جمعہ 27 مارچ 2026 - 19:55
جنگ کب ختم ہوگی، اس کا فیصلہ ٹرمپ نہیں ایران کرے گا: امام جمعہ قم

حوزہ / آیت اللہ سید محمد سعیدی امام جمعہ قم نے کہا کہ ایران کبھی بھی خائن ٹرمپ کو جنگ کے خاتمے کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، مغربی دنیا اور وہ تمام ممالک جو آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، یہ بات جان لیں کہ اس راستہ کی صورتحال ہرگز جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید محمد سعیدی نے قم کے مصلیٰ قدس میں نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ موجودہ حالات نہایت حساس اور فیصلہ کن ہیں، جہاں ایران کو استکباری طاقتوں کے خلاف ایک ہمہ جہتی محاذ کا سامنا ہے، اس لیے رہنما اصولوں کو درست اور گہرائی سے سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

آیت اللہ سعیدی نے کہا کہ “میدان تمہارے لیے اور سڑکیں ہمارے لیے” جیسا جملہ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی ہے، جو عسکری طاقت اور عوامی نرم طاقت کے درمیان توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ افواج اور سکیورٹی ادارے میدانِ جنگ میں ملک کی خودمختاری اور عزت کا دفاع کر رہے ہیں، جبکہ عوام کی موجودگی اور سماجی سرگرمی اس مزاحمت کو تقویت دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کی جنگ صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک “ہائبرڈ جنگ” ہے جو عوام کے ذہنوں اور معاشرتی میدان تک پھیل چکی ہے۔ دشمن میڈیا، نفسیاتی حربوں اور بیرونی دباؤ کے ذریعے داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ مخالف گروہوں کی جانب سے احتجاجی کالز بھی اسی سازش کا حصہ ہیں، جن کا مقصد عوامی تحریک نہیں بلکہ بدامنی کا تاثر پیدا کرنا ہے۔

خطیب جمعہ قم نے زور دیا کہ سڑکوں کا خالی ہونا دشمن کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، اس لیے عوام کی پرامن اور باشعور موجودگی ضروری ہے، جو سخت مزاحمت کے لیے نرم پشت پناہی فراہم کرتی ہے۔

امام جمعہ قم نے جنگ رمضان سے پہلے اور بعد میں امریکی صدر کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: "ٹرمپ اور صہیونی حکومت نے اسلامی ایران پر حملہ کیا تھا جس کے اہداف تھے: ایران کی جوہری صنعت کی مکمل تباہی، میزائل صنعت اور صلاحیت کا خاتمہ، رہبری کے قتل اور تمام ڈھانچوں پر شدید حملے کے ذریعے سیاسی، فوجی اور دفاعی ڈھانچے کا خاتمہ، اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی مکمل برطرفی، اور ایران کو کئی حصوں میں مختلف جھنڈوں کے ساتھ تقسیم کرنا۔"

انہوں نے کہا کہ ان کے یہ اہداف اس لیے میڈیا میں آئے کیونکہ انہیں ان کی تکمیل میں کوئی شک نہیں تھا۔ ٹرمپ وہ کام کرنا چاہتا تھا جو ۴۷ سال سے تمام صہیونی عہدیداروں کا خواب تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ ۴۸ گھنٹوں میں وہ اپنے پانچوں مقاصد حاصل کر لیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کیے ہوئے ایران کو اس کے تمام وسائل اور ذخائر سمیت نگل جائیں گے۔

امریکہ اپنے نئے اہداف میں ناکام

آیت اللہ سعیدی نے کہا: "خدا کے فضل سے امریکہ نہ صرف مذکورہ اہداف تک نہیں پہنچ سکا بلکہ اسے مجبوراً دوسرے اہداف کا تعاقب کرنا پڑ رہا ہے، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور اس اسٹریٹجک آبی راستے میں ممالک کی آمد و رفت کو معمول پر لانا، امریکہ میں مالی اور تجارتی منڈیوں کے خاتمے کو روکنا، مغربی ایشیا میں امریکی اثاثوں کو مزید مالی، ساز وسامان اور جانی نقصانات سے بچانا، جنگ کے دلدل سے نکلنے کے لیے کامیابی کا دعویٰ بنانا اور امریکہ میں عوامی رائے کو اس کا جواز فراہم کرنا شامل ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ان دو گروہوں کے اہداف کا تقابلی جائزہ بتاتا ہے کہ جنگ رمضان میں ایران اور امریکہ کی طاقت کی سطح بدل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا خصوصاً مغربی ایشیا جنگ رمضان کے بعد بنیادی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرے گا۔ ایک معروف مغربی سیاست دان کے حوالے سے کہا کہ "ایران اب دنیا کی اکثریت عوام کا ہیرو ہے۔"

امام جمعہ قم نے یاد دلایا: "اسلامی جمہوریہ نے ۴۷ سال امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے باوجود سلامت رہ کر ترقی کی، لیکن امریکہ طاقتور ایران کے ساتھ چند روز کی جنگ کے بعد گھٹنوں پر آ گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ امریکہ، مغربی دنیا اور وہ سب جو آبنائے ہرمز سے استفادہ کرتے تھے، جان لیں کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال کبھی بھی جنگ سے پہلے کی صورت حال میں واپس نہیں جائے گی۔

جنگ کے خاتمے کی اجازت ٹرمپ کو نہیں دیں گے

آیت اللہ سعیدی نے زور دے کر کہا: "ایران کبھی بھی غدار ٹرمپ کو جنگ کے خاتمے کی تعین کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔" انہوں نے کہا: "جب دوسرے ممالک کے قریب امریکی بحری جنگی جہاز پہنچتے ہیں تو وہ خود کو کھو بیٹھتے ہیں اور ہتھیار ڈال دیتے ہیں، لیکن آج دنیا کی طاقتور ترین طاقت کے جنگی جہاز آپ لوگوں کے میزائلوں کے غضب سے چھپ رہے ہیں یا بھاگ رہے ہیں۔ ایران عالم خوار امریکہ کے جنگی جہازوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے تاکہ انہیں سمندر کی تہہ میں پہنچا دے۔"

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے جو جنگ شروع کی، اس نے ایران میں نظام بدلنے کے بجائے امریکہ میں نظام بدلنے کا راستہ فراہم کر دیا ہے۔

سورہ فتح آج کی امت کے لیے سبق

اپنے پہلے خطبے میں آیت اللہ سعیدی نے تقویٰ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: "بے شک جو لوگ تقویٰ اختیار کریں، جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آتا ہے تو وہ خدا کو یاد کر لیتے ہیں اور اسی وقت بصیرت پا لیتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ سورہ فتح صدر اسلام کے واقعات بیان کرتی ہے، لیکن یہ واقعات اس طرح ہیں کہ گویا آج کی امت کے حالات سے بھی ہم آہنگ ہیں۔ یہ سورہ مسلمانوں کی پوشیدہ اور ظاہری کامیابیوں اور منافقوں کے انجام کے بارے میں بتاتی ہے جو آج ہمارے لیے بھی سبق ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدا نے آیت ۱۵ میں منافقین کی خیبر کے غنائم میں شرکت کی درخواست کو مسترد کرنے اور کلام خدا کو تبدیل کرنے کے اصرار پر انہیں سرزنش کرنے کے بعد آیت ۱۶ میں ان کے لیے ماضی کی تلافی کا ایک اور موقع کھول دیا۔

آیت اللہ سعیدی نے آیت ۱۶ کی تلاوت کی: "آپ ان پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہہ دیں: عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے، تم ان سے جنگ کرو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ پس اگر تم اطاعت کرو گے تو خدا تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم نے اسی طرح منہ پھیر لیا جیسے پہلے پھیرا تھا تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔"

انہوں نے کہا کہ یہ آیت متخلفین کو موقع دیتی ہے کہ وہ مومنین کی صف میں شامل ہو جائیں۔ یہ اللہ کی سنت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سورہ فرقان کی آیت ۷۰ میں فرمایا: "مگر جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں تو اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔"

دو راستے، کوئی بیچ کا راستہ نہیں

نمایندہ ولی فقہ نے کہا کہ آیت ۱۶ میں خدا اطاعت اور نافرمانی کے دو اصول بیان کرتا ہے اور دو متضاد انجام دکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا: "خدا کے احکام کے مقابلے میں دو قسم کے موقف ہوتے ہیں، کوئی بیچ کا راستہ نہیں ہے کیونکہ ایمان، اخلاص اور یقین کا کوئی بیچ کا درجہ نہیں ہوتا، غیرجانبداری اور بیچ کا راستہ دراصل منافقین کی روح اور عمل ہے۔"

انہوں نے کہا کہ آیت ۱۶ جہاد اسلامی کا واضح ہدف بتاتی ہے: دشمنوں سے جنگ کا مقصد قتل نہیں بلکہ دنیا سے فتنہ کا خاتمہ ہے، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۳ میں فرمایا: "ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لیے ہو جائے۔"

آیت ۱۶ سورہ فتح سے چار سبق

امام جمعہ قم نے اس آیت سے چار عملی سبق بیان کیے:

۱. موقع پرستوں اور مشکلات میں بھاگنے والوں کے لیے انتباہ کہ وہ آسانیوں میں اجر کے منتظر نہ رہیں، بلکہ اپنے تخلف کی تلافی کے لیے انہیں زیادہ سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔

۲. متخلفین کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ توبہ کا راستہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے۔

۳. حق کو صاف صاف بیان کرنا: اللہ صاف کہہ رہا ہے کہ ماضی کی تلافی کے لیے انہیں آئندہ سخت جنگجو دشمنوں سے لڑنا ہو گا۔

۴. ترغیب کو تہدید پر مقدم رکھنا: اللہ پہلے اجر حسن کا ذکر فرماتا ہے، پھر تخلف کی صورت میں عذاب کی تنبیہ کرتا ہے۔ ہمیں بھی ترغیب کو تہدید پر مقدم رکھنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha