حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیه کی سپریم کونسل اور مجلس خبرگان کی اعلی کونسل کے رکن آیت اللہ محسن اراکی نے ایک اہم پیغام میں صیہونی-امریکی دشمن کے مقابلے میں استقامت کو واجب قرار دیا اور کہا: خطے کے آزاد لوگوں پر واجب ہے کہ وہ صیہونی-امریکی دشمن کے طغیان کے سامنے خاموش نہ رہیں، خاص طور پر اس کے بعد کہ اس دشمن نے سب سے بڑی اسلامی طاقت اور دینی شخصیت یعنی امت کے رہبر اور عظیم شہید امام علی خامنہ ای (قدس اللہ سرہ) پر حملہ کیا۔
انہوں نے اس اہم نکتے پر زور دیا کہ خطے کی قوموں کے درمیان مقاومتی جذبے کو کمزور کرنے والا کوئی بھی اقدام شرعی طور پر حرام ہے۔ بلاشبہ، مقاومتی قوتوں کو غیر مسلح کرنا، مزاحمت کو کمزور کرنے اور مستکبرین اور جنگی کافروں خاص طور پر صیہونی-امریکی استکبار کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔
ایسے حالات میں جب صہیونیت اور امریکہ کا تسلط سقوط کر رہا ہے، امریکی استکبار نے عراق اور لبنان میں غیور مجاہدین کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک سازش شروع کر دی ہے تاکہ اس کے ذریعے، پہلے مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرے اور پھر خطے کے لوگوں کے عزت اور آزادی کے جذبے کو توڑ کر، استعمار کے ان تمام سرزمینوں پر مکمل تسلط کے لیے راستہ ہموار کر سکے۔ اسی بنا پر، ہم درج ذیل نکات کا اعلان کرتے ہیں:
پہلا:
خطے کی قوموں کے درمیان مقاومتی جذبے کو کمزور کرنے والا کوئی بھی اقدام شرعی طور پر حرام ہے۔ بلاشبہ، مقاومتی قوتوں کو غیر مسلح کرنا، مزاحمت کو کمزور کرنے اور مستکبرین اور جنگی کافروں خاص طور پر صیہونی-امریکی استکبار کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔
دوسرا:
خطے کے آزاد لوگوں پر واجب ہے کہ وہ صیہونی-امریکی دشمن کے طغیان کے سامنے خاموش نہ رہیں، خاص طور پر اس کے بعد کہ اس دشمن نے سب سے بڑی اسلامی طاقت اور دینی شخصیت یعنی امت کے رہبر اور عظیم شہید امام سید علی خامنہ ای (قدس اللہ سرہ) پر حملہ کیا۔
تیسرا:
دشمن امریکہ ایک جنگی کافر ہے اور اس کے ساتھ پوری طاقت سے جہاد کرنا ہر اس آزاد مومن پر واجب ہے جو اسلام کے احکام پر ایمان رکھتا ہے۔ امریکہ کے مفادات پر حملہ کرنا جہاں کہیں بھی ہو، اور ان لوگوں کا مقابلہ کرنا جو امریکی طاقت کی خدمت میں ہیں، ہر اس شخص کے لیے جو اس کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک شرعی واجب ہے۔
والحمد للہ و السلام علی عبادہ الذین اصطفی
محسن اراکی
20 خرداد 1405 / 10 جون 2026ء









آپ کا تبصرہ