جمعرات 7 مئی 2026 - 18:02
مسلمان ہر زمانے میں "اشداء علی الکفار و رحماء بینهم" دشمن پر سخت، آپس میں مہربان ہوتے ہیں

حوزہ/ حوزہ علمیہ قم کے سینئر استاد حجت الاسلام والمسلمین حسین بنیادی نے کہا ہے کہ قرآن کا اصول "اشداء علی الکفار و رحماء بینهم" یعنی کافروں پر سخت اور آپس میں مہربان ہونا، کسی خاص زمانے کے لیے نہیں بلکہ ہر دور میں مسلمانوں کی کامیابی کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک انتہائی اہم تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں جیت کا مطلب صرف ایران کی کامیابی نہیں بلکہ پوری امت اور انسانیت کا مستقبل سنوارنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام بنیادی نے شہید رہبر کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے نے امت کے زخم تو ہرے کیے، مگر ساتھ ہی توحیدی تحریک میں نئی روح ڈال دی۔ انہوں نے کہا کہ آج ایران جو عالمی طاقت بن کر ابھرا ہے، یہ عوام کے ایمان، خون شہدا اور رہبران راہ کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے شہید رہبر کے آخری پیغام سے تین سبق یاد دلائے: پہلا ایمان جو عوام کو جوش دیتا ہے، دوسرا اتحاد جس کی مثال آپ نے دی کہ چھوٹے گاؤں تک لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں، اور تیسرا اقتدار جو دشمنوں کے منہ پر تالا لگا دیتا ہے۔

استاد بنیادی نے تفرقہ ڈالنے کو شرعاً حرام قرار دیا اور کہا کہ ایرانی عوام بہت ذہین اور پکے ہیں، وہ آپس میں پھوٹ ڈالنے والوں کو خود ہی سبق سکھا دیں گے۔

انہوں نے "امت مبعوث" کی پانچ خوبیاں بتائیں: اللہ پر بھروسہ، عقلمندی، تاریخ کی سمجھ، عملی میدان میں قدم رکھنا، اور خالص رہبری کی تابعداری۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ملت ایران ایک مقدس مقصد کے لیے کھڑی ہے، اور یہی مقصد انہیں روز تازہ دم کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ دور میں "جنگ وجودی" لڑی جا رہی ہے، اور اس میں کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان ہر مشکل لمحے میں دشمن کے مقابلے پر سخت ہوں اور اپنوں میں نرم و رحم دل۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے رہبر کی حکمت عملی سے یہ سلسلہ جاری رہے گا اور امت اسلامیہ مزید فتوحات حاصل کرے گی

استاد بنیادی نے پورے خطاب میں یہی پیغام دیا کہ ایمان، اتحاد اور اقتدار کی مضبوطی ہی واحد راستہ ہے، اور یہ کہ عوام کی بیداری دشمنوں کو مایوس کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنے اندر یہ طاقت پیدا کر لیتی ہیں، دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha