حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم نکبہ 1948 (یوم المیہ، مشرق وسطیٰ میں خنجر کی طرح پیوست ناجائز صہیونی ریاست کا یوم قبضہ) سمیت خاندانوں کے عالمی دن اور عالمی امن کی طرف متوجہ کرنے بارے یکے بعددیگرے آنیوالے ایام پر جاری اپنے پیغام میں کہا: 7 دہائیاں قبل اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کو دنیا خصوصاً مشرق وسطیٰ میں خنجر کی طرح پیوست کیا گیا اور آج تک اس زہر آلود صیہونی و سامراجی و استعماری خنجر سے مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ ساتھ اس کی سازشوں کا ہمسائے اور دیگر ممالک بھی شکار ہیں۔
انہوں نے کہا: خود ناجائز ریاست کا حامی و پشتیبان سامراج بھی اس کی سازشوں سے اب محفوظ نہیں رہا اور آج ایران پر جنگ مسلط کرکے جس دلدل میں دھنس چکا ہے یہ انہی سازشوں کے نتائج ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: یوم نکبہ (یوم المیہ) ہر فلسطینی، ہر ذی شعور و درد دل رکھنے والے کے لئے تباہی، بربادی، قتل غارت گری اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی یاد تازہ کرتا ہے، ایک ایسا دن جب قابض افواج اور مسلح صیہونی جتھوں کے ذریعے لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں، ان کی زمینوں سے اور ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کر دیا اور ظلم و جبر کی وہ داستانیں آج تک رقم کی جارہی ہیں جن کی مثالیں تاریخ میں کم ہی ملتی ہیں۔
قائد ملت جعفریہ نے کہا: عراق، شام، لبنان، صومالیہ سمیت دیگر ملکوں کو بمباری کیساتھ ساتھ اندرونی سازشوں کے ذریعے بھی کمزور کرنے کی کوشش کی گئی اور اس جنگ کو برادر اسلامی ملک ایران تک پھیلانے کی نہ صرف سازش کی گئی بلکہ آج بھی یہ جنگ جاری ہے جو دراصل ناجائز ریاست اور گریٹر اسرائیل کا ہی شاخسانہ ہے جس کے سامنے ایرانی قوم رہبر شہید سمیت عظیم قربانیوں کے باوجود سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اسی طرح آج ہی 15 مئی کے دن کو یوم خاندان کے طور پر بھی منایا جاتا ہے، جو عالمی قوتوں اور سامراج کے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کے حوالے سے دوہرے معیار کا عکاس ہے، ایک طرف یوم خاندان دوسری طرف مظلوم فلسطینیوں سمیت خطے کے ممالک میں نہتے خاندانوں کو اجاڑ دیا گیا، ان پر قیامت ڈھا دی گئی، تباہی وبربادی کردی گئی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ جب تک ظالم صہیونی و سامراجی ہاتھ کو روکا نہیں جائیگا اس وقت پائیدار قیام امن قائم نہیں ہو گا۔









آپ کا تبصرہ