حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کے علماء نے ایک بیان میں صہیونی دشمن کی عہد شکنی، معاہدوں کی خلاف ورزی، جنگ کی دوبارہ شروعات اور قتلِ عام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہونے والوں کے لیے اللہ کے حضور کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف مذمت یا غزہ، مغربی کنارے اور فلسطین میں ہونے والے تباہ کن حملوں، بمباری، بھوک اور پیاس کے خلاف اظہارِ افسوس کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
علمائے یمن نے امت کے تمام طبقات— عوام، افواج، حکمران، علماء اور مبلغین— کو ان کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اس بربریت کے خلاف قیام کریں۔ غزہ کے دفاع اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے مکمل جہاد ہی دنیا و آخرت کی رسوائی سے نجات کا واحد راستہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی طرف سے جنگ کے دوبارہ آغاز کا فیصلہ امریکہ کی اجازت، اسلحہ جاتی مدد اور مکمل پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اسی طرح عرب حکمرانوں کی خاموشی اور شرمناک ساز باز نے بھی صیہونی جارحیت کو مزید شہ دی ہے۔
علمائے یمن نے ہمسایہ ممالک، عوام، افواج اور ان کی قیادت پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس قتل عام کو روکنے کے لیے متحرک نہ ہوئے تو انہیں اللہ کے قہر اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے انصار اللہ کے رہنما سید عبد الملک بدرالدین حوثی کے غزہ کی حمایت کے فیصلے کو درست قرار دیا اور فضائی و بحری عسکری کارروائیوں سمیت ہر ممکن آپشن کی حمایت کی۔
یمنی علماء نے واضح کیا کہ غزہ کی حمایت شرعی فریضہ، ایمانی و اخلاقی ذمہ داری، حقیقی اسلامی اخوت کا عملی اظہار اور مسلمانوں کے مابین ہمدردی و تعاون کی حقیقی شکل ہے۔
آپ کا تبصرہ