۶ مهر ۱۴۰۰ |۲۰ صفر ۱۴۴۳ | Sep 28, 2021
زوم کے ذریعہ جنت البقیع کے سلسلے میں انٹرنیشنل کانفرنس

حوزہ/ مولانا موصوف نے اپنی عالمانہ تقریر کے دوران فرمایا اقوام متحدہ کے آیین میں یہ بات کھل کر بیان کی گیی ہے کہ کسی کی قبر سے بے حرمتی نہیں کی جاسکتی کیونکہ صاحب قبر کے وارثوں کا قبر سے والہانہ لگاو ہوتا ہے ان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچایا جاسکتا۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ممبئی/ البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے یورپ، امریکہ، کینیڈا اور ہندوستان کے جید علماء کی موجودگی میں ایک عظیم الشان  اور تاریخی کانفرنس زوم کے ذریعہ منعقد ہویی اس کانفرنس کی صدارت آرگنائزیشن کے روح رواں مولانا سید محبوب مہدی صاحب نے کی۔ مولانا موصوف نے اپنی عالمانہ تقریر کے دوران فرمایا اقوام متحدہ کے آیین میں یہ بات کھل کر بیان کی گیی ہے کہ کسی کی قبر سے بے حرمتی نہیں کی جاسکتی کیونکہ صاحب قبر کے وارثوں کا قبر سے والہانہ لگاو ہوتا ہے ان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچایا جاسکتا۔ 

شہر پونا مہاراشٹر سے مولانا اسلم رضوی نے کہا کہ اسلامی شخصیات کی قبروں پر گنبد تعمیر کرنے پر مسلمانوں کی اکثریت متفق ہے اس لیے اقلیت  اپنے نظریات اکثریت پر نہیں تھوپ سکتی اس لیے ضروری ہے کہ جلد از جلد جنت البقیع کے روضوں کی تعمیر ہو۔ 

ٹورنٹو کینیڈا کے نہایت  بزرگ عالم و محقق مولانا سید محمد رضوی نے فرمایا کہ جنت البقیع کے روضوں کا انہدام یہ ظلم ہے اور ظلم کے خلاف سکوت اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ 
نجف اشرف عراق کے اسلامک اسکالر مولانامحمد محمد عباس ذہین نجفی نے کہا کہ بقیع کا مسلہ غیرت انسانی و ایمانی سے وابستہ ہے۔ 

لندن انگلینڈ سے معروف عالم دین مولانا محمد حسن معروفی نے کہا کہ جنت البقیع کی تعمیر نو کے لیے  جو تحریک چلایی جا رہی ہے اس میں اگر علماء کے ساتھ ہماری تنظیمیں بھی ساتھ آجایں تو تحریک کی طاقت میں اضافہ ہوجایے گا۔ 

ایران کے مقدس شہر قم سے دسیوں کتابوں کے مصنف و مترجم مولانا سید احتشام عباس زیدی نے فرمایا کہ پوری دنیا میں شہر مدینہ میں جنت البقیع تنہا ایک ایسا قبرستان ہے جس میں آل رسول، ازواجِ رسول اور اصحاب رسول دفن ہیں اس لیے اس کی تعمیر کے لیے تمام مسلمانوں کو آگے آنا چاہیے۔

بنگلور سے انقلابی فکر کے حامل مولانا سید منظور رضا عابدی نے کہا کہ جنت البقیع صرف شیعوں کا ہی مسلہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق پورے عالم اسلام سے ہے اس لیے جیسے ہم فلسطین کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور حصہ لینا بھی چاہیے ویسے ہی تمام مکاتب فکر کو جنت البقیع کی تعمیر کے سلسلے میں آواز بلند کرنا چاہیے۔ 

شہر بنارس سے محترم عالم دین مولانا سید ضمیر الحسن صاحب نے کہا کہ اس تحریک کو اور زیادہ مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان اور بیرون ہند کی تمام ماتمی انجمنیں اور مذہبی تنظیمیں آگے آیں اور حکومت سعودی کو تعمیر بقیع کے سلسلے میں احتجاجی مکتوب روانہ کریں۔ 
مولانا محبوب مہدی  صدر جلسہ نے بقیع آرگنائزیشن کی جانب سے علماء و ناظرین، ایس این این چینل اور تمام میڈیا پارٹنرس کا شکریہ ادا کرکے فرمایا کہ جنت البقیع کے انہدام کو دو سال کے بعد سو سال مکمل ہو جائیں گے اس لیے اس دن پوری دنیا میں کم سے کم ہزار شہروں میں احتجاج ہونا چاہیے۔ 

آخر میں مولانا اسلم رضوی کی دعا پر نہایت جاذب اور تاریخی  کانفرنس اگلے پروگرام تک کے لیے ملتوی کر دی گیی۔ 

حسب دستور ایس این این چینل کے چیف اڈیٹر اور ہندوستان میں بقیع تحریک کے فعال و مخلص رکن مولانا علی عباس وفا نے نہایت ہی عمدہ و دلکش نظامت سے اس کانفرنس کو اور زیادہ نورانی بنا دیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 8 =