بدھ 15 جولائی 2026 - 12:38
رہبرِ شہید ؒکی تشییع: ملتِ ایران کی وفاداری اور امتِ مسلمہ کی وحدت کا بے مثال مظہر

حوزہ/تاریخِ اقوام میں بعض شخصیات اپنی حیات سے زیادہ اپنی وفات کے بعد زندہ قوموں کی بیداری، شعور اور اجتماعی وابستگی کا معیار بن جاتی ہیں۔ ایسے قائدین کی رحلت یا شہادت محض ایک فرد کا دنیا سے رخصت ہونا نہیں ہوتی، بلکہ ایک مکتبِ فکر، ایک نظریہ اور ایک اجتماعی شناخت کی تجدید کا سبب بنتی ہے۔

تحریر: مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

تاریخِ اقوام میں بعض شخصیات اپنی حیات سے زیادہ اپنی وفات کے بعد زندہ قوموں کی بیداری، شعور اور اجتماعی وابستگی کا معیار بن جاتی ہیں۔ ایسے قائدین کی رحلت یا شہادت محض ایک فرد کا دنیا سے رخصت ہونا نہیں ہوتی، بلکہ ایک مکتبِ فکر، ایک نظریہ اور ایک اجتماعی شناخت کی تجدید کا سبب بنتی ہے۔

رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت کے بعد ایران، عراق اور عالمِ اسلام میں منعقد ہونے والی تشییعی تقریبات اسی تاریخی حقیقت کا عملی اظہار تھیں۔

ایرانی سرکاری ذرائع IRNA، Tasnim، Mehr News، Press TV اور KHAMENEI.IR کے مطابق رہبرِ شہیدؒ کی تشییع میں کروڑوں سوگواروں نے شرکت کی، جب کہ سو سے زائد ممالک کے سرکاری، سیاسی، مذہبی، علمی اور عوامی وفود نے ایران پہنچ کر اپنی تعزیت پیش کی۔ بین الاقوامی ذرائع نے بھی تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں ہونے والے ان عظیم اجتماعات کو غیر معمولی قرار دیا اور رپورٹ کیا کہ ان میں ملینز افراد شریک ہوئے، جبکہ بعض تجزیوں میں مجموعی شرکت کو تقریباً تین کروڑ تک بھی قرار دیا گیا۔

یہ اجتماع صرف ایک مذہبی رسم یا قومی تقریب نہ تھا بلکہ ایک ایسا عالمی پیغام تھا جس نے یہ واضح کیا کہ انقلابِ اسلامی ایران اب صرف ایک جغرافیائی ریاست کا نام نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور تمدنی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک مذہبی شخصیت کی تشییع نہ تھی بلکہ اسلامی انقلاب، مکتبِ اہل بیتؑ اور محورِ مقاومت سے وابستگی کے اظہار کا ایک تاریخی منظر بھی تھا۔

ایران عراق کی سڑکیں انسانوں کے سمندر کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد نے "لبیک یا خامنہ ای"، "لبیک یا حسینؑ" اور "مرگ بر امریکہ" و "مرگ بر اسرائیل" کے نعروں کے ساتھ اپنے قائدِ شہیدؒ سے وفاداری کا اظہار کیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس عوامی اجتماع کو ملتِ ایران کے اتحاد، استقامت اور انقلاب سے تجدیدِ عہد کی علامت قرار دیا۔

قرآن کریم اہلِ ایمان کی باہمی وابستگی کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾"بے شک تمام اہلِ ایمان آپس میں بھائی ہیں۔" (سورۃ الحجرات: 10)،رہبرِ شہیدؒ کی تشییع میں مختلف قومیتوں، زبانوں، مکاتبِ فکر اور سیاسی پس منظر رکھنے والے افراد کی موجودگی اوردنیا کہ مختلف ممالک میں جلوس و مجالس میں بلا تفریق مذہب وملت کثیر تعداد میں شرکت کرنے میں اس قرآنی اخوت کا عملی مظہر دکھائی دیا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق مختلف براعظموں سے آنے والے سرکاری و غیر سرکاری وفود نے نہ صرف تعزیت پیش کی بلکہ رہبرِ شہیدؒ کی سیاسی بصیرت، استقامت اور مزاحمتی فکر کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔ یہ امر اس بات کی علامت تھا کہ ان کی شخصیت صرف ایران تک محدود نہ تھی بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر فکری و سیاسی مرجع کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔

سیاسیات کے ماہرین کے نزدیک کسی بھی نظام کی اصل طاقت صرف اس کی عسکری یا اقتصادی قوت نہیں بلکہ عوام کا اعتماد اور نظریاتی وابستگی ہوتی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو رہبرِ شہیدؒ کی تشییع نے یہ ثابت کیا کہ انقلابِ اسلامی کی عوامی بنیادیں نہ صرف مضبوط ہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں کے بعد بھی ان میں تازگی اور استحکام موجود ہے۔

عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں منعقد ہونے والی تشییع جنازہ، مجالس، جلوس اور اجتماعی دعاؤں نے ایران و عراق کے مذہبی اور روحانی تعلقات کو مزید نمایاں کیا۔ اہلِ بیتؑ سے محبت اور محورِ مقاومت کی حمایت نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے عوام کو ایک مشترک فکری اور دینی رشتے میں متحد دکھایا۔

یہ تشییعی اجتماع بین الاقوامی سفارت کاری کے اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ مختلف ممالک کے وفود کی موجودگی نے اس امر کی نشاندہی کی کہ رہبرِ شہیدؒ کی شخصیت عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم مقام رکھتی تھی۔ ایرانی ذرائع نے اس شرکت کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سیاسی تنہائی کے تصور کی نفی اور اس کی بین الاقوامی حیثیت کے اظہار کے طور پر پیش کیا۔

سماجی اعتبار سے بھی یہ اجتماع ایک منفرد مثال تھا۔ لاکھوں رضا کاروں نے مہمانوں کی خدمت، نظم و نسق، ٹریفک، طبی امداد اور دیگر انتظامات میں حصہ لیا، جس سے ایرانی معاشرے کی تنظیمی صلاحیت اور اجتماعی شعور کا اظہار ہوا۔ یہ منظر دراصل اس ثقافت کی عکاسی کرتا تھا جس کی بنیاد ایثار، خدمت اور اجتماعی ذمہ داری پر رکھی گئی ہے۔آپ کی تشییع میں عوام کی بے مثال شرکت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ شخصیات جسمانی طور پر رخصت ہو جاتی ہیں لیکن ان کے افکار، نظریات اور خدمات قوموں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

رہبرِ شہیدؒ نے اپنی پوری زندگی اسلامی بیداری، استکبار کے مقابلے میں مقاومت، فلسطین کی حمایت، علمی خودکفالت، دینی بیداری اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے وقف رکھی۔رہبرِ شہیدؒ کی زندگی کا نمایاں پہلو سادگی، استقامت، عوامی قرب اور دینی وابستگی تھا۔ ان کی تشییع میں عوام کی بے مثال شرکت اس حقیقت کی علامت تھی کہ قائد کی اصل مقبولیت اقتدار سے نہیں بلکہ کردار، خدمت اور اخلاص سے پیدا ہوتی ہے۔

عالمی پیغام

یہ تاریخی اجتماع صرف ایک جنازہ نہ تھا بلکہ دنیا کے لیے متعدد اہم پیغامات کا حامل تھا:

انقلابِ اسلامی اپنی عوامی بنیادوں پر مضبوطی سے قائم ہے۔

رہبر کی شہادت نے ملتِ ایران کے اتحاد کو مزید مستحکم کیا۔

محورِ مقاومت اپنی قیادت کے فقدان کے باوجود کمزور نہیں ہوا۔

امتِ مسلمہ کے مختلف طبقات نے اسلامی اقدار سے وابستگی کا اظہار کیا۔

عالمی دباؤ کے باوجود ایران اپنی انقلابی شناخت پر قائم ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha