ہفتہ 28 مارچ 2026 - 16:04
غرورِ اقتدار سے زوال تک؛ باطل کی شوریدہ کہانی

حوزہ/ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جو طاقت انصاف سے خالی ہو، وہ دیرپا نہیں ہوتی؛ جو قیادت سچائی سے محروم ہو، وہ معتبر نہیں رہتی؛ اور جو نظام ظلم پر کھڑا ہو، وہ اپنے ہی بوجھ سے ٹوٹ جاتا ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی I بعض اوقات تاریخ کے افق پر ایسے کردار نمودار ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو قوت، اختیار اور فیصلے کا آخری مرکز سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے لہجوں میں غرور کی سختی، الفاظ میں دھمکی کی کاٹ، اور طرزِ عمل میں ایک عجیب بے قراری جھلکتی ہے۔ وہ اپنے بیان کو سچ نہیں بناتے، بلکہ سچ کو اپنے بیان کے تابع کرنا چاہتے ہیں—اور یہی وہ مقام ہے جہاں زوال کی کہانی خاموشی سے شروع ہو جاتی ہے۔

ایسے کرداروں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کے الفاظ میں تسلسل نہیں ہوتا؛ کبھی جنگ کا اعلان، کبھی مفاہمت کا دعویٰ؛ کبھی سختی کی انتہا، کبھی پسپائی کی کیفیت۔ یہ تضاد دراصل کسی حکمت کا نہیں بلکہ ایک اندرونی اضطراب کا آئینہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا کو خوف کے ذریعے جھکانا چاہتے ہیں، مگر خود اپنے خوف کے اسیر بن جاتے ہیں۔

ان کی سیاست میں اصول نہیں، مفاد ہوتا ہے؛ ان کے فیصلوں میں عدل نہیں، غلبہ ہوتا ہے؛ اور ان کے بیانیے میں سچ نہیں، وقتی فائدہ غالب ہوتا ہے۔

جب طاقت کو حق سمجھ لیا جائے تو ظلم جنم لیتا ہے۔ جب طاقت کو دوام دینے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا جائے تو بربریت پروان چڑھتی ہے۔ اور جب بربریت کو “حکمتِ عملی” کا نام دیا جائے تو انسانیت کراہ اٹھتی ہے۔

یہی وہ رویہ ہے جو کمزور قوموں کو دبانے، معصوم جانوں کو روندنے، اور زمین کے امن کو آگ میں جھونکنے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے: ظلم کی عمر طویل نہیں ہوتی۔ وہ جتنا بلند ہوتا ہے، اتنی ہی شدت سے گرتا ہے۔

ایسے کردار بظاہر ناقابلِ شکست نظر آتے ہیں، مگر ان کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی ہیں۔ ان کی طاقت خوف پر قائم ہوتی ہے، اور خوف ایک ایسا ستون ہے جو زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ جب خوف ٹوٹتا ہے تو ساری عمارت لرز جاتی ہے۔

ان کی شکست کسی ایک میدان میں نہیں ہوتی، بلکہ بتدریج ہوتی ہے۔ پہلے الفاظ کی ساکھ ختم ہوتی ہے، پھر فیصلوں پر اعتماد اٹھتا ہے، اور آخرکار ان کی قوت خود ان کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

اگر غور کریں تو یہ سب “نفسِ امّارہ” کی حکمرانی ہے۔ جہاں انسان خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے، اور پھر قدرت اسے اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جو طاقت انصاف سے خالی ہو، وہ دیرپا نہیں ہوتی؛ جو قیادت سچائی سے محروم ہو، وہ معتبر نہیں رہتی؛ اور جو نظام ظلم پر کھڑا ہو، وہ اپنے ہی بوجھ سے ٹوٹ جاتا ہے۔

آخرکار حق خاموش رہ کر بھی زندہ رہتا ہے، اور باطل شور مچا کر بھی مٹ جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha