حوزہ نیوز ایجنسی: واقعۂ عاشورا تاریخِ اسلام کا ایسا باب ہے جس کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ اس میں فرزندِ رسولؐ حضرت امام حسینؑ نے راہِ خدا میں اپنی جان قربان کی، بلکہ اس کی عظمت اس حقیقت میں بھی مضمر ہے کہ اس نے ظلم و عدوان کے حقیقی چہرے کو ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا۔ کربلا کی سرزمین پر تلواروں کا معرکہ شام تک قید و اسارت کی صورت میں جاری رہا، اور یہی اسارت درحقیقت عاشورا کے پیغام کی محافظ بن گئی۔ اگر زینبِ کبریٰؑ اور امام زین العابدینؑ نے اپنے خطبات سے یزیدیت کی بنیادیں ہلا دیں، تو اہلِ بیتؑ کے ننھے بچوں نے اپنی مظلومیت کے ذریعے انسانیت کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے بیدار کر دیا۔
ان معصوم ہستیوں میں حضرت رقیہؑ بنت الحسینؑ کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ آپؑ کی مختصر زندگی، اپنے والد حضرت امام حسینؑ سے بے مثال محبت، شام کے زندان میں مصائب کی شدت اور مظلومانہ شہادت نے اہلِ بیتؑ کے غم کو ایک ایسا لازوال عنوان عطا کیا ہے جو ہر دور میں اہلِ ایمان کے دلوں کو متاثر کرتا ہے۔ حضرت رقیہؑ کی یاد صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف احتجاج، ولایت سے وفاداری اور عشقِ حسینی کی ایک زندہ علامت ہے۔
البتہ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت رقیہؑ کے تاریخی تذکرے کے بارے میں موجود اختلافات کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ بعض ابتدائی تاریخی مصادر میں امام حسینؑ کی صاحبزادیوں کے ناموں میں "رقیہ" کا صریح ذکر نہیں ملتا، جبکہ متعدد متأخر شیعہ مصادر شام کے زندان میں شہید ہونے والی کم سن دخترِ امام حسینؑ کو حضرت رقیہؑ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ شیعہ علماء کی ایک بڑی تعداد نے اس روایت کو قبول کیا ہے اور صدیوں سے یہ واقعہ مجالس، مقاتل اور دینی ادب کا حصہ چلا آ رہا ہے۔ لہٰذا ایک محقق کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو امانت داری سے بیان کرے اور پھر مستند شیعہ مآخذ کی روشنی میں اس روایت کا مطالعہ پیش کرے۔
حضرت رقیہؑ کے تذکرے کا قدیم ترین معروف شیعہ ماخذ کامل بہائی ہے، جسے عماد الدین حسن بن علی طبری نے تحریر کیا۔ اس کے بعد سید ابن طاؤوس کی اللہوف علی قتلی الطفوف، ابن نما حلی کی مثیر الأحزان، شیخ عباس قمی کی نفس المهموم اور علامہ محمد باقر مجلسی کی بحار الأنوار نے اہلِ بیتؑ کے مصائب کے ضمن میں اس واقعے کو محفوظ کیا۔ اگرچہ ان روایات کی تاریخی اسناد پر اہلِ تحقیق نے گفتگو کی ہے، تاہم ان کا معنوی اور تربیتی اثر اس قدر گہرا ہے کہ حضرت رقیہؑ کی شخصیت آج اہلِ بیتؑ کی مظلومیت کی ایک دائمی علامت بن چکی ہے۔
حضرت رقیہؑ کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو اپنے والد حضرت امام حسینؑ سے ان کی بے مثال محبت ہے۔ اسلام نے باپ اور اولاد کے تعلق کو رحمتِ الٰہی قرار دیا ہے، لیکن اہلِ بیتؑ کے گھرانے میں یہ تعلق ایمان، ولایت اور روحانی تربیت سے بھی آراستہ تھا۔ امام حسینؑ اپنی اولاد سے بے حد شفقت فرماتے تھے۔ آپؑ سے منسوب مشہور شعر اس محبت کی بہترین ترجمانی کرتا ہے:
«لَعَمْرُكَ إِنَّنِي لَأُحِبُّ دَارًا
تَكُونُ بِهَا سُكَيْنَةُ وَالرُّبَابُ»
"خدا کی قسم! مجھے وہ گھر بہت محبوب ہے جس میں سکینہ اور رباب موجود ہوں۔"
یہ شعر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ امام حسینؑ کی نگاہ میں اہلِ خانہ صرف خاندانی تعلق نہیں تھے بلکہ دل کا سکون اور اللہ کی امانت تھے۔ یہی محبت عاشورا کے بعد حضرت رقیہؑ کی ہر آہ، ہر اشک اور ہر صدا میں نمایاں نظر آتی ہے۔
عاشورا کے دن حضرت رقیہؑ نے اپنی کم سنی کے باوجود وہ مناظر دیکھے جنہیں دیکھ کر بڑے بڑے دل لرز جاتے ہیں۔ ایک طرف اپنے عزیزوں کی شہادت، دوسری طرف خیموں کا جلایا جانا، پھر اسیری، بے وطنی، پیاس، بھوک اور مسلسل سفر—یہ تمام مصائب ایک معصوم بچی پر گزرے۔ اس کے باوجود اہلِ بیتؑ کے بچوں نے صبر و استقامت کا ایسا نمونہ پیش کیا جو تاریخِ انسانیت میں اپنی مثال آپ ہے۔
شام کے زندان میں حضرت رقیہؑ کی شہادت اہلِ بیتؑ کے مصائب کا نہایت دردناک باب ہے۔ شیعہ مقاتل کے مطابق ایک رات آپؑ خواب سے بیدار ہوئیں اور اپنے بابا کو یاد کرتے ہوئے بے اختیار رونے لگیں۔ جب آپؑ نے بار بار اپنے والد کے بارے میں پوچھا تو یزید نے قساوت کی انتہا کرتے ہوئے امام حسینؑ کا سرِ اقدس ایک طشت میں رکھ کر زندان بھیجنے کا حکم دیا۔ حضرت رقیہؑ نے جب اپنے بابا کا نورانی چہرہ دیکھا تو اسے اپنے سینے سے لگا لیا، پیشانی کو بوسہ دیا اور درد و الم سے لبریز کلمات ادا کیے۔ روایت کے مطابق اسی غم کی شدت میں آپؑ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔
یہ واقعہ صرف ایک معصوم بچی کی وفات کی داستان نہیں، بلکہ یزیدی ظلم کی ایسی تصویر ہے جس نے ہر دور کے انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اقتدار کی ہوس انسان کو کس قدر بے رحم بنا سکتی ہے۔ دوسری طرف حضرت رقیہؑ نے اپنی مختصر زندگی سے یہ ثابت کیا کہ حق سے وابستگی عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔ ایک کم سن بچی بھی اپنے صبر، وفاداری اور عشقِ ولایت کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ