بدھ 3 جون 2026 - 13:20
پندرہ خرداد انقلاب اسلامی کا نقطۂ آغاز اور قومی بیداری کی علامت ہے، آیت اللہ اعرافی

حوزہ/ حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے 15 خرداد 1342 ہجری شمسی کی تحریک اور امام خمینیؒ کی برسی کے موقع پر اپنے تفصیلی تجزیاتی و اسٹریٹجک پیغام میں کہا ہے کہ 15 خرداد اسلامی انقلاب کی بنیاد، اسلامی بیداری کا نقطۂ آغاز اور ایران کی آزادی، خودمختاری اور اسلامی شناخت کا دن ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے 15 خرداد 1342 ہجری شمسی کی تحریک اور امام خمینیؒ کی برسی کے موقع پر اپنے تفصیلی تجزیاتی و اسٹریٹجک پیغام میں کہا ہے کہ 15 خرداد اسلامی انقلاب کی بنیاد، اسلامی بیداری کا نقطۂ آغاز اور ایران کی آزادی، خودمختاری اور اسلامی شناخت کا دن ہے۔ انہوں نے اس تحریک کو ایران کی تاریخ کا ایسا فیصلہ کن موڑ قرار دیا جس نے عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر رائج سیاسی و فکری معادلات کو تبدیل کر دیا۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ 15 خرداد ایسے دور میں رونما ہوا جب دنیا مشرق و مغرب کی دو قطبی کشمکش، مادہ پرستی اور استعماری طاقتوں کے تسلط میں جکڑی ہوئی تھی۔ اسلامی دنیا مایوسی، پسماندگی اور بیرونی دباؤ کا شکار تھی جبکہ ایران بھی پہلوی آمریت، سیاسی جبر اور قومی وسائل کی لوٹ مار کے باعث شدید بحران سے گزر رہا تھا۔ ایسے حالات میں امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھنے والی تحریک نے امید، خود اعتمادی اور مزاحمت کی نئی روح پیدا کی۔

انہوں نے اس تحریک کی نو بنیادی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی پہلی خصوصیت عالمی اور علاقائی معادلات کو بدلنے کی صلاحیت تھی۔ دوسری خصوصیت اس کا خالص اسلامی تشخص تھا جو قرآن، سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہل بیت علیہم السلام، عاشورا اور مکتبِ انتظار سے ماخوذ تھا۔ تیسری خصوصیت اسلام کی اجتہادی، عقلی اور انقلابی تعبیر تھی جسے امام خمینیؒ نے پیش کیا۔

آیت اللہ اعرافی کے مطابق چوتھی خصوصیت مرجعیت دینی اور ولایت فقیہ کا مرکزی کردار تھا، جس نے تحریک کو فکری استحکام اور مسلسل رہنمائی فراہم کی۔ پانچویں خصوصیت عوامی شرکت اور دینی جمہوریت تھی، جس میں عوام خصوصاً نوجوانوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ چھٹی خصوصیت تمدنی اور ہمہ گیر وژن تھا جو اسلامی تہذیب کی تعمیر اور امت مسلمہ کی ترقی پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ساتویں خصوصیت ایران، امت مسلمہ اور دنیا کے محروم طبقات کے لیے جامع اور بین الاقوامی نقطۂ نظر ہے، جبکہ آٹھویں خصوصیت تحریک کی پائیداری اور مسلسل ارتقا ہے، جو تمام تر دباؤ اور قربانیوں کے باوجود جاری رہی۔ نویں خصوصیت ملتِ ایران اور امام خمینیؒ کی غیر معمولی خصوصیات ہیں جنہوں نے اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

آیت اللہ اعرافی نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اسلامی انقلاب کے نظریاتی اصولوں، مزاحمتی ثقافت اور قومی خود اعتمادی کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے علمی، ثقافتی اور ابلاغی محاذوں پر فعال کردار ادا کرنے، دشمن کی فکری و میڈیا جنگ کا مقابلہ کرنے اور نوجوانوں کی فکری تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مسلم دنیا کے علماء، دانشوروں اور نوجوانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اسلام، مزاحمت اور امت مسلمہ کے بنیادی مفادات کے دفاع میں اپنا کردار ادا کریں اور خطے کے ممالک کو بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے باہمی تعاون اور اسلامی وحدت کو فروغ دینے کی تلقین کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha