حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ مرکزی میں ولی فقیہ کے نمائندے آیت اللہ قربانعلی دری نجف آبادی نے ساوہ شہر کے سفر میں امامزادہ اسحاق (ع) کے روضے پر نمازگزاروں سے خطاب کیا۔ انہوں نے امام جواد (ع) کی شہادت کے موقع اور ذی الحجہ کے آخری دنوں میں اس اجتماع کو ایک قیمتی توفیق قرار دیا۔
انہوں نے صوبہ مرکزی کے عوام کے مختلف پروگراموں اور موقعوں پر بھرپور شرکت کو باشعور، ذمہ دارانہ اور خدا کی خوشنودی کے لیے قرار دیا اور اراک، ساوہ، خمین اور دلیجان شہروں میں عوام کی ہمہ جہت شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
ولی فقیہ کے نمائندے نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے خاندانوں کے لیے صحت و عافیت اور دنیا و آخرت کی سعادت کی دعا کی۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے اپنی گفتگو کا مرکزی حصہ امام جواد (ع) کی ایک روایت پر مبنی رکھا اور کہا کہ امام (ع) کے فرمان کے مطابق مومن کو تین واعظوں کی ضرورت ہوتی ہے:
· پہلا، خداوند متعال جو ہر کسی سے انسان کے زیادہ قریب اور مہربان ہے،
· دوسرا، نفس اور عمر کا موقع جو کبھی لوٹ کر نہیں آتا،
· تیسرا، وہ دلسوز اور خیرخواہ انسان جو نصیحت کرنے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان نصیحتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ کی ضرورت ہے اور انسان کو عمر کے موقع سے اپنی اصلاح کے لیے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ولی فقیہ کے نمائندے نے نہج البلاغہ کے مرتبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے ایک پائیدار خزانہ قرار دیا اور کہا کہ امیرالمومنین (ع) کے خطبات، خطوط اور مختصر اقوال کی صورت میں کلام تمام نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے حضرت علی (ع) کی ایک حدیث نقل کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بہتر دل وہ ہوتے ہیں جو کشادہ ہوں۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے حدیث "قلب المؤمن عرش الرحمن" سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کی قدر مادی ظاہری چیزوں جیسے دولت اور طاقت سے نہیں بلکہ ایمان، پرہیزگاری، ولایت کی پیروی اور باطنی طہارت پر منحصر ہے۔
آخر میں انہوں نے کینہ، ریا کاری، تکبر اور حسد جیسی اخلاقی آفات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں انسان کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں قرار دیا اور دل کی حفاظت اور اندرونی پاکیزگی پر زور دیا۔









آپ کا تبصرہ