ہفتہ 21 فروری 2026 - 20:15
ماہِ رمضان المبارک 1447ھ کا پہلا جمعہ: جامع مسجد سرینگر میں شیعہ سنی اتحاد کی عملی تصویر

حوزہ/ اتحاد کونسل اور تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی مشترکہ کاوش سے شیعہ سنی اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا گیا، جہاں مختلف مسالک کے علماء نے ہزاروں نمازیوں کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کی اور اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کا پیغام عام کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے چئیرمین آغا سید عابد حسین الحسینی نے حوزہ نیوز بتایا کہ ماہِ رمضان المبارک، جو قرآنِ مجید کے نزول کا مہینہ ہے، رحمت، برکت اور مغفرت کا موسم ہے۔ یہ مبارک مہینہ مسلمانوں کو اتحاد، بھائی چارے اور باہمی یکجہتی کا درس دیتا ہے۔ اسی عظیم مقصد کے پیش نظر، ملی اتحاد کونسل جموں و کشمیر نے ارادہ کیا کہ زمینی اور عوامی سطح پر مسلم اتحاد کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر، ماہِ رمضان کے پہلے جمعہ 20 فروری 2026ء کو ایک اعلیٰ سطحی وفد کی تشکیل دی گئی تاکہ تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ ادا کرکے شیعہ سنی اتحاد کا پیغام دیا جا سکے۔

اس پروگرام کے انعقاد میں تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کلیدی کردار ادا کیا اور اسے عملی جامہ پہنانے میں ملی اتحاد کونسل جموں و کشمیر نے پیش قدمی کی۔

ملی اتحاد کونسل کا وفد اور جامع مسجد میں استقبال

ملی اتحاد کونسل کے صدر سید سلیم گیلانی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جامع مسجد سرینجر میں نمازِ جمعہ ادا کی۔ وفد میں کونسل کے جنرل سیکرٹری اور تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے چئیرمین حجۃ الاسلام و المسلمین آغا سید عابد حسین حسینی، حجۃ الاسلام و المسلمین ظھور احمد، حجۃ الاسلام و المسلمین آغا سید مجتبیٰ، چیف ترجمان حکیم عبدالرشید، ختمِ نبوت انٹرنیشنل کے چئیرمین مفتی مدثر قادری، آغا سید مسرور موسوی، پیر طاہر قادری، میر عمران، علامہ منظور احمد اور اعجاز احمد سمیت دیگر ممتاز علمائے کرام شامل تھے۔

جامع مسجد پہنچنے پر وفد کا پرتپاک استقبال میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مسلم امہ کے مختلف مسالک کے درمیان اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں نمازیوں نے بھی شرکت کی، جس سے مسجد کے احاطے میں روحانی اور اخوتی فضا قائم ہوگئی ۔

میرو اعظ کشمیر کا خطبہ جمعہ

نمازِ جمعہ سے قبل میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے خطبہ دیا۔ انہوں نے ماہِ رمضان کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے اسے روحانی تجدید اور اجتماعی اصلاح کا مہینہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بابرکت مہینہ ہمیں صبر، استقامت اور ایمان کی اقدار سے دوبارہ جڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔

قرآن مجید کی آیت شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ کا حوالہ دیتے ہوئے رمضان المبارک کی فضیلت بیان کی.

انہوں نے عوام کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بے یقینی کے اس دور میں رمضان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم رحمت ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مایوسی سے نکل کر امید، تعمیری فکر اور مثبت عمل اختیار کرنے کی تلقین کی ۔

میرو اعظ نے امت مسلمہ بالخصوص فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر کے مظلومین و مستضعفین کے لئے دعا کی اور شہدائے کشمیر، فلسطین اور عالم اسلام کے دیگر شہدا کے علو درجات کی تمنا کی۔

خطبہ کا اہم ترین پیغام: جامع مسجد، اتحاد کی علامت

میرو اعظ کشمیر نے اپنے خطبے کے آخر میں خاص طور پر سامعین کو متوجہ کیا۔ انہوں نے کہا: "میں آخر میں ایک خاص بات کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں سال بھر اس جامع مسجد میں مختلف طبقات فکر کے لوگ نماز جمعہ میں شریک ہوتے ہیں، آج اس ماہ مبارک کے پہلے جمعہ میں شیعہ علما بھی صفوں میں شریک ہوئے ہیں، جنہیں ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔"

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ: "کشمیر میں یہ تاریخی جامع مسجد اتحاد، صبر اور استقامت کی مرکز رہی ہے۔ یہ کسی تنظیم کی مسجد نہیں ہے، یہ کسی فرقہ کی مسجد نہیں ہے، یہ مسلمانوں کی مسجد ہے۔"

ان الفاظ نے عوام میں اتحاد و بھائی چارے کا پیغام عام کیا اور تمام مکاتب فکر کے درمیان محبت اور یکجہتی کے جذبے کو مزید تقویت بخشی۔

اہم اعلان: یومِ وصال حضرت فاطمۃ الزہراء (س)

خطبہ کے اختتام پر میرواعظ کشمیر نے اعلان کیا کہ 3 رمضان المبارک (بروز ہفتہ) کو آستانہ عالیہ حضرت خواجہ نقشبند صاحب (خواجہ بازار) میں نمازِ عصر سے قبل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری صاحبزادی، خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کے یومِ وصال کی مناسبت سے ایک خصوصی وعظ و تبلیغ کی مجلس آراستہ کی جائے گی ۔

واضح رہے کہ تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے طراحی کردہ اور ملی اتحاد کونسل کی سرپرستی میں انجام پانے والا یہ پروگرام کشمیر کی سرزمین پر شیعہ سنی اتحاد کی ایک تاریخی اور عملی تصویر بن گیا۔ جامع مسجد سرینگر میں ماہ رمضان کے پہلے جمعہ کے موقع پر مختلف مسالک کے علماء اور ہزاروں نمازیوں کی ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام ہمیشہ سے اتحاد بین المسلمین کی علمبردار رہی ہے۔ یہ تقریب نہ صرف ایک علامتی اقدام تھی بلکہ مستقبل میں بھی اس طرح کے پروگرام جاری رکھنے کے عزم کی ترجمانی کرتی ہے، تاکہ مسلم امہ کے مختلف طبقات کے درمیان اخوت، محبت اور باہمی احترام کے جذبے کو فروغ حاصل ہوتا رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha

تبصرے

  • Ghulam Nabi Sheikh IN 08:19 - 2026/02/22
    Mashallah Mashallah. Milli Ittihad Zindabad