منگل 26 مئی 2026 - 18:23
مولانا سيد ابو القاسم رضوی کی قیادت میں میدانِ عرفات میں روح پرور اجتماع

حوزہ/ میدانِ عرفات میں امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا سے آنے والے مختلف شیعہ قافلوں، مؤمنین اور علماءِ کرام نے حجۃ الإسلام والمسلمين مولانا سيد ابو القاسم رضوي کی قیادت و اقتداء میں اعمالِ عرفہ، نمازِ جماعت اور دیگر عبادات انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ انجام دیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میدانِ عرفات میں امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا سے آنے والے مختلف شیعہ قافلوں، مؤمنین اور علماءِ کرام نے حجۃ الإسلام والمسلمين مولانا سيد ابو القاسم رضوي کی قیادت و اقتداء میں اعمالِ عرفہ، نمازِ جماعت اور دیگر عبادات انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ انجام دیں۔

روحانی کیفیت سے لبریز اس عظیم اجتماع میں ہر طرف ذکرِ الٰہی، تلاوت، دعا، گریہ و مناجات کی صدائیں بلند تھیں۔ سفید احراموں میں ملبوس عاشقانِ اہلِ بیتؑ اس منظر کی عکاسی کررہے تھے کہ عرفات وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی تمام ظاہری شناختوں کو بھلا کر صرف اپنے رب کے حضور حاضر ہوجاتا ہے۔

میدانِ عرفات دراصل معرفتِ الٰہی کی منزل ہے

یہ وہ مقدس سرزمین ہے جہاں بندہ اپنے رب کو پہچاننے، اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور سچی توبہ کے ذریعے نئی روحانی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ دن ہے جس کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عبادت گزار بندوں پر فرشتوں کے درمیان فخر فرماتا ہے۔

مولانا سید ابو القاسم رضوی نے اپنے پُرمعرفت اور روح پرور خطاب میں عرفات کی حقیقت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ عرفات صرف حج کا ایک رکن نہیں بلکہ بندے اور خدا کے درمیان معرفت، محبت اور قربت کا سب سے عظیم لمحہ ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ نے کہا: “عَرَفْتُ رَبِّي” “میں نے اپنے رب کو پہچان لیا۔” مولانا نے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے فرمان “مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ” کی روشنی میں وضاحت کی کہ عرفات انسان کو اپنے باطن کی طرف متوجہ کرتا ہے، تاکہ وہ اپنی حقیقت کو پہچان کر اپنے رب کی معرفت حاصل کرسکے۔

خطاب کے دوران امام حسینؑ کی دعائے عرفہ کے جملوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا کی آواز رقت سے بھر گئی، خصوصاً جب آپ نے یہ جملہ پڑھا: “جس نے تجھے پا لیا اُس نے کیا کھویا، اور جس نے تجھے کھو دیا اُس نے کیا پایا۔” تو حاضرین پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ آنکھیں اشکبار تھیں، دل نرم ہوچکے تھے اور ہر طرف گریہ و مناجات کا ماحول تھا۔

بعد ازاں مولانا سید ابو القاسم رضوی نے انتہائی سوز و گداز کے ساتھ دعائے عرفہ پڑھائی۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے عرفات کی فضائیں دعا، توبہ اور رحمتِ خدا کے نور سے بھر گئی ہوں۔ مؤمنین ہاتھ بلند کئے، آنسو بہاتے ہوئے اپنے رب سے مغفرت، ہدایت اور قربِ اہلِ بیتؑ کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ دعائے عرفہ کے بعد زیارتِ امام حسینؑ پیش کی گئی اور پھر حضرت مسلم بن عقیلؑ کی شہادت کی مجلس منعقد ہوئی۔

مولانا نے حضرت مسلمؑ کی وفاداری، غربت اور مظلومیت کو اس انداز سے بیان کیا کہ پورا مجمع غم و رقت میں ڈوب گیا۔ عرفات کی سرزمین پر اہلِ بیتؑ کی محبت، یادِ خدا اور بندگی کا ایسا روح پرور منظر قائم تھا جو ہر دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ بلاشبہ عرفات بندگی، معرفت، توبہ اور عشقِ الٰہی کا عظیم ترین اجتماع ہے، اور یہی حج کی حقیقی روح اور عیدِ اکبر کا اصل پیغام ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha