حوزہ نیوز ایجنسی|
بنیادی سوال یہ ہے کہ شدید فوجی، معاشی، میڈیا اور نفسیاتی دباؤ کے باوجود ایران کیوں نہیں جھکتا؟
بعض حلقوں کو امید تھی کہ چند حملوں یا بیرونی دباؤ سے ایران کا نظام جلد بکھر جائے گا، مگر ایسا نہیں ہوا۔
اصل بات یہ ہے کہ ایران کا ہتھیار نہ ڈالنا صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے تاریخی تجربات، سماجی سوچ اور سکیورٹی خدشات موجود ہیں۔
اگرچہ حکومت کے اندر بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر مختلف رائے پائی جاتی ہے، لیکن ان اختلافات کی وجہ سے نظام کمزور نہیں ہوتا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے سے ملک کے ٹوٹنے کے عمل کی شروعات ہوسکتی ہیں۔
جنگ کے آغاز میں ہی لوگوں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر کمزوری دکھائی گئی یا ہتھیار ڈال دیئے گئے تو اس سے اندرونی اختلافات بڑھ سکتے ہیں، معاشرتی بدامنی پیدا ہوسکتی ہے اور یہاں تک کہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوششیں بھی تیز ہوسکتی ہیں۔ اسی احساس کی وجہ سے توقعات کے برعکس عوام کے درمیان مزید اتحاد پیدا ہوگیا۔
ایک اور اہم وجہ ایران کی فوج اور سکیورٹی اداروں کی تیاری اور نظم و ضبط ہے۔ اگرچہ ایران کو جدید فوجی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے معاملے میں پابندیوں کا سامنا رہا ہے، لیکن اس نے گذشتہ برسوں میں یہ سیکھ لیا ہے کہ مشکل حالات میں بھی اپنے دفاعی نظام کو کیسے مضبوط رکھا جائے۔
گزشتہ دہائیوں میں ایران شدید معاشی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنے حکومتی، سکیورٹی اور انتظامی نظام کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، اور یہی تجربہ اس کی طاقت بن گیا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم عنصر “مزاحمت کی سوچ” ہے جو سیاسی نظام اور معاشرے کے ایک بڑے حصے میں پائی جاتی ہے۔ اس سوچ کے مطابق ہتھیار ڈالنا صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کی آزادی، سلامتی اور سرحدوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
مزید یہ کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ اہم تزویراتی وسائل موجود ہیں جن کے ذریعے وہ کسی بھی جنگ میں اپنے مخالف کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔
آخر میں، ایران کے عوام نے حالیہ برسوں میں خطے کے حالات سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ بعض ممالک بیرونی دباؤ کے سامنے جھک گئے، مگر اس کے باوجود انہیں امن اور استحکام نصیب نہیں ہوا۔ اس تجربے نے ایرانی معاشرے کے ایک بڑے حصے کی سوچ بدل دی ہے۔
اسی لیے شدید دباؤ کے باوجود ابھی تک ایران کے جھکنے یا ٹوٹنے کے آثار نظر نہیں آتے۔ کیونکہ ایران کے لیے یہ صرف سیاسی تنازع نہیں بلکہ ملک کی بقا، سلامتی اور مستقبل کا مسئلہ ہے۔









آپ کا تبصرہ