بدھ 15 جولائی 2026 - 12:57
سلطانِ قلب امت، خاک مشہد کی آغوش میں (فنا فی الاِمام کا سفر)

حوزہ/دنیا کا دستور ہے کہ انسان کی آخری تمنا یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کی مٹی میں سپرد خاک ہو، جہاں اس کے آباؤ اجداد کی یادیں بستی ہیں؛ لیکن جب بات ایک ایسے مرد قلندر کی ہو جو اپنی ذات سے نکل کر فنا فی الامت اور فنا فی الامام کے مقام تک پہنچ چکا ہو تو وہاں زمین و آسمان کے فیصلے عام انسانی منطق سے جدا ہو جاتے ہیں۔

تحریر: مولانا صادق الوعد

حوزہ نیوز ایجنسی|

دنیا کا دستور ہے کہ انسان کی آخری تمنا یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کی مٹی میں سپرد خاک ہو، جہاں اس کے آباؤ اجداد کی یادیں بستی ہیں؛ لیکن جب بات ایک ایسے مرد قلندر کی ہو جو اپنی ذات سے نکل کر فنا فی الامت اور فنا فی الامام کے مقام تک پہنچ چکا ہو تو وہاں زمین و آسمان کے فیصلے عام انسانی منطق سے جدا ہو جاتے ہیں۔

امام امت شہید کی شہادت کے بعد، جب پورا عالم اسلام سوگوار تھا، تو ایک سوال ہر لب پر تھا یہ عظیم روح اب کہاں ابدی نیند سوئے گی؟

کسی کو گمان تھا کہ مسجد جمکران کی روحانی فضاؤں میں ٹھکانہ ہوگا، جہاں ہر لمحہ ان کا دل دھڑکتا تھا۔ مگر تقدیر نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس کے پیچھے ایک عظیم فلسفہ اور عاجزی کا سمندر موجزن تھا۔

مشہد مقدس میں امام رؤوف، امام علی رضا (علیہ السلام) کے روضے میں ان کا مدفون ہونا محض ایک مکان کا انتخاب نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی زندگی بھر اہل بیت علیہم السلام سے عشق کی خاموش گواہی تھی۔ امام امت شہید باوجود اس کے ایک ایسی باکمال اور کرشماتی شخصیت کے مالک تھے جن کی مثال نہیں ملتی، مگر کمال دیکھیے کہ آپ نے پوری زندگی اس عقیدے کو اپنائے رکھا کہ ایران کا حقیقی شہنشاہ اور مالک صرف، امام رضا (علیہ السلام) ہیں۔

آپ کی عاجزی کا انداز یہ تھا کہ آپ نے کبھی یہ گوارا نہیں کیا کہ امام (ع) کے حرم کے ہوتے ہوئے آپ کا کوئی الگ روضہ یا یادگار بنے، جس کی طرف لوگ متوجہ ہوں۔ آپ چاہتے تھے کہ اگر کوئی زیارت کے لیے آئے تو اس کی نگاہیں صرف امام ہشتم کے گنبد پر جمی رہیں۔ آپ نے خود کو امام رؤوف کے قدموں میں مٹا کر یہ ثابت کیا کہ اصل بقا مٹنے میں ہی ہے۔

آپ کے اس خلوص کی جھلک ان کے تابوت کے ساتھ کیے گئے سفر میں بھی دیکھی گئی۔ جب آپ کا پیکر خاکی حضرت عباس علمدار (ع) کی بارگاہ میں لے جایا گیا، تو آپ کے تابوت سے عمامہ اور چفیہ ہٹا دیا گیا، تابوت کو کھلا اور شکستہ رکھا گیا۔ یہ بتانے کے لئے کہ اے عباس علمدار!

میں اگرچہ آپ ع ہی طرح فوج کا سپہ سالار تھا، مگر آپ کے دربار میں ایک کمانڈر بن کر نہیں، بلکہ ایک ادنی غلام اور عبدِ صالح بن کر حاضر ہوا ہوں۔

آہ! کیا مقام ہے اس ہستی کا جس نے دنیاوی عہدوں اور القابات کو اہل بیت (ع) کی چوکھٹ پر ریزہ ریزہ کر دیا۔ جو خود کو اہل بیت (ع) کے سامنے مٹی کے ذرے سے بھی کم تر سمجھتا تھا، آج وہی مشہد کی خاک میں مشعل ہدایت بن کر چمک رہا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ جو خود کو اہل بیت (ع) کے حضور ناچیز تصور کرتا ہے، وہی کائنات میں سب سے قیمتی بن جاتا ہے۔ اور آپ کی اس بے پناہ قیمت اور عزت کا مشاہدہ آج پوری دنیا کر رہی ہے کہ کیسے ایک خاکسار عصمت و طہارت کو خدا نے مشہد مقدس کی خاک میں ایسا مقام بلند عطا کیا کہ وہ آج بھی امت کے لیے مشعل راہ ہے۔

رہبر شہید کی عظمت ، ان کی یہی وہ عاجزی تھی جس نے انہیں تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے زندہ و تابندہ کر دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha