حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بتاریخ ۱۲؍جولائی بروز اتوار بوقت ساڑھے دس بجے شب البقیع آگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے امام زین العابدین ؑ کی شہادت کی مناسبت سے البقیع انٹر نیشنل آن لائن ویڈیو نیٹ کانفرنفس کا انعقاد ہوا جس کی صدرات مولانا ابن حسن املوی واعظ نے فرمائی اور نظامت مولانا سید اسلم رضوی پونہ نے کی ۔ کانفریس نہایت کامیاب رہی ۔البقیع کانفرنس کی اہمیت کے پیش نظرذیل میں مولانا ابن حسن املوی صاحب کا خطبہ صدارت اختصار کے ساتھ قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد الٰہی ہو رہا ہے کہ جو کوئی شعائراللہ یعنی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو یہ ان کے دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے‘‘(سورۃ الحج:آیت ۳۲)۔
حضرات سامعین و ناظرین و حاضرین ! قبل اس کے کہ میں اس وقت عظیم شعائر اسلامی جنت البقیع اور اس میں مدفون خانوادہ نبوت و رسالت سے نسبت رکھنے والی لائق تعظیم و تکریم مقدس و محترم ہستیوں ،اہل بیت اطہار کی عظیم شخصیتوں بالخصوص ام الائمہ جناب فاطمہ زہراؐ، امام حسن ؑ،امام زین العابدین ،امام محمد باقر ؑ،امام جعفر صادق علیہم السلامِ کے مقدس روضات ِمطہرات کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کروں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اسلم رضوی صاحب قبلہ ،پونے ،حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید محبوب مہدی صاحب قبلہ،محترم المقام عالیجناب مولانا سید علی عباس وفا صاحب قبلہ ایڈیٹر انچیف ایس این این چینل کا خلوص دل سے شکر گزار ہوں جو جنت البقیع کی آزادی کے لئے ائمہ بقیع کی ولادت وشہادت کی مناسبات سے مختلف مواقع پر ’’البقیع آرگنائزیشن ،شکاگو،امریکہ ‘‘کی جانب سے مسلسل اور عالمی پیمانہ پر بڑی بڑی کانفرنسوں کا اہتمام اور انعقاد کر رہے ہیں۔اس مرتبہ امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے منعقد ایسی عظیم کانفرنس میں حقیر کو بھی موقع دیا ،اور یہ دوسرا موقع ہے جب میں اس انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل کر رہاں۔خداوند عالم امام زمانہ ؑ کے ان سپاہی علماے کرام کے نیک مقاصد میں نمایا ں اور جلدکامیابی عطا فرمائے ۔آمین۔
سامعین و ناظرین ِکرام ! کتنی با برکت،پر عظمت،مقدس،محترم اور متبرک ہوگی وہ شی جس کا انتخاب خود خداوند عالم نے فرمایا ہو ۔مختلف کتب و روایات سے مستفاد ہوتا ہے کہ خلاق عالم نے ہرجنس سے ایک ذات کو منتخب و پسندیدہ قرار دیا ہے۔جیسا کہ ساری زمینوں میں زمین ِ ِکعبہ کو،سارے پہاڑوں میں کو ہِ طور کو،سارے پتھروں میں حجر اسود کو،سارے درختوں میں شجر طور کو،حیوانوں میں ناقۂ صالح کو ،طائروں میں ہد ہد سلیمان کو ، فرشتوں میں جبرئیل کو ،سارے انبیا میں محمد مصطفیٰ کو،سارے اوصیا میں علی مرتضیٰ کو۔
بلا شبہ جنت البقیع مدینہ منورہ بھی ان مقدس و محتر م و متبرک مقامات میں شامل ہے جن کو اللہ نے منتخب اور پسند فرمایا ہے اور حکم خدا سے رسول خدا نے اپنے دست مبارک سے اس کی بنیاد رکھی۔
جنت البقیع مدینہ منورہ کا سب سے مقدس اور عظیم تاریخی قبرستان ہے ۔یہاں دس ہزار سے زیادہ صحابۂ کرام ،ازواجِ مطہرات،اور اہل بیت ِ رسول مدفون ہیں۔
جنت البقیع کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہاں مدفون ہونے والوں کے لئے حضرت رسول خدا نے مغفرت کی دعا ء فرمائی ہے۔روایات کے مطابق اس متبرک قبرستان میں ستّرہزارایسے خوش نصیب ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
پیغمبر اسلام کا یہ معمول تھا کہ اکثر جنت البقیع تشریف لاتے تھے اور ان الفاظ میں دعاء فرماتے تھے:السلام علیکم دار قوم مومنین‘‘(یعنی اے مومنین کے گھر والو تم پر ہمارا سلام ہو)۔پیغمبر اسلام کے اس عمل سے اس قبرستان کی عظمت اور تقدس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
طبقات کبریٰ اور مستدرک امام حاکم میں ہے کہ :حضرت رسول خدا ایک مرتبہ اپنے اصحاب کے ہمراہ کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے کہ جس میں مسلمان میتوں کو دفن کیا جا سکتا ہو۔محو تلاش آپ مدینہ کے نواحی علاقہ بقیع تک پہونچے اور فرمایا یہی وہ جگہ ہے جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے‘‘۔
یعنی جنت البقیع تاریخ انسانیت کا پہلا وہ قبرستان ہے جس کو اللہ نے منتخب فرمایا ہے۔اور سب سے پہلے صحابی جن کو قبرستان بِقیع میں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ان کا نام نامی اس گرامی عثمان ابن مظعون ہے جو ابتدائی اسلام لانے والے جلیل القدر صحابی اور رسول خدا کے رضاعی بھائی کہے جاتے ہیں یہ ان خوش نصیب صحابہ میں شامل تھے جنھوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور ہجرت حبشہ و مدینہ دونوں سعادتیںحاصل کیں۔ یہ اسلام لانے سے پہلے ہی شراب اور بت پرستی وغیرہ سے اجتناب کرتے تھے۔زمانہ جاہلیت میں بھی آپ کے حسن ِ سیرت و کرداراور اخلاق کی شہرت عام تھی ۔آپ ہی کے نام کی مناسبت سے مولا علی نے اپنے ایک فرزند، ام البنین کے صاحبزادے، حضرت عباس علمدار کے سگے بھائی اور شہدائے کربلا کے ایک عظیم شہید کا نام’’ عثمان‘‘ رکھا تھا۔
افسوس ہزار افسوس ۸؍شوال ۱۳۴۴ھ مطابق ۱۹۲۶ء کو آل سعود حکومت نے جنت البقیع میں تعمیر خانوادہ نبوت و رسالت،اہل بیت اطہار سمیت تمام مقدس شخصیات کے روضوں ،مزاروں کو منہدم کردیا۔تب سے آج تک مسلسل شیعہ مسلمان دنیا بھر میں شدید احتجاج کرتے رہتے ہیں ۔ضرورت ہے کہ تمام خوش عقیدہ مسلمان،انصاف پسندانسان ،دامن اہل بیت سے وابستہ مومنین بھرپور طاقت کے ساتھ انہدام جنت البقیع کے خلاف احتجاج کریں اور تعمیر نو کا مطالبہ کریں کیونکہ مظلوموں کے لئے یہ بہت بڑا ہتھیار ہے۔اس سلسلہ میں جلسے،جلوس اور مجلسوں کا انعقاد کریں ۔سب سے بہتر اور کارگر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اپنی اپنی حکومتوں کو سرکاری سطح پر احتجاجی میمورنڈم پیش کریں تاکہ سعودی حکومت تک آپ کی آواز باقاعدہ پہونچ سکے۔
یقیناً آل سعود حکومت نے جنت البقیع کے مزارات کو منہدم کرکے اپنے دلوں میں پنپنے والے مخفی نفاق کوسر عام جگ ظاہر کردیا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ آل سعود اپنے ظلم و جور سے توبہ کرلیں قبل اس کے کہ امام مہدی ؑ کا ظہور ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
مانو نہ مانو آپ کو یہ اختیار ہے
اللہ سلامت رکھے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اسلم رضوی صاحب قبلہ (پونہ،مہاراشٹر)،حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید محبوب مہدی صاحب قبلہ (امریکہ)معروف صحافی جناب علی عباس وفا صاحب (ممبرا) کو جو جنت البقیع کی تعمیر جدید کے سلسلہ میں عالمی پیمانہ پر مسلسل احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں،کانفرنسیں منعقد کررہے ہیں اور زبردست قومی و مذہبی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اسی سلسلہ میں آج بتاریخ ۱۲؍ جولائی بروز اتوار ہندستانی ٹائم کے مطابو ساڑھے دس بجے شب آن لائن ویڈیو نیٹ کانفرنسنک کے ذریعہ انٹر نیشنل البقیع کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں حقیر ابن حسن املوی واعظ اعظم گڑھ انڈیا ،مولانا سید اسلم رضوی پونے مہاراشٹر انڈیا،مولانا سید محبوب مہدی شکاگو امریکہ،مولانا سید نفیس حیدر تقوی اٹلانٹا امریکہ،مولانا سید محمود رضوی چیف ایڈیٹر شعبہ اردو حوزہ نیوز ایجنسی قم ایران، مولانا سید عرفان مہدی زیدی قم ایران،مولانا سید علی عباس وفا ایڈیٹر انچیف ایس این این چینل ممبرا ممبئی انڈیا،شاعر اہل بیت شہر یار خان کنیڈا ،شاعر اہل بیت آغا سروش حیدرآباد انڈیا نے شرکت فرمائی اور اپنے بہترین خیالات و افکار کا اظہار فرمایا۔خدا ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے اور خاطر خواہ کامیابی عطا کرے ۔آمین۔
آخر میں سب سے اہم اور قابل اعتماد نکتہ کی طرف آپ سب کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ نام نہاد سپر پاور امریکہ اور غاصب و خائن اسرائیل کے خلاف حالیہ جنگ میں اسلامی جمہوری ایران کے لئے فتح مبین کی بارگاہ خداوندی میں دعاء کرنا نہ بھولیںکیونکہ اسلامی جمہوری ایران کی دخل اندای،اور حکومتی پیمانہ پر جد و جہد کے بغیر بیت المقدس،فلسطین اور جنت البقیع کی واگزاری ممکن نہیں ہے۔ ان شاء اللہ وہ وقت قریب ہے جب امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی تائید ات و عنایات سے اسلامی جمہوری ایران، امریکہ و اسرائیل کو مکمل شکست فاش سے دوچار کرنے کے بعد نہ صرف خلیجی ممالک کے لئے بلکہ دنیابھر کے لئے عظیم طاقتور اسلامی ملک بن کر ابھرے گا اور انقلاب امام مہدی ؑ کا شاندار پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محتاج دعاء
ابن حسن املوی واعظ
حسن اسلامک ریسرچ سینٹر ۔حسن منزل،محلّہ محمود پورہ،املو،مبارکپور،ضلع اعظم گڑھ(اتر پردیش) انڈیا
حسن اسلامک ریسرچ سینٹر(لکھنؤ برانچ):بیت الحسن۔سمراٹ سیٹی،سکروری،نیّر ڈے نائٹ اسٹدی کانونٹ اسکول،وایا بے بی مارٹین انٹر نیشنل اسکول،ہردوئی روڈ،دوبگا،لکھنؤ۔









آپ کا تبصرہ