۱۴ اسفند ۱۴۰۲ |۲۳ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 4, 2024
انجمن امامیہ گلگت بلتستان

حوزہ/ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان تمام علاقائی اور قومی اداروں، جماعتوں، تنظیموں اور بالخصوص اہلسنت، اسماعیلی برادران اور نور بخشیہ مسلمانوں کو دعوت دیتی ہے کہ چلاس روڈ پر ہونے والی اس دہشت گرد کارروائی کے خلاف سب مل کر ہم آواز ہوں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پرامن اور برادرانہ ماحول کی بنیاد رکھیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے زیراہتمام مرکزی امامیہ مسجد شہید سید ضیاء الدین رضوی میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں گلگت ریجن کی تمام ذیلی انجمنوں کے صدور اور جنرل سیکریٹریز نے شرکت کی، اس کے علاوہ نگر سپریم کونسل کے ذمہ داران بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل نقاط پر اتفاق کیا گیا۔

مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان تمام علاقائی اور قومی اداروں، جماعتوں، تنظیموں اور بالخصوص اہلسنت، اسماعیلی برادران اور نور بخشیہ مسلمانوں کو دعوت دیتی ہے کہ چلاس روڈ پر ہونے والی اس دہشت گرد کارروائی کے خلاف سب مل کر ہم آواز ہوں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پرامن اور برادرانہ ماحول کی بنیاد رکھیں۔

سانحہ ہڈور چلاس کے حوالے سے دیامر یوتھ کے جذبہ حب الوطنی اور حق بات کے مطالبے کو سراہتے ہیں، جس میں انہوں نے دیامر کے اندر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سانحہ ہڈور چلاس کا واقعہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے اور یہ بالکل اسی انداز میں واقع ہوا ہے، جیسے آج سے پہلے چلاس روڈ پر سانحات رونما ہوتے رہے ہیں، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ تمام کارروائیاں ایک ہی طرح کے لوگ انجام دے رہے ہیں۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ دیامر کے اندر موجود دہشت گردی کے تمام ٹھکانوں، ان کے سرپرستوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے، نہ صرف کارروائی کی جائے بلکہ ان تمام دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

بیان میں مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے حکومت گلگت بلتستان اور سکیورٹی اداروں کو جمعہ کے دن تک کا وقت دیا تھا، تاکہ دہشت گردی کے اس ناخوشگوار واقعے کے حوالے سے اقدام اٹھانے میں آسانی ہو۔ جمعہ کی صبح انتظامی اور سکیورٹی ذمہ داران نے مرکزی انجمن امامیہ کے ذمہ داران سے رابطہ کیا، جس کے بعد تفصیلی نشست ہوئی۔ حکومتی اور انتظامی ذمہ داران نے شہداء کے قاتلوں کے خلاف کارروائی اور ملت جعفریہ کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن کے سلسلے میں مزید 3 دن کی مہلت مانگی۔ جس پر مرکزی انجمن امامیہ نے ہنگامی اجلاس کے دوران جس میں گلگت شہر کی تمام ذیلی انجمنوں کے علاوہ، نومل، نلتر نگر، غذر، حراموش، جلال آباد، دنیور، جوتل، ہنزہ اور استور کی انجمنوں کے بشمول ملی تنظیمات ہئیت آئمہ جماعت امامیہ گلگت، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنا ئزیشن، سبیل اسکاوٹس، امامیہ آرگنائزیشن اور پاسبان اسلام کے برادران بھی شریک تھے۔

اس اجلاس میں غور و خوص کے بعد گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کی ذاتی کاوشوں اور انتظامی ذمہ داران کی خصوصی گزارش کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا گیا کہ مزید 3 دنوں تک اپنا حق احتجاج اور لائحہ عمل ملتوی کیا جاتا ہے۔ اگر سانحہ ہڈور چلاس میں شہید ہونے والے شہداء بشمول اہلسنت مسلک، اسماعیلی مسلک اور نوربخشیہ مسلک کے شہداء کے قاتلوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو مرکزی انجمن امامیہ پورے گلگت بلتستان کے اندر تمام مسلمان مسالک کے تعاون سے 11 دسمبر 2023ء بروز پیر اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔

تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ بغیر رنگ و نسل، مسلک و مذہب اور تعصب کے دہشت گردی کی اس لہر کہ جس میں جب دل چاہے، راہ چلتے مسافروں کو بغیر کسی وجہ کے قتل کر دیا جائے، جس کے بعد پورا علاقہ مسلکی بنیاد پر فرقہ وارانہ جنگ کی لپیٹ میں آئے، اس سے پہلے ایک ساتھ مل کر اٹھ کھڑے ہوں۔ یاد رہے کہ سانحہ چلاس میں شہید ہونے والے دو نوجوان شہید کمال عباس اور شہید انصار علی کی نماز جنازہ کے موقع پر مرکزی انجمن امامیہ کے صدر ساجد علی بیگ نے حکومت کو جمعہ تک کا الٹی میٹم دیا تھا اور کہا تھا کہ جمعہ تک دہشتگردوں کیخلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی صورت میں پورے گلگت بلتستان کو جام کر دیا جائے گا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .