۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
سکردو تعزیتی ریفرنس

حوزہ/ 25 مئی 2023ء کو شہداء کمیٹی الڈینگ سکردو کی جانب سے مرکزی جامع مسجد سکردو میں سانحہ 1988ء کے شہداء اور شہدائے گلگت و بلتستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک عظیم الشان پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 25 مئی 2023ء کو شہداء کمیٹی الڈینگ سکردو کی جانب سے مرکزی جامع مسجد سکردو میں سانحہ 1988ء کے شہداء اور شہدائے گلگت و بلتستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک عظیم الشان پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔

سانحہ 1988ء گلگت بلتستان کے اہل تشیع کے خلاف ایک منظم سازش تھی، مقررین

تفصیلات کے مطابق، اس عظیم الشان پروگرام سے صدر انجمن امامیہ آغا باقر الحسینی، نائب امام جمعہ علامہ شیخ جواد حافظی اور علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے خطاب کیا اور شہید اور شہادت کی عظمت پر روشنی ڈالی اور شہداء کے راستے پر چلتے ہوئے دین اسلام کی خدمت کرنے کی تاکید کی۔

سانحہ 1988ء گلگت بلتستان کے اہل تشیع کے خلاف ایک منظم سازش تھی، مقررین

مقررین نے کہا کہ 88 کا سانحہ کیوں پیش آیا؟ کون لوگ اس میں ملوث تھے؟ اور اس کے محرکات کیا تھے؟ ان سب سوالوں کے جوابات نئی نسل تک پیغام کی صورت میں پہنچانے کی ضرورت ہے۔

سانحہ 1988ء گلگت بلتستان کے اہل تشیع کے خلاف ایک منظم سازش تھی، مقررین

مقررین نے سانحہ 1988ء کی جانب مزید اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لشکر کی صورت میں آنے والے دہشت گردوں کا اتنا لمبا راستہ طے کر کے گلگت جلال آباد تک پہنچنا اور سیکیورٹی اداروں کا انہیں کہیں پر بھی نہ روکنا اور کھلی چھوٹ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت کے سیکیورٹی ادارے اس سانحے میں ملوث تھے، سانحہ کی نوعیت یہ تھی کہ صرف ایک مسلک کے افراد کو بے درددی کے ساتھ شہید کیا گیا اور جنازوں کو گاڑی سے روند ڈالا گیا۔

علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں دو لوگوں کو ہمیشہ دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور وہ مکتب تشیع کے افراد اور پاک فوج کے جوان ہیں۔

سانحہ 1988ء گلگت بلتستان کے اہل تشیع کے خلاف ایک منظم سازش تھی، مقررین

انہوں نے مزید کہا کہ ہم با اثر اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دہشت گرودوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں ان شہداء کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ پاکستان کی تشکیل اور پاکستان کی بقاء میں تشیع کا خون شامل ہے۔

سانحہ 1988ء گلگت بلتستان کے اہل تشیع کے خلاف ایک منظم سازش تھی، مقررین

واضح رہے کہ سانحہ 1988ء کے شہدائے گلگت بلتستان سے تجدید عہد کیلئے منعقدہ اس پروگرام میں علماء اور مؤمنین کی کثیر تعداد شریک تھی۔

سانحہ 1988ء گلگت بلتستان کے اہل تشیع کے خلاف ایک منظم سازش تھی، مقررین

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .