اتوار 29 مارچ 2026 - 19:42
بقیع کی بے حرمتی سے لے کر احتجاج تک: ایک قوم کی آواز جو خاموش نہیں ہوتی

حوزہ/ ہم ہر سال ٨ شوال بطور یوم غم مناتے ہیں ۔ آج سے ۱۰۰ سال قبل یعنی ١٩٢٦ء میں اسی تاریخ مدینہ منورہ میں جنت البقیع اور مکہ معظمہ میں جنت المعلیٰ کے مقبروں اور مزارات کو مسمار کر دیا گیا۔ یہ مزارات جناب فاطمۃ الزہرا (ع)، امام حسن (ع)، امام زین العبدین(ع) ، امام محمد باقر (ع)، امام جعفر صادق(ع) اور دیگر اولاد، ازواج، اصحاب اور اقربائے پیغمبر اور شہدائے راہِ حق کے تھے۔ 

تحریر: مولانا سید کاشف رضوی زید پوری

حوزہ نیوز ایجنسی I بسم اﷲ الرحمن الرحیم ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (سورہ حج آیت ٣٢)

یہ ہے حقیقت حال! اور جو کوئی شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ کے سبب ہے۔

ہم ہر سال ٨ شوال بطور یوم غم مناتے ہیں ۔ آج سے ۱۰۰ سال قبل یعنی ١٣٤٤ھ/ ١٩٢٦ء میں اسی تاریخ مدینہ منورہ میں جنت البقیع اور مکہ معظمہ میں جنت المعلیٰ کے مقبروں اور مزارات کو مسمار کر دیا گیا۔ یہ مزارات جناب فاطمۃ الزہرا (ع)، امام حسن (ع)، امام زین العبدین(ع) ، امام محمد باقر (ع)، امام جعفر صادق(ع) اور دیگر اولاد، ازواج، اصحاب اور اقربائے پیغمبر اور شہدائے راہِ حق کے تھے۔

جنت البقیع کی تاریخی حقیقت:

بقیع کے لفظی معنی درختوں کا باغ ہے اور تقدس کی خاطر اس کو جنت البقیع کہا جاتا ہے یہ مدینہ میں ایک قبرستان ہے جس کی ابتدا ٣ شعبان ٣ھ کو عثمان بن مزون کے دفن سے ہوئی، اس کے بعد یہاں آنحضرت کے فرزند حضرت ابراہیم کی تدفین ہوئی ۔ آنحضرت(ص) کے دوسرے رشتہ دار صفیہ ،عاتکہ اور فاطمہ بنت اسد (ع)( والد امیر المومنین (ع) بھی یہاں دفن ہیں تیسرے خلیفہ عثمان جنت البقیع سے ملحق باہر دفن ہوئے تھے لیکن بعد میں اس کی توسیع میں ان کی قبر بھی بقیع کا حصہ بن گئی۔ بقیع میں دفن ہونے والوں کو آنحضرت خصوصی دعا میں یاد کرتے تھے اس طرح بقیع کا قبرستان مسلمانوں کے لئے ایک تاریخی امتیاز و تقدس کا مقام بن گیا۔

وہابیت کی ابتدا اور فروغ:

١٣ ویں صدی ہجری کے اوائل میں حجاز میں وہابیت کے سبب سیاسی حالات کا رخ پلٹا اور جنت البقیع بھی ان کی زد سے محفوظ نہ رہ سکی۔

١١١٥ عیسوی میں محمد بن عبدالوہاب نامی شخص پیدا ہوا، وہ مدینہ منورہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بصرہ، بغداد، ہمدان اور قم گیا اور حصول علم کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کے بعد پہلے اس نے حنبلی نظریات کو قبول کیا پھر حنبلی بیعت سے آزاد ہو کر احادیث میں اس خود استباط ( یعنی تفسیر بالرائے) کا دعویٰ کیا۔ نتیجتاً اس کو مخالفانہ نظریات کی تبلیغ کے سبب بستی سے نکال دیا گیا ۔ اس وقت نجد میں محمد بن سعود نامی شخص تھا محمد بن سعود نے محمد بن عبدالوہاب کو اپنے قبیلے میں پناہ دی اور دونوں کے درمیان وہابیت کے فروغ اور تبلیغ کا معاہدہ ہوا۔

محمد بن عبدالوہاب نے جاہل عربوں کو اپنی طرف مائل کرنے وہابیت کے نام جو عقیدہ یا Doctrine دیا اس کے رو سے اسلام میں قبر پرستی شرک ۔قبور پر سائبان چھت ، قبہ، گنبد بنانا ناجائز ہی نہیں بلکہ کفر اورزیارت قبور کے لئے جانا ناجائز تھا ۔معاہدہ کی رو سے محمد بن عبدالوہاب لوگوں کو وہابیت کی طرف مائل اور ان کو ابن سعود کی حمایت پرتیار کرتا اور یہ لوگ ابن سعود کی سر کردگی میں ہمسایہ علاقوں پر حملہ کرتے۔ اس طرح ابن سعود نے حجاز کے وسیع علاقہ پر قبضہ جمالیا اور محمد بن عبدالوہاب کو اپنا قاضی مقرر کیا۔خود محمد بن سعود نے بھی وہابی نظریات کو قبول کرلیا اور اس طرح وہابیت کو حجاز میں سر کاری مذہب کا درجہ مل گیا۔ محمد بن سعود کے انتقال پر ان کے بھائی عبدالعزیز بن سعود نے بھی وہ معاہدہ بر قرار رکھااور اس طرح لشکر کشی جاری رہی۔

نکتہ: قابل ذکر ہے کہ زیارت قبور کے جواز کے ضمن میں حدیث رسول (ص) اور توسل اصحاب کی ٢٦ روایات موجود ہیں، مذاہب اربعہ کے ٤٠ علما نے زیارت قبر نبی(ص) کے آداب اور زیارتیں نقل کی ہیں۔ سارے عالم اسلام میں ابنیاء صحابہ، تابعین ، علماء اور اولیا کی قبریں مختلف جگہ موجود ہیں اور مرجع خلائق ہیں۔

قرآن کے سورہ حج کی ٣٢ ویں آیت میں شعائر اﷲ کی تعظیم سے متعلق صریح احکام موجود ہیں ۔ ان تمام دلائل کے باجود بفرض محال عقیدہ وہابیت کو قابل قبول سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ گزشتہ ١٤ صدیوں میں سارے عالم اسلام میں جہاں جہاں قبور کی زیارت، احترام، تعمیر مرمت اور دیکھ بھال کی گئی وہ تمام اعمال شرک، کفر اور بدعت کے زمرہ میں شمار ہوں گے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔

انہدام جنت البقیع:

عالمِ اسلام میں افراتفری کے متذکرہ تاریخی عوامل نے عبدالعزیز ابن سعود کو حجاز پر پیش قدمی کا موقع فراہم کردیا اور تمام یقین دہانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جنوری ١٩٣٦ء میں سلطان ابن سعود نے حجاز پر اپنی حاکمیت کا اعلان کردیا۔ وہابیت جو اب ریاستی مذہب بن گئی تھی بزور شمشیر اہل حجاز پر تھوپی جارہی تھی سعودی حملہ آور جب مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے جنت البقیع اور ہروہ مسجد جو ان کے راستہ میں آئی منہدم کردیا اور سوائے روضہ نبوی کے کسی قبر پر قبہ باقی نہ رہا۔آثار ڈھائے گئے اکثر قبروں کی تعویز اور سب کی لوحیں توڑ دی گئیں ۔

انہدام جنت البقیع کی خبر سے عالم اسلام میں رنج و غم کی ایک لہر پھیل گئی ساری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاجی جلسے کئے اور میمورنڈم لکھے گئے جس میں سعودی جرائم کی تفصیل دی گئی۔ مسلمانوں کے مسلسل احتجاج پر سعودی حکمرانوں نے مزارات کی مرمت کی یقین دہانی کی یہ وعدہ آج تک پورا نہ ہوسکا۔

یہی وجہ ہے کہ آج کے روز ہر سال احتجاج کرکے ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم وہ قوم ہیں جو کبھی ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہتی جب ہم انسانیت کے تحفظ کے لئے احتجاج کر سکتے ہیں تو نبی کی بیٹی اور ان کے خانوادے کی قبور کو منہدم کر دیا جائے اور ہم خاموش رہیں یہ ممکن نہیں یہ احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک سعودی حکمرانوں کے ہوش ٹھکانے نہ آجائیں اور وہ جنت البقیع کی دوبارہ تعمیر نہ کروا دیں اور وہ دن انشاء اللہ جلد آئے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha