تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی I ملتِ ایران… تم صرف ایک سرزمین کے مکین نہیں، بلکہ ایک فکر ہو، ایک قیام ہو، ایک ایسا نور ہو جو صدیوں کے اندھیروں کو چیرتا ہوا، دلوں کے افق پر طلوع ہوا ہے۔
تمہاری داستان، مٹی کی نہیں بلکہ روح کی داستان ہے۔ یہ وہ داستان ہے جو کبھی واقعہ کربلا کے تپتے ریگزاروں میں لکھی گئی، اور آج تہران کی گلیوں، قم کے مدارس اور ایران کے ہر کوچہ و بازار میں زندہ و جاوید ہے۔
جب دشمن نے تمہیں خوفزدہ کرنے کے لئے آگ برسائی، جب آسمانوں سے موت کے پیغام اترے، جب تمہارے جوانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کئے گئے، تب تم نے چیخ کر نہیں، مسکرا کر جواب دیا۔
یہ مسکراہٹ کوئی عام مسکراہٹ نہ تھی، یہ یقین کی مسکراہٹ تھی، یہ اُس بندے کی مسکراہٹ تھی جسے اپنے رب پر کامل بھروسہ ہو۔
تم نے دنیا کو بتا دیا کہ: “ہمیں مٹانے والے خود مٹ جائیں گے، مگر ہم باقی رہیں گے۔ کیونکہ ہم حق کے ساتھ ہیں!”
اے ملتِ بیدار! تمہارے قدموں کی چاپ میں انقلاب کی صدا ہے، تمہارے نعروں میں کربلا کی بازگشت ہے، تمہارے آنسوؤں میں دعا ہے اور تمہارے خون میں شہادت کی خوشبو ہے۔
یہ وہی خوشبو ہے جسے آیۃ اللہ روح اللہ خمینی بت شکن نے محسوس کیا تھا، جب انہوں نے ایک مظلوم قوم میں زندگی کی روح پھونکی اور آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی بصیرت، شجاعت، قیادت سے اسے فروغ اور شہادت سے دوام بخشا۔ آج وہی خوشبو آیۃ اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی بصیرت میں جلوہ گر ہے، جو طوفانوں کے بیچ بھی کشتیِ امت کو ساحل کی طرف لے جا رہی ہے۔
ملت ایران! تمہاری استقامت، فقط ایک سیاسی مزاحمت نہیں، یہ ایک سفر الی اللہ ہے۔ جہاں ہر قربانی، ایک عبادت بن جاتی ہے، جہاں ہر شہید، ایک زندہ آیت بن جاتا ہے۔ جہاں ہر ماں، زینبی کردار میں ڈھل جاتی ہے۔
ہاں! یہ وہی زینبی کردار ہے، جو زینب بنت علی علیہما السلام نے کربلا کے بعد دنیا کو سکھایا تھا کہ ظلم کے دربار میں بھی حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا!
اے سرزمینِ ایران! تمہارے شہداء صرف تمہارے نہیں، وہ پوری انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ان کا لہو، صرف زمین پر نہیں گرا، وہ آسمانوں تک پہنچا ہے، اور عرش کو ہلا گیا ہے۔
جب ایک نوجوان “لبیک یا حسینؑ” کہہ کر میدان میں اترتا ہے تو درحقیقت وہ وقت کے یزید کو للکار رہا ہوتا ہے! وہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ: “ہم وہ قوم ہیں جو سر کٹوا سکتے ہے، مگر سر جھکا نہیں سکتے!”
دشمن نے تمہیں توڑنے کی بہت کوشش کی، پابندیاں لگائیں، معیشت کو نشانہ بنایا، پروپیگنڈہ کے طوفان کھڑے کئے، مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ قوم ٹینکوں سے نہیں، ایمان سے چلتی ہے!
تمہاری طاقت تمہارے ہتھیار نہیں، تمہاری طاقت تمہاری نمازیں ہیں، تمہاری طاقت تمہاری دعائیں ہیں، تمہاری طاقت تمہاری وحدت ہے۔
اور یہی وہ راز ہے جس نے تمہیں ناقابلِ شکست بنا دیا ہے۔
آج دنیا حیران ہے کہ ایک قوم، اتنے دباؤ کے باوجود کیسے قائم ہے؟ کیسے ہر حملے کے بعد اور مضبوط ہو جاتی ہے؟
جواب صرف ایک ہے: “کیونکہ یہ قوم خدا پر یقین رکھتی ہے…”
اے ملتِ استقامت! تم صرف اپنے لئے نہیں لڑ رہے، تم ہر مظلوم کی جنگ لڑ رہے ہو، تم ہر اس آنکھ کے آنسو کا بدلہ لے رہے ہو، جو ظلم کی وجہ سے بہے ہیں۔
تمہاری آواز، فلسطین کی گلیوں میں گونجتی ہے، تمہاری للکار، یمن کے پہاڑوں میں سنائی دیتی ہے، تمہاری استقامت، لبنان کے مورچوں میں حوصلہ بن کر ابھرتی ہے۔
تم ایک قوم نہیں، تم ایک تحریک ہو، ایک امید ہو، ایک وعدۂ الٰہی ہو۔
اور یاد رکھو! جب قومیں خدا کے لئے کھڑی ہو جائیں تو پھر خدا ان کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو اس کا پوری دنیا بھی کچھ نہیں کر سکتی۔
سلام ہو تم پر اے ملتِ ایران! تمہارے صبر پر، تمہارے جہاد پر، تمہارے عشقِ الٰہی پر سلام۔ کہ تم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا: “یہ راستہ کربلا کا راستہ ہے۔ اور اس راستے کا انجام ہمیشہ فتح ہے!”
ملت ایران! فاسق و فاجر گلابی مسخرے نے تمہارے اس پرچم کو سر نگوں کرنا چاہا جس کے رنگ ترقی، امن اور استقامت کے ترجمان اور اس میں اللہ کا نام "وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ العُليا" کا اعلان ہے، لیکن آج وہی پرچم نہ صرف ایران میں بلکہ خود امریکہ میں بلند ہے اور تمہارے پرچم کو بلند کرنے والے "نو کنگز" کا نعرہ لگا کر اپنے انتخاب پر شرمندہ اور تمہاری استقامت کا کلمہ پڑھ رہے ہیں۔
اے بہادروں! شیطان بزرگ، اسکی ناجائز اولاد اور اسکے یہودی زادے چاپلوسوں اور غلاموں نے چاہا تمہیں مٹا دیں لیکن وہ خود مٹ رہے ہیں اور شکست سے دوچار ہو رہے ہیں۔
ملت غیور کے حوصلے کو سلام!
ملت شجاع کے جذبے کو سلام!
ملت شریف کے صبر کو سلام!









آپ کا تبصرہ