حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں میں ملی اتحاد کونسل کے اعلی سطحی وفد نے دو روزہ دورہ مکمل کیا، جس دوران وفد نے مختلف مسالک کی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیتے ہوئے جامع مسجد امام رضا جموں میں نماز ادا کی۔ اس موقع پر کونسل کے صدر سید سلیم گیلانی نے سید فدا حسین رضوی کو صوبائی صدر جموں مقرر کیا۔

وفد میں کونسل کے صدر **سید سلیم گیلانی، ترجمان اعلیٰ حکیم عبد الرشید اور غلام نبی کھٹانہ شامل تھے۔ وفد نے 20 فروری کو جامع مسجد سرینگر میں مختلف مسالک کی علامتی اتحاد کی نماز کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے جامع مسجد امام رضا جموں میں نماز ادا کی۔
اس موقع پر صدر کونسل سید سلیم گیلانی اور حکیم عبد الرشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں امت مسلمہ کی اتحاد کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے مشترکات، عقائد، توحید، رسالت اور آخرت ایک ہیں تو پھر ہم ایک صف میں اللہ کے حضور سجدہ کیوں نہیں کر سکتے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ملی اتحاد کونسل کا قیام اسی مقصد کے لیے ہوا ہے۔ کونسل میں ملت اسلامیہ جموں و کشمیر کے تمام بڑے علمائے کرام، دانشور اور رہنما شامل ہیں، جن میں میر واعظ کشمیر ڈاکٹر عمر فاروق اور آغا سید حسن صاحب بھی شامل ہیں۔ کونسل کے جنرل سیکریٹری حجت الاسلام آغا سید عابد حسین حسینی ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جموں و کشمیر میں مسلکی اختلافات یا منافرت کو بڑھنے نہیں دیا جائے گا اور اتحاد کی صفوں میں شگاف ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کا متحدہ طور پر مقابلہ کیا جائے گا۔

سید فدا حسین رضوی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں انجام دینے کا یقین دلایا۔ مسجد جامع امام رضا کے امام حجت الاسلام سید زوار صاحب نے وفد کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ انجمن حسینی جموں کے تمام اراکین اور علماء و عوام ملی اتحاد کونسل کو ہر سطح پر تعاون فراہم کریں گے۔
جنرل سیکریٹری آغا سید عابد حسین حسینی نے بھی سید فدا رضوی کو صوبائی صدر مقرر کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ امید ہے کہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں سے معزز شخصیات، علماء، ڈاکٹر، انجینئر اور دانشور حضرات اس اتحاد کی عملی ترویج میں فعال کردار ادا کریں گے تاکہ یہ یکجہتی امت کے لیے ایک مضبوط ستون بن سکے۔

اختتاماً وفد نے شیخ سعدی کے شعر کا حوالہ دیا:
“بنی آدم اعضای یکدیگرند
که در آفرینش ز یک گوهرند
چو عضوی به درد آورد روزگار
دگر عضوها را نماند قرار
تو کز محنت دیگران بیغمی
نشاید که نامت نهند آدمی”
وفد نے کہا کہ انسان ایک جسم کے اعضاء کی مانند ہیں؛ اگر ایک عضو درد میں ہو تو باقی اعضاء بھی بے چین رہتے ہیں۔ جو دوسروں کے دکھ اور غم سے بے پروا ہے، وہ حقیقی انسان کہلانے کے قابل نہیں۔









آپ کا تبصرہ