پیر 6 اپریل 2026 - 10:36
مذاکرات سے امیدیں باندھنا صہیونی حکومت کے مفادات کا تحفظ ہے: مرکز مدیریتِ حوزہ ہای علمیہ

حوزہ/ مرکز مدیریتِ حوزہ ہای علمیہ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ دشمن کے ساتھ مذاکرات سے امیدیں وابستہ رکھنا دراصل ایسے فریق پر اعتماد کرنا ہے جو نہ کسی معاہدے کا پابند ہے اور نہ ہی ملتِ ایران کے مفادات کا محافظ، بلکہ اس کی اولین ترجیح صرف صہیونی غاصب حکومت کے مفادات ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ کے مرکز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران پر جارحیت، بے گناہ شہریوں، کمانڈروں، بچوں اور طلبہ کی شہادت نے ایک بار پھر عالمی استکبار کی عہد شکنی اور درندگی کو آشکار کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس خونریز حملے نے امتِ اسلامی میں ایک نئی روح پھونک دی اور ایرانی قوم کو مزید بیدار و متحد کر دیا۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے وقت میں جب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج دشمن کو مؤثر اور پشیمان کن جواب دے رہی ہیں، جبکہ محاذِ مقاومت بھی دوبارہ فعال ہو کر امریکی و صہیونی دشمن کو ضربیں لگا رہا ہے، اس دوران “صلح” اور “سازش” کی صدائیں قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

مرکز مدیریتِ حوزہ ہای علمیہ نے واضح کیا کہ گزشتہ 12 برس کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ ایسے دشمن کے ساتھ مذاکرات سے وابستہ امیدیں، جو نظامِ اسلامی کی نابودی کے درپے ہے، محض غیر معمولی سادہ لوحی اور تلخ تجربات سے چشم پوشی ہے۔ بیان کے مطابق، یہ روش دراصل دشمن کو دوبارہ سانس لینے کا موقع دینے کے مترادف ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق شرائط کا تعین صرف رہبرِ معظم کا اختیار ہے، لہٰذا اس نازک مرحلے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات، دو قطبی فضا، مایوسی یا مسلح افواج کی حوصلہ شکنی کو ناجائز اور ظلم قرار دیا جائے گا۔

مرکز نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ مذاکرات، صلح یا دشمن کے مطالبات کی حمایت کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha