۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
تخریب حرم بقیع

حوزہ/عربی میں بقیع ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں مختلف قسم کے جنگلی درخت پائے جاتے ہوں بقیع غرقد کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ یہاں کانٹے دار غرقد نامی درخت کی کثرت تھی جس کی وجہ سے اس جگہ کا نام بقیع غرقد پڑگیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

بقیع کے معنی

عربی میں بقیع ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں مختلف قسم کے جنگلی درخت پائے جاتے ہوں بقیع غرقد کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ یہاں کانٹے دار غرقد نامی درخت کی کثرت تھی جس کی وجہ سے اس جگہ کا نام بقیع غرقد پڑگیا۔

جنت البقیع

 مدینہ منورہ کا قدیمی قبرستان، سر زمین بقیع کو قرار دیا گیا جسے بعد میں بعد قبرستان جنت البقیع کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

محل وقوع

قبرستان جنت البقیع مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر مسجد نبوی کے مشرقی سمت میں واقع ہے۔ پہلے اس کے اطراف میں مکانات و باغات تھے، تیسری صدی میں جب مدینہ منورہ کی فصیل (چوطرفہ دیوار)تعمیر ہوئی تو یہ قبرستان اس سے ملا ہوا تھا۔ اس فصیل کی متعدد بار تجدید ہوئی جن میں آخری تجدید عثمانی ترکوں کے دور میں سلطان سلیمان کے زمانے میں ہوئی۔ پھر اس ملک میں امن و امان قائم ہوجانے کے بعد اس فصیل کو منہدم کر دیا گیا۔

موجودہ حدود

 عصر حاضر میں شہر مدینہ کی توسیع کے بعد جنت البقیع شہر کے وسط میں قرار پا گیا ہے۔ مسجد نبویؐ اور جنت البقیع کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے۔بقیع کے موجودہ حدود میں وہ علاقہ بھی شامل کر لیا گیا ہے جہاں خلیفہ سوم عثمان بن عفان کی قبر تھی جو اصل جنت البقیع کے حدود کے باہر یہودیوں کا قبرستان تھا 

جنت البقیع میں مدفون پہلی اسلامی شخصیت 

عام طور پر مشہور یہ ہے کہ جنگ بدر کے بعد سب سے پہلے صحابی رسول عثمان بن مظعون کی وفات کے موقع پر نبی اکرمؐ نے انہیں بقیع میں دفن کرنے کا حکم دیا۔ آپ ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کی قبر مبارک پر علامت کے طور پر ایک پتھر رکھا اور حکم دیا کہ اس کے اطراف میں اور مرحومین کو دفن کیا جائے۔

بعض مورخین نے بقیع میں مدفون پہلی شخصیت اسعد ابن زرارہ کی بیان کی ہے جس کی توجیح اس طرح ممکن ہے کہ شاید بقیع میں دفن ہونے والی انصار کی پہلی شخصیت اسعد بن زرارہ کی تھی۔

قبر جناب ابراہیم ابن رسولؐ

 جب پیغمبراسلامؐ کے فرزند جناب ابراہیم کی وفات ہوئی تو آپ نے انہیں بھی جناب عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کرنے کا حکم دیا اس طرح قبرستان بقیع میں نسل پیغمبر اسلامؐ کے دفن کا سلسلہ شروع ہوا۔

بقیع میں مدفون ائمہ معصومینؑ

 پیغمبر اسلامؐ کے بارہ جانشینوں میں سے چار معصوم امام یعنی امام حسنؑ امام زین العابدین ؑ امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کی قبریں ہیں۔ ایک احتمال کے مطابق صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر بھی اسی قبرستان میں ہے ان قبروں پر بنے ہوئے قبہائے مطہرہ کو آل سعود کے ظالم و جابر حکمرانوں نے منہدم کر دیا۔ عالم اسلام اس عظیم سانحہ پر سوگوار ہے۔

بقیع میں مدفون دیگر شخصیات

 پیغمبر اسلامؐ کے اعزاء مثلاً آپ کے چچا جناب عباس بن عبد المطلب، آپ کے چچا زاد بھائی، جناب عقیل بن ابیطالب، آپ کے اصحاب مقداد ابن اسود، خزیمہ ذوالشہادتین، زید ابن حارثہ، جابر ابن عبداللہ انصاری کے علاوہ بہت سے اصحاب تابعین مدفون ہیں ان کے علاوہ پیغمبر اسلام کی ازواج آپ کی پھوپھیاں وغیرہ کے ساتھ ساتھ جناب عباسؑ علمدار کی والدہ جناب ام البنین بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔

جنت البقیع میں موجود قبے اور روضے

تاریخی حوالوں اور زایرین کے اقوال کے مطابق جنت البقیع میں اولاد رسول کی قبروں پر قبے اور روضے تعمیر تھے اس کے علاوہ شہزادی کونین حضرت فاطمہ ص کی یادگار بیت الحزن بھی تعمیر تھا  استعماری سازشوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والی سعودی حکومت نے وہابی نظریات کے اتباع میں ان مقدس بارگاہوں کو منہدم کر دیاانہدام کی یہ کاروایی دو مرتبہ دہرایی گئی۔ پہلی بارسنہ۱۲۲۰ھ اور دوسری بارسنہ ۱۳۴۴ھ  پہلی بار انہدام کے بعدسنہ۱۲۳۴ھ  میں عثمانی حکومت کے فرماںرواسلطان محمود ثانی کے حکم سے ان میں سے بعض بار گاہیں دوبارہ تعمیر ہوئیں۔

انہدام کے محرکات

استعماری طاقتوں نے اپنے ناپاک مقاسد کے لیے ہمیشہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے  ان کے درمیان نفرتیں پھیلانے اور ان کی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کے لیے نئے نئے اعتقادات اور نظریات کا سہارا لیا ہے چنانچہ ابن تہمیہ کے نظریات کو بنیاد بناکر وہابیت کی شکل میں ایک نیا مذہب پیدا کیا محمد ابن عبدالوہاب نامی خود سر جوان کو اہنے مشن کی کامیابی کے لیے آلہ کار بنایا درعیہ کے حاکم کو پورے علاقہ کی حکومت کا لالچ دیکر عبد الوہاب کا تابع بنایا اور اس طرح مسمانوں میں ایک طویل مدت کشمکش پیدا کر دی۔ شروع شروع میں پوری دنیا کے عام مسلمانوں نے اس غیر اسلامی حرکت کے خلاف احتجاج کیا لیکن پھر آہستہ آہستہ دولت کی بنیاد پر وہابیت نےاپنی ترویج کے ذریعہ پوری دنیا میں اپنے ہمنوا پیدا کرلیے اگرچہ انصاف پسند مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آج تک وہابیت کے اس اقدام کی مذمت کر رہے ہیں  وہابیوں نے طائف جدہ مکہ مدینہ میں مذہبی مقامات کے علاوہ کربلا اور نجف میں بھی اس قسم کے اقدامات کی کوشش کی لیکن وہاں کے بہادر عاشقان اہل بیت ع کی مزاہمت کے سامنے کامیاب نہ ہو سکے 

انہدام جنت البقیع کے خلاف احتجاجات

پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ وہابیوں کے اس اقدام کے خلاف  خود سعودی عرب میں مقیم مسلمانوں نے اس عمل کی مزمت کی پوری دنیا کے شیعہ ہر سال ۸ شوال کو انہدام جنت البقیع کے نام سے سوگ مناتے ہیں۔ اس دن عزاداری کے ساتھ ساتھ وہابیت کے خلاف غم اور غصہ کا اظہار کرتے ہیں اور تمام اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کے انصاف پسند حکمراں اور عوام سعودی حکمرانوں سے بقیع کے مزارات کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں۔

جنت بقیع کے انہدام پر علماء اسلام کا رد عمل

  آیت اللہ العظمی سیدابوالحسن اصفہانی سمیت

 نجف اور قم کے دیگر بزرگان نے وہابیوں کے اس عمل کی شدید مذمت کی۔ کہا جاتا ہے کہ قبرستان بقیع کے انہدام کی وجہ سے حوزہ علمیہ قم کے بانی آیت اللہ حائری نے اپنےکلاس درس میں گریہ کیا اور اپنے درس و تدریس کو معطل کردیا۔ آیت اللہ بروجردی نے اپنا نمایندہ محمدتقی طالقانی (آل احمد) کو حالات کا جائزہ لینے کیلئے مدینہ روانہ کیا۔ کراچی میں اسلامی کانفرنس میں بھی محمد حسین کاشف الغطاء اور آیت الله بروجردی کے نمائندے، محمد تقی طالقانی نے سعودیہ عربیہ کے سفیر کے ساتھ ملاقات کی اور قبرستان بقیع کی تعمیر اور مرمت کی ضرورت پر زور دیا۔

آیت اللہ سید محسن امین عاملی خود حالات کا جائزہ لینے حجاز گئے اور اپنی تحقیقات کے نتائج کو اپنی کتاب کشف الارتیاب میں مسلمانوں کے سامنے رکھا۔ اسی طرح بہت سارے فقہاء نے قبرستان بقیع کی تعمیر نو اور مرمت کے ضروری ہونے کا فتویٰ دیا۔

انہدام بقیع کے سلسلہ میں کتابوں کی اشاعت

  اس واقعے کے خلاف علماء اسلام کے دیگر اقدامات میں اولیاء الہی کے قبور کی تعمیر کے حوالے سے فقہی منابع اور احکام پر مشتمل کتابوں اور جرائد کی اشاعت تھی۔محمد جواد بلاغی نے اپنی کتاب رد الفتوی بہدم قبور الائمۃ فی البقیع  میں قبور کی مسماری کے جواز کے حوالے سے وہابیوں کی فکر اور سوچ کو مخدوش کیا۔ اس کے علاوہ بقیع کی ویرانی کے حوالے سے مختلف کتابیں لکھی گئیں جن میں سے سید عبدالرزاق موسوی مقرم نے اپنی کتاب ثامن شوال میں سنہ ۱۳۴۳ھ ق کے واقعےکو تفصیل سےذکر کیا ہے۔اسی طرح یوسف ہاجری کی کتاب ’البقیع قصۃ تدمیر آل سعود للآثار الاسلامیہ‘ اور عبدالحسین حیدری موسوی کی کتاب ’قبور ائمۃ البقیع قبل تہدیمہا‘میں ائمہ بقیع کی بارگاہوں کی ویرانی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ حسن آل برغانی کی کتاب ’بقیع الغرقد‘ میں مدینہ پر وہابیوں کے پہلے حملے اور بقیع کی ویرانی کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر شعبہ ہای زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی جانب سے قبرستان بقیع کے   انہدام پر اظہار افسوس اور ندامت کو مختلف شاعروں نے اپنے اشعار میں قلم بند کیا ہے۔محمد جواد بلاغی کی کتاب ’دعوی الہدی الی الدرع فی الافعال و التقوی‘ اور ’معجم ما الفّہ علماء الاسلام رداً علی الوہابیہ‘ بھی اسی نوعیت کی ہیں۔

تحریر: سید حمیدالحسن زیدی، الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 11 =