حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دار الافتاء عراق کے سربراہ شیخ مہدی صمیدعی نے حاجیوں کے نام جاری اپنے پیغام میں حج کے عظیم مقام کو اجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں اور بالخصوص ایران کے عوام کی سربلندی اور کامیابی کی دعا کی ہے۔
انہوں نے بیت اللہ کے حاجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اے بیت اللہ الحرام کا قصد کرنے والو! میں آغاز میں اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے توفیق کا سوال کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ کا حج مقبول، آپ کے گناہ معاف اور آپ کی واپسی امن و صحت کے ساتھ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔"
شیخ مہدی صمیدعی نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ "بخاری و مسلم کی روایات میں حضرت ابوہریرہ سے نقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔" اسی طرح سنن کی کتابوں (ابوداؤد کے علاوہ) میں روایت ہے: "حج اور عمرہ کو پے در پے انجام دو کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے اور سونے سے میل کچیل دور کرتی ہے۔"
اے بیت اللہ کے حاجیو! خبردار کہ جنوں اور انسانوں میں سے شیاطین آپ کے عمل میں شک و شبہ نہ ڈالیں اور آپ کے دلوں کو کمزور نہ کریں یا آپ کو کافروں کی طرف مائل نہ کر دیں۔
عراق کے مفتی نے اپنے پیغام میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مسلمانوں کو ہر جگہ بالخصوص جمہوری اسلامی ایران میں سربلند اور کامیاب فرمائے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں 75 ملین سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: "مسلمان کا اپنے بھائی مسلمان پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی مدد کرے، اور کم سے کم مدد یہ ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے حق میں دعا کرے۔"
اس پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ "اے عظیم حاجیو! اسلام کی ایسی نئی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں جس کا پرچم اتحاد ہو۔ اللہ آپ کے گناہوں کو معاف کرے، آپ کا حج قبول فرمائے اور آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔"
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل عراق اور پاکستان کے متعدد شیعہ علما اور اہل سنت مفتیوں نے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں حاجیوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اپنے حج کے اعمال انقلاب کے شہید رہبر، حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای (رہ) کی طرف سے ادا کریں۔









آپ کا تبصرہ