرِ نو، مقدس اسلامی ورثے کی بحالی اور اہلِ بیتِ اطہارؑ و اصحابِ رسولؐ کے مزارات کی عظمتِ رفتہ کو بحال کرنے کے مطالبے کو لے کر ملک ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں البقیع آرگنائزیشن، صوفی اسلامک بورڈ اور صوفی اسلامک مشن کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان بین المذاہب و بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، دانشوروں، سماجی و سیاسی رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور فدائیانِ رسولؐ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سعودی حکام سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ مدینہ منورہ کے تاریخی اور مقدس قبرستان جنت البقیع کی فوری تعمیرِ نو کر کے اس کی تاریخی، روحانی اور اسلامی حیثیت کو بحال کیا جائے۔

کانفرنس ایوانِ غالب، نئی دہلی میں منعقد ہوئی، جہاں جنت البقیع میں مدفون اہلِ بیتِ اطہارؑ، صحابۂ کرام، تابعین، انبیائے کرام اور دیگر بزرگانِ دین کی عظمت و فضیلت کو اجاگر کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک مسلک یا فرقے تک محدود نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے مشترکہ دینی، تاریخی اور روحانی ورثے کا مسئلہ ہے۔
واضح رہے کہ جنت البقیع مدینہ منورہ کا نہایت مقدس قبرستان ہے، جہاں دخترِ رسولؐ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، ائمۂ اطہارؑ، ہزاروں صحابۂ کرام اور تابعین مدفون ہیں۔ نبی کریمؐ کی اس مقام سے خصوصی وابستگی اور یہاں مدفون شخصیات کے لیے دعائے مغفرت اس کی عظمت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ ذیشان اعظمی نے نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ اس عظیم الشان کانفرنس کو کامیاب بنانے میں سماجی کارکن اور صحافی جناب سلمان عباس رضوی نے کلیدی کردار ادا کیا اور انتھک محنت کی۔

مولانا کلب جواد: یہ پوری امت کا مشترکہ روحانی سرمایہ ہے
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے سربراہ مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ جنت البقیع کسی ایک مذہب، مسلک یا فرقے کی میراث نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ روحانی سرمایہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں دخترِ رسولؐ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، ائمۂ اطہارؑ، انبیاء اور اصحابِ کرام مدفون ہیں، لہٰذا سعودی حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ اس مقدس قبرستان کی تعمیر کر کے اس کی عظمتِ رفتہ اور تاریخی اہمیت کو بحال کریں۔
سید فضل معین چشتی: یہ عالمی روحانی ورثے کا مسئلہ ہے
اجمیر شریف کے خدام کے نمائندہ سید فضل معین چشتی نے کہا کہ جنت البقیع کی تعمیرِ نو صرف ایک مذہبی مطالبہ نہیں، بلکہ اسلامی تہذیب، روحانی ورثے اور مقدس تاریخی نشانیوں کے تحفظ کی عالمی صدا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجمیر شریف ہمیشہ حق، محبت اور اتحاد کی آواز کا مرکز رہا ہے، اور آج دہلی سے یہی آواز پوری دنیا تک پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مقدس مزارات کی بحالی پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد کی علامت بن سکتی ہے۔
مولانا محبوب عابدی: عالمی فورمز پر مسئلہ اٹھایا جائے
امریکہ میں مقیم ممتاز عالمِ دین مولانا سید محبوب مہدی عابدی نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع اہلِ بیتؑ اور اسلامی تاریخ سے محبت رکھنے والے ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر، بالخصوص مغربی ممالک میں مقیم مسلمان بھی اس مقدس مقام کی تعمیرِ نو کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں اور اس مسئلے کو عالمی فورمز پر مزید مضبوط انداز میں اٹھایا جانا چاہیے۔
مولانا سید اسلم رضوی: یہ ہر مسلمان کے ایمان کا مسئلہ ہے
شیعہ علماء بورڈ مہاراشٹر کے سربراہ مولانا سید اسلم رضوی نے کہا کہ جنت البقیع کی تعمیرِ نو امتِ مسلمہ کے دینی جذبات، تاریخی شعور اور رسول اکرمؐ سے محبت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک مکتبِ فکر کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر اس مسلمان کا مسئلہ ہے جو اہلِ بیتؑ اور صحابۂ کرام سے محبت رکھتا ہے۔
دیگر مقررین کے تاثرات
اس موقع پر مولانا عزادار حسین نے کہا کہ جنت البقیع کی عظمت کا اندازہ خود رسولِ اسلامؐ کے عمل سے لگایا جانا چاہیے، کیونکہ آنحضرتؐ مستقل طور پر وہاں تشریف لے جاتے اور مدفون شخصیات کے لیے دعا فرماتے تھے۔

روزنامہ صحافت کے مدیرِ اعلیٰ امان عباس نے کہا کہ یہ معاملہ آلِ نبیؐ سے متعلق ہے، اس لیے تمام مسلمانوں کو مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر متحد ہونا چاہیے اور مقدس روضوں کی تعمیر کے لیے آگے آنا چاہیے۔
درگاہ حضرت نظام الدین کے سید انفال نظامی نے کہا کہ یہ وقت اختلافات کو فراموش کر کے اتحاد کی راہ اپنانے کا ہے، کیونکہ دشمنانِ اسلام متحد ہو کر امت کی زمین تنگ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند کے حافظ منظور علی خان نے کہا کہ جن شخصیات سے حضور اکرمؐ محبت فرماتے تھے، ان سے محبت کرنا بھی جزوِ ایمان ہے، اور حضورؐ کی آل کو یاد رکھنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر مرزا شفیق حسین شفق نے کہا کہ جنت البقیع کی زیارت پیغمبرِ اسلامؐ کی شفاعت کی نوید ہے، اور مقدس مزارات کی بے حرمتی پوری امت کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
اس کے علاوہ آغا روح اللہ مہدی، سجاد کرگلی، سید عاصم وقار، ڈاکٹر شبیر علی وارث، ڈاکٹر منصور خان، ڈاکٹر صوفی راج جین، سید فضل محمد چشتی، مولانا افتخار حسین اور دیگر علماء و دانشوروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

بین الاقوامی مہم کا اعلان
کانفرنس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جنت البقیع کی تعمیرِ نو کے مطالبے کو بین الاقوامی سطح پر مزید مضبوط انداز میں اٹھایا جائے گا اور عالمی دینی و سماجی اداروں سے رابطہ کر کے اس تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے مؤثر مہم چلائی جائے گی۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے البقیع آرگنائزیشن کی جانب سے جنت البقیع کی تعمیرِ نو کے لیے مسلسل مہم جاری ہے، اور دہلی کی یہ کانفرنس اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دی جا رہی ہے۔









آپ کا تبصرہ