۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
سائرہ ابراہیم

حوزہ/ اہل تشیع مکتب سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی اداروں سے تعلق رکھنے افراد کی فہرست جنہیں 2005 سے 2018تک شہید کیا گیا ان میں سے کسی ایک شہید کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا کیا مکتب اہل تشیع کے لئے انصاف کا پیمانہ کچھ اور ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،گلگت/ مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری یوتھ خواہر سائرہ ابراہیم نے اپنے جاری بیان  میں کہا کہ گلگت بلتستان میں حالیہ کشیدہ حالات جن کی وجہ ماضی میں کئے گئے فراہمی انصاف کے یک طرفہ فیصلے تھے، انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کا اہل تشیع کے ساتھ متعصبانہ رویہ کیوں ہے؟

انہوں نے منظر نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کے 2005 کے بعد دہشتگردوں نے مختلف علاقوں میں شہید کیا حکومت اور اداروں نے ان فوجی اور پولیس جوانوں کے قاتلوں کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا انصاف کی فراہمی کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دو رینجرزاہلکاروںکے قتل کا دعوی کر کے 14 نوجوانوں کو سزائیں سنانا کہاں کا انصاف ہے وہ کوئی آسمان سے اترے تھے، انہوں نے کہا کے رینجرز کیس میں دو سیدانیوں سمیت 9 افراد شہید کئے گے ان کے قاتل کہاں ہیں ؟

انہوں نے کہا کے سانحہ کوہستان 18 افراد سانحہ چلاس 25 افراد سانحہ بابو سر 25 افراد عید منانے آنے والے مظلوم افراد کو بےدردی سے  شہید کیا گیا انصاف فراہم کرنے والے ادارے اس ظلم پر خاموش کیوں ہیں ؟ اہل تشیع مکتب سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی اداروں سے تعلق رکھنے افراد کی فہرست جنہیں 2005 سے 2018تک شہید کیا گیا ان میں سے کسی ایک شہید کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا کیا مکتب اہل تشیع کے لئے انصاف کا پیمانہ کچھ اور ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 9 =