جمعرات 23 اپریل 2026 - 19:33
برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جنت البقیع کی 100 سالہ یاد میں تاریخی بین المذاہب کانفرنس

حوزہ/ جنت البقیع کے انہدام کے سو سال مکمل ہونے پر برطانوی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف لارڈز میں پہلی مرتبہ ایک تاریخی بین المذاہب کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور دانشوروں نے مقدس ورثے کے تحفظ اور جنت البقیع کی باوقار تعمیر نو کے مطالبے کو عالمی انسانی و ثقافتی مسئلہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لندن، برطانیہ/ 21 اپریل 1926ء (بمطابق 8 شوال 1344ھ) کو جنت البقیع کے مزاراتِ مقدسہ کو منہدم کر دیا گیا تھا۔ اس تاریخی سانحے کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر 21 اپریل 2026ء کو برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف لارڈز میں ایک اہم اور تاریخی بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا جو برطانوی پارلیمنٹ میں جنت البقیع کے موضوع پر منعقد ہوا۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جنت البقیع کی 100 سالہ یاد میں تاریخی بین المذاہب کانفرنس

یہ کانفرنس البقیع آرگنائزیشن شکاگو اور الخوئی فاؤنڈیشن لندن کے اشتراک سے ممبر آف پارلیمنٹ Lord Russell Rook کی میزبانی میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف مذاہب و ادیان سے تعلق رکھنے والے ممتاز مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس اجتماع نے مقدس ورثے کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کو اجاگر کیا۔

اپنے افتتاحی خطاب میں لارڈ روک نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی اور مذہبی ورثے کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس مقصد کے لیے مختلف کمیونٹیز کے درمیان اتحاد اور تعاون ناگزیر ہے۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جنت البقیع کی 100 سالہ یاد میں تاریخی بین المذاہب کانفرنس

البقیع آرگنائزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا محبوب مہدی عابدی نجفی نے میزبان اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع کی تعمیر نو کا مطالبہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی وقار، تاریخ اور مشترکہ اقدار سے جڑا ہوا ایک عالمی مسئلہ ہے۔

معروف خطیب مولانا علی رضا رضوی نے البقیع آرگنائزیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا تمام ادیان و مذاہب کے رہنماؤں کو اسی طرح مل کر دنیا بھر میں حق و انصاف کے لئے آواز بلند کرنا چاہئے

کانفرنس میں شریک مقررین میں مولانا شیخ محمد حلی، آرچ بشپ اینجلس، پروفیسر سجاد رضوی (یونیورسٹی آف ایکسیٹر)، ریورنڈ اینڈریو تھامسن، سارا لین کاؤٹی، اور سسٹر عالیہ اعظم (نمائندہ الخوئی فاؤنڈیشن لندن) شامل تھے۔

مقررین نے اپنے خطابات میں دنیا بھر کے تاریخی و مذہبی مقامات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا، خصوصاً جنت البقیع کی باوقار تعمیر نو کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس مسئلے کو ثقافتی ورثے، انسانی حقوق اور عالمی تعاون کے تناظر میں پیش کیا گیا۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جنت البقیع کی 100 سالہ یاد میں تاریخی بین المذاہب کانفرنس

کانفرنس کی نظامت شکاگو سے آئے ہوئے البقیع آرگنائزیشن کے نمائندے جناب کمیل رضوی نے نہایت احسن انداز میں انجام دی۔ یہ تاریخی اجتماع بین المذاہب تعاون، مثبت مکالمے، اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کے قیام کی تجدیدِ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha